پیٹرول کی عالمی قیمتیں برقرار رہیں تو اگلے 2 روز میں اچھی خبر مل سکتی ہے، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک

اتوار 9 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی سے منسلک ہیں، عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی آتے ہی اس کا فائدہ پاکستانی عوام کو بھی منتقل کیا جائے گا، آئندہ 2 روز میں عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو اچھی خبر خود بخود سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے مکمل شفافیت یقینی بنائے گی اور درآمدی توانائی کی تمام لاگت اوگرا کی ویب سائٹ پر عوام کے سامنے رکھی جائے گی۔

سلامت پورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قوم کو 79ویں یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 14 اگست کو ہمیں اس عزم کا اظہار کرنا ہے کہ سب مل کر پاکستان میں نئی خوشحالی کا دور شروع کریں گے۔ ہم سب نے مل کر ملک کو علامہ اقبال اور قائداعظم کا پاکستان بنانا ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ نواز شریف نے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کاوشوں سے مکہ معاہدہ ہوا جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ حکومت کی حکمت عملی اور مضبوط فوج کے باعث پاکستان کی ترقی کے لیے نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت قوم سے وعدہ کرتی ہے کہ اگلی منزل معاشی میدان میں ترقی ہے اور اس مقصد کے لیے بھرپور کاوشیں جاری ہیں۔ پاکستان نیٹ سکیورٹی مہیا کرنے والا ملک ہے جو خطے میں امن اور تحفظ کا ضامن ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے نکالا، اب حکومت کا کام ملک کو مستقل ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گی، علی پرویز ملک

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایران اور امریکا کی جنگ کے باعث پاکستان کو وقتی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دنیا میں خام تیل کی قیمت 170 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، تاہم پاکستان میں پیٹرول کی قلت پیدا نہیں ہونے دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک، جن کی معیشت پاکستان سے ملتی جلتی ہے، وہاں شناختی کارڈ دیکھ کر ایک سے دو لیٹر پیٹرول لینے کے لیے بھی ہلاکتیں ہوئیں، لیکن پاکستان میں ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئیں، تاہم جنگ بندی کے بعد عالمی سطح پر قیمتوں میں آنے والی کمی کا فائدہ حکومت نے عوام تک پہنچایا۔ ٹرانسپورٹ ہو یا موٹرسائیکل استعمال کرنے والے شہری، بڑھتی قیمتوں کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام کے ہوتے ہوئے بھی عوام کو سبسڈی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ بین الاقوامی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک شفاف طریقے سے عوام کے سامنے رکھی جائیں گی۔ حکومت بیرون ملک سے جو توانائی درآمد کرتی ہے اس کی تمام لاگت اور نرخ اوگرا کے ویب پیج پر شائع کیے جائیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ کوئی جادوگر یا نجومی نہیں کہ مستقبل کی قیمتوں کی پیشگوئی کرسکیں، تاہم اوگرا کی ویب سائٹ پر تمام تفصیلات عوام کے سامنے ہوں گی۔ پیٹرول کی عالمی قیمت جیسے ہی کم ہوگی، پاکستان میں بھی پیٹرول کی قیمت کم ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم قیمتوں میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے پرعزم ہیں، علی پرویز ملک

انہوں نے وضاحت کی کہ پیٹرول کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ 7 دن کے تناسب سے طے کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی منڈی میں ایک دن میں 20، 20 ڈالر تک قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آ رہا ہو تو اس کے اثرات برداشت کرنا ہوں گے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے۔ سابق حکومتوں نے مقامی گیس اور تیل کے ذخائر کی دریافت کے لیے خاطر خواہ انتظام نہیں کیا، جس کے باعث آج ہمیں بیرون ملک سے توانائی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان، وزیرستان اور دیگر علاقوں میں گیس جبکہ بعض علاقوں میں تیل کے ذخائر موجود ہیں، سوال یہ ہے کہ ان وسائل سے ماضی میں خاطر خواہ فائدہ کیوں نہیں اٹھایا گیا۔ پاکستان میں تیل کی یومیہ طلب تقریباً 5 لاکھ بیرل ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومتوں میں پیٹرولیم لیوی تو اکٹھی ہوتی رہی لیکن تیل کے ذخائر نہیں بنائے گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گڈ میکینزی کمپنی کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ 3 ماہ میں بتائے کہ پاکستان 90 روز تک کا پیٹرولیم ذخیرہ کس طرح قائم کرسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی خبر جلد آنے والی ہے، وفاقی وزیر علی پرویز ملک

انہوں نے کہا کہ ایک ماہ کے تیل کے ذخیرے کے لیے تقریباً 500 ملین ڈالر درکار ہوں گے، جبکہ زیر زمین اسٹوریج کا نظام قائم کرنے پر تقریباً 400 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔ پاکستان میں یہ بحث شروع ہونی چاہیے کہ تیل ذخیرہ کرنے کے لیے سرمایہ کاری کس طرح کی جائے۔

علی پرویز ملک کے مطابق حکومت آئندہ چند ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کی منصوبہ بندی سے آگاہ کرے گی۔ سعودی عرب، کویت اور قطر کی حکومتوں کے ساتھ مل کر پاکستان کی محفوظ سرحدوں پر تیل ذخیرہ کرنے اور ضرورت کے وقت دنیا سے وسائل خریدنے کی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں جنگی صورتحال پیدا ہوئی تو پاکستان کے پاس وسائل خرید کر اپنی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ پاکستان ایران اور روس سے سستا یا کڑوا تیل لے کر اپنی توانائی کی ضرورت پوری کیوں نہیں کرتا، لیکن اس کے لیے ملک میں ریفائنریوں کو جدید بنانے اور کڑوے تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے تقریباً 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔ جب تک ریفائنری پالیسی اور ضروری سرمایہ کاری نہیں ہوگی، ایران یا روس سے تیل لا کر اسے ملکی ریفائنریوں میں صاف کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ دنیا سے سرمایہ لاکر پاکستان کی ریفائنریوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ کڑوے تیل کو صاف کرسکیں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ اگر پاکستان نے 1500 ارب روپے کے واجبات ادا نہ کیے ہوں تو کوئی نئی کمپنی ملک میں سرمایہ کاری کیوں کرے گی۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ایک سال کے دوران گردشی قرضے کے بہاؤ کو روک دیا ہے اور اس سال 30 جون کو گردشی قرضے میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران سے سستا تیل اور گیس درآمد کرنے پر غور کر رہے ہیں، وفاقی وزیر پیٹرولیم

انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمت گزشتہ ایک سال سے پرانی سطح پر ہے، جبکہ اصلاحات کے ذریعے گردشی قرضے کے مسئلے کو حل کرنے اور آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر 1500 ارب روپے کی ادائیگی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ ترکیہ کی کمپنیوں نے پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے۔ تقریباً 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے لیے ترکیہ سے سمندری جہاز پاکستان لایا جائے گا اور ستمبر یا اکتوبر میں آف شور ڈرلنگ کا افتتاح کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر متعدد کمپنیاں تیل اور گیس کے نئے کنویں کھودنے کے لیے کوششیں کررہی ہیں اور حکومت ملکی توانائی کے وسائل کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران مقامی ایل پی جی 200 روپے سے بڑھ کر 600 روپے تک عوام کو فروخت کی گئی۔ سوال یہ ہے کہ عوام کی اس تکلیف سے کون لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور عوام کا خون کون چوس رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کے شعبے میں ایلیٹ اور اشرافیہ کے گٹھ جوڑ کو توڑنے کے لیے پانچ، پانچ ٹن ایل پی جی کی نیلامی کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پیر کو او جی ڈی سی ایل، آئل، پارکو اور جی ایچ پی ایل پانچ، پانچ ٹن ایل پی جی کی نیلامی کھولیں گے تاکہ اس مافیا اور اجارہ داری کے نظام کو ختم کیا جاسکے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ گیس کے شعبے میں نئے کنکشن موجودہ حکومت نے شروع کیے ہیں، تاہم قطر سے ایل این جی کی فراہمی شروع ہونے کے بعد مزید گیس کنکشن کھولنے پر پیشرفت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگست میں ورلڈ بینک کی گیس سے متعلق سفارشات سامنے آئیں گی، جن کی روشنی میں عوام کو سستی گیس فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ بجلی کے شعبے کو تحفظ دینے کے لیے گیس کا رخ بجلی کی پیداوار کی طرف کیا گیا ہے، تاہم قطر سے گیس کی فراہمی بحال ہوتے ہی گیس کنکشن کی پالیسی پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی سے متعلق پیٹرول ڈیلرز کے مطالبات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیلرز اور او ایم سیز کے جو جائز مطالبات ہیں انہیں تسلیم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مشکل گھڑی میں عوام کی سہولت کو مقدم رکھنا چاہتی ہے۔ پیٹرول ڈیلرز نے پاکستان کو ایک بڑے بحران سے نکالنے میں کردار ادا کیا ہے، انہیں بھی کچھ تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:کویت کے تعاون سے 45 ہزار ٹن ڈیزل پاکستان پہنچ گیا، علی پرویز ملک کا اظہارِ تشکر

علی پرویز ملک نے بتایا کہ کمرشل بانڈز اسکیم معاشی کمیٹی کے پاس جاچکی ہے اور آئندہ ہفتے اس پر فیصلہ ہوگا، جس کے بعد اس معاملے میں مزید پیش رفت نظر آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں شفافیت لانے کے لیے اوگرا کو تحفظ دے گی اور ادارے کو مؤثر انداز میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 2022 میں ایک وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمت کم کرکے تالیاں تو بجوائیں لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان گھٹنوں پر آگیا۔ بعد ازاں بحرانی صورتحال میں پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا اور ملک کو دوبارہ مستحکم کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ خسارے پر قابو پانے اور مالی نظم و ضبط کے لیے وزارت خزانہ کے ذریعے معاہدے کیے ہیں۔ اگر ان معاہدوں کی پاسداری نہیں کی جائے گی تو یہ پاگل پن ہوگا اور نتائج بھی سابق دور جیسے ہی ہوں گے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ جب تک متبادل توانائی کے وسائل کا انتظام نہیں کیا جائے گا، غیر ذمہ دارانہ فیصلوں کے نتیجے میں دوبارہ وہی صورتحال پیدا ہوگی جس میں نوٹ چھاپ کر اخراجات پورے کرنے پڑتے ہیں اور اس کی قیمت عوام مہنگائی کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے معاہدوں کی پاسداری یقینی بنائی اور عوام کو سہولت دینے کے لیے عالمی حالات کے باوجود اقدامات کیے۔

وفاقی وزیر نے ملک میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر کہا کہ اس معاملے پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق کوئی ایک فارمولا لازماً دوسرے سے بہتر یا بدتر نہیں ہوتا، اس حوالے سے اسمبلیوں میں بحث ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام یا آئین میں کسی بھی ترمیم کے لیے آئینی راستہ اور باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب عوام مشکلات کا شکار ہیں تو اس معاملے پر بحث ضرور ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے سعودی سفیر کی ملاقات، پیٹرولیم شعبے میں جاری تعاون کا جائزہ

علی پرویز ملک نے کہا کہ شخصیات کی قوموں کی تاریخ میں کوئی مستقل اہمیت نہیں ہوتی، اصل اہمیت ملک اور قوم کی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے عہدے سے جانے سے پاکستان کے مسائل حل ہوتے ہیں تو وہ سو بار جانے کو تیار ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اصل مقصد عوام کی زندگی میں بہتری لانا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی سمیت تمام قابل عمل راستوں پر غور ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کے وسائل کو بروئے کار لانے، ملک میں سرمایہ کاری لانے، مقامی تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے پاکستان کو معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، تہران کے مطالبات رکاوٹ بن گئے، وال اسٹریٹ جرنل

نیتن یاہو نے ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ مسترد کردیا، حماس کو غیر مسلح کرنے تک اسرائیلی فوج واپس نہیں ہوگی

ملک کے بیشتر علاقوں میں آج موسم گرم اور مرطوب، چند مقامات پر بارش کا امکان

پاکستان اور امریکا کے تعلقات کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر ہیں، سفیر رضوان سعید شیخ

آزاد کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ: پونچھ ڈویژن کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

ویڈیو

آزاد کشمیر میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ: پونچھ ڈویژن کے 4 حلقوں میں پولنگ جاری، سیکیورٹی کے سخت انتظامات

جشن آزادی پر قومی جذبے کا منفرد اظہار، معروف ایتھلیٹ جمال سید کی ’کے ٹو‘ سے اسکردو تک دوڑ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روز بدلنے سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

سب گل سڑ چکا ہے

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار