بی جے پی کی اوچھی حرکتیں: جھارکھنڈ میں احتجاج کے دوران اسٹوڈنٹ لیڈر نیہا بورا پر سیاہی پھینک دی گئی

اتوار 9 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں جمعہ کے روز ریاستی اسمبلی کی جانب احتجاجی مارچ کے دوران آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا پر سیاہی پھینک دی گئی۔ احتجاج ریاست میں بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کیا جارہا تھا۔

پولیس کے مطابق سیاہی پھینکنے والے شخص کی شناخت امر ناتھ پانڈے کے نام سے ہوئی ہے، جسے حراست میں لے کر دھرووا پولیس اسٹیشن میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال اس کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی کیونکہ کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔

ہٹیا کے ڈی ایس پی نیرج کمار نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ امر ناتھ پانڈے کو شناخت کرلیا گیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ ان کے مطابق رسمی شکایت موصول نہ ہونے کے باعث ابھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

یہ واقعہ برسا چوک کے قریب اس وقت پیش آیا جب بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں AISA اور AISF کے کارکن اور دیگر مظاہرین اسمبلی کی جانب مارچ کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے جھارکھنڈ پیپر لیک اسکینڈل: حکومت پردہ پوشی کرتی رہی، طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا

نیہا بورا نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاہی پھینکے جانے سے خوفزدہ نہیں ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہلی میں احتجاج کے دوران وہ پیلٹ گن کی فائرنگ اور پولیس کے لاٹھی چارج کا سامنا کرچکی ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سیاہی پھینکنے سے ملک بھر کے طلبہ اور نوجوانوں کے غصے کو دبایا جاسکتا ہے۔

ایک  اور اسٹوڈنٹ لیڈر شیوانی نے کہا کہ مظاہرین پرامن مارچ کررہے تھے کہ اچانک ایک شخص ہجوم سے نکلا اور نیہا بورا پر سیاہی پھینک دی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ شخص کو بی جے پی کی پشت پناہی حاصل ہے۔

حراست میں لیے گئے شخص نے میڈیا سے گفتگو میں نیہا بورا پر الزام لگایا کہ وہ عمر خالد کی حامی ہیں اور اسی وجہ سے وہ انہیں پسند نہیں کرتا۔ اس نے نیہا بورا کو ’ملک دشمن‘ بھی قرار دیا۔

واضح رہے کہ کارکن عمر خالد کو ستمبر 2020 میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر فروری 2020 میں دہلی میں ہونے والے فسادات کے مبینہ منصوبہ سازوں میں شامل ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا، جن میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

سیاسی ردعمل

سیاہی پھینکے جانے کے واقعے کے بعد نیہا بورا نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ عناصر طلبہ تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دائیں بازو اور بی جے پی کے ارکان، جو جے پال سنگھ اسٹیڈیم سے طلبہ تحریک چلانے کا دعویٰ کرتے ہیں، انہیں بتانا چاہیے کہ جب طلبہ کے مطالبات کے حق میں پرامن احتجاجی مارچ کیا جارہا تھا تو تشدد کا سہارا لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

بورا نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ انہیں دہلی کی طلبہ تحریک میں شرکت کے بدلے انتقامی کارروائی کے طور پر پیش آیا، جس کے نتیجے میں ان کے دعوے کے مطابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

نیہا بورا نے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران مبینہ طور پر 23 روزہ بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے میڈیکل انٹری ٹیسٹ پیپر لیک اسکینڈل، بھارت میں کم از کم 20 طلبہ کی خودکشی

دوسری جانب بی جے پی ترجمان پرتل شاہ دیو نے واقعے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی احتجاج کے دوران اس طرح کی کسی سرگرمی کی حمایت نہیں کرتی۔ تاہم ان کے بقول بادی النظر میں یہ واقعہ ایک ’پہلے سے طے شدہ ڈراما‘ معلوم ہوتا ہے، کیونکہ AISA کی بنیادی تنظیم حکمران اتحاد کا حصہ ہے اور نہا بورا کے گرد خود مظاہرین سے زیادہ سیکیورٹی اہلکار موجود تھے۔

دوسری جانب CPI (ML) لبریشن کے ریاستی سیکریٹری منوج بھکت نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی سے وابستہ افراد نے AISA کی قومی صدر پر حملے کی کوشش کی اور ان پر سیاہی پھینکی۔ انہوں نے جھارکھنڈ پولیس سے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

طلبہ کا احتجاج جاری

جھارکھنڈ میں بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج جمعہ کو 14ویں روز میں داخل ہوگیا۔ احتجاج کے دوران 6 مظاہرین غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت سے بارہا اپیلوں کے باوجود ان کے مطالبات پر کوئی ٹھوس پیشرفت نہ ہونے کے بعد انہیں احتجاج کا یہ سخت طریقہ اختیار کرنا پڑا۔

منگل کی شب مزید 5مظاہرین، جن میں 2خواتین بھی شامل ہیں، جھارکھنڈ لوک تانترک کرانتی کاری مورچہ (JLKM) کے رہنما دیویندر ناتھ مہتو کی بھوک ہڑتال میں شامل ہوگئے۔ مہتو اس وقت 6روز سے بھوک ہڑتال پر تھے۔

احتجاجی طلبہ نے جمعرات کو حکومت سے مذاکرات کے لیے 11 رکنی وفد بھی تشکیل دیا تھا۔ یہ پیشرفت وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کے اس بیان کے بعد ہوئی کہ ان کی حکومت مذاکرات کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے گی۔

تاہم حکومت اور مظاہرین کے درمیان تعطل برقرار ہے۔ طلبہ اور ملازمت کے امیدواروں کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے مطالبات پر بات چیت اور مسئلے کے حل کے لیے انہیں تاحال کوئی باضابطہ دعوت موصول نہیں ہوئی۔

یہ احتجاج 25 جولائی کو جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں JPSC-JSSC Reforms Manch کے زیر اہتمام شروع ہوا تھا اور حالیہ برسوں میں ریاست میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بڑی تحریکوں میں شمار کیا جارہا ہے۔

نیہا بورا نے کہا ہے کہ AISA کے ارکان 10 اگست کو جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں ہونے والے احتجاج میں بھی شرکت کریں گے۔ انہوں نے جھارکھنڈ حکومت پر زور دیا کہ وہ طلبہ کے مطالبات فوری طور پر حل کرے، مظاہرین سے مذاکرات کرے اور بھوک ہڑتال کرنے والے طلبہ کی صحت اور طبی ضروریات کو یقینی بنائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اوپن اے آئی نے نئے ماڈل پر سیکیورٹی پابندیاں سخت کردیں، خودکار سائبر حملوں کا خدشہ

روس، پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مال بردار ریل سروس شروع کرنے پر کام جاری

روبوٹ کتے چاند پر پہرہ دیں گے، چین نے مستقبل کے قمری اڈوں کا منصوبہ پیش کردیا

وزیر خزانہ سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، دوطرفہ اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

جنوبی کوریا: آنکھیں کھلتے ہی بچوں کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس کھلنے لگے، یہ رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

ویڈیو

مسلم لیگ ن کو الٹی گنتی کی دھمکی دینے والی پیپلز پارٹی اب کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کرے گی؟

آزاد کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ، پونچھ ڈویژن کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

جشن آزادی پر قومی جذبے کا منفرد اظہار، معروف ایتھلیٹ جمال سید کی ’کے ٹو‘ سے اسکردو تک دوڑ

کالم / تجزیہ

حویلی آزاد کشمیر میں لگنے والے نعرے

سب گل سڑ چکا ہے

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ