پاکستان کے معروف گلوکار عاطف اسلم نے اپنی بے مثال شہرت، کامیابی اور موسیقی چھوڑنے کے حوالے سے اہم گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی موسیقی کو خیرباد کہنے کا نہیں سوچا تاہم ایک فنکار کی زندگی میں تخلیقی رکاوٹ کا مرحلہ ضرور آتا ہے۔
عاطف اسلم کا شمار پاکستان کے مقبول ترین گلوکاروں میں ہوتا ہے اور ان کی آواز کے مداح دنیا بھر میں موجود ہیں۔ ’عادت‘، ’کچھ اس طرح‘، ’بہ خدا‘ اور ’دل دیاں گلاں‘ سمیت متعدد مقبول گانوں کے ذریعے انہوں نے موسیقی کی دنیا میں اپنی منفرد پہچان بنائی۔
عاطف اسلم حال ہی میں ایک انٹرویو میں اپنی کامیابی، شہرت اور موسیقی کے مستقبل سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی۔
اپنی غیر معمولی شہرت کے بارے میں بات کرتے ہوئے عاطف اسلم نے کہا کہ انہیں خود بھی کبھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس مقام تک کیسے پہنچے۔ ان کے مطابق ایک گانے کی کامیابی کے بعد انہیں اگلے گانے کی فکر لاحق ہوجاتی تھی جبکہ دوسرے گانے کے بعد بھی انہیں محسوس ہوتا تھا کہ شاید لوگ انہیں پسند نہیں کر رہے۔
یہ بھی پڑھیں: 18 سال بعد عاطف اسلم کا نیا میوزک البم ’صبح آئے نا‘ ریلیز کرنے کا اعلان
گلوکار نے کہا کہ البم کی کامیابی کے بعد ان پر ذمہ داری کا احساس مزید بڑھ گیا اور چیزیں چیلنجنگ ہوتی گئیں جبکہ بالی ووڈ میں کام نے بھی ان کی شہرت میں مزید اضافہ کیا۔
عاطف اسلم نے اپنی کامیابی کو صرف محنت کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے اسے اللہ کی مرضی سے تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ جسے جہاں لے جانا چاہتا ہے لے جاتا ہے، یہی شہرت اور کامیابی کی حقیقت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیفے میں نماز ادا کرتے عاطف اسلم کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
موسیقی چھوڑنے سے متعلق سوال پر عاطف اسلم نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی موسیقی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا نہیں سوچا۔
انہوں نے کہا کہ ایک فنکار کو بعض اوقات تخلیقی رکاوٹ (Creative Block) کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ خود کو خالی محسوس کرتا ہے اور کچھ تخلیق یا لکھ نہیں پاتا۔ ان کے مطابق فنکار کے لیے اس مرحلے سے گزرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عاطف اسلم کے مداحوں کے لیے اسپاٹیفائی کا نیا فیچر، جانیں آپ کون سے ‘عادیز’ ہیں؟
عاطف اسلم نے مزید کہا کہ تخلیقی رکاوٹ کے بعد ایک ایسا وقت بھی آتا ہے جب انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا دامن بھر چکا ہے، تب وہ خاموشی سے بیٹھ کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اس کیفیت سے لطف اندوز ہوتا ہے۔














