پاکستان کے نامور ایتھلیٹ جمال سید نے کے ٹو بیس کیمپ سے اسکردو تک رننگ کرکے ایک منفرد اور غیر معمولی کارنامہ انجام دے دیا۔ دنیا کے بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی خطوں میں شمار ہونے والے علاقے سے اسکردو تک دوڑ کا یہ چیلنج نہ صرف جسمانی طاقت بلکہ غیر معمولی عزم، حوصلے اور ذہنی مضبوطی کا بھی امتحان تھا، جسے جمال سید نے کامیابی سے مکمل کیا۔
انتہائی بلند پہاڑی مقام سے سفر کا آغاز کرتے ہوئے جمال سید کو راستے کی دشواری، بلندی، بدلتے موسم اور جسمانی تھکن سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے عزم و ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوڑ کے ذریعے یہ فاصلہ طے کیا۔
بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی اور کامیابیاں حاصل کرنے والے جمال سید کے اس کارنامے کو یوم آزادی پاکستان کے موقع پر قومی جذبے سے بھی جوڑا گیا ہے۔
ان کی یہ کاوش نہ صرف کھیلوں کے میدان میں ایک غیر معمولی مثال ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے عزم، محنت اور ناممکن دکھائی دینے والے اہداف کو حاصل کرنے کا پیغام بھی رکھتی ہے۔
کے ٹو کے دامن سے اسکردو تک یہ دوڑ پاکستان کے بلند ترین پہاڑی خطے کی خوبصورتی، کھیلوں کی طاقت اور قومی جذبے کو یکجا کرتی نظر آتی ہے۔
جمال سید نے اپنے اس منفرد سفر کے ذریعے ثابت کیا کہ بلند راستے اور سخت حالات بھی مضبوط ارادے رکھنے والوں کے عزم کو شکست نہیں دے سکتے۔
جشن آزادی پاکستان کے موقع پر جمال سید کی یہ کاوش پاکستان کے لیے محبت اور فخر کے جذبے کو کھیل کے ذریعے اجاگر کرنے کی ایک خوبصورت مثال بن گئی ہے۔













