اسلام آباد کی حکومت بھی ہٹنے والی ہے، الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، یہ جملہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہی، گویا انہوں نے حکومت کے مستقبل پر بڑا سوال اٹھا دیا۔ کاغان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا تھا کہ ن لیگ کو غلط فہمی ہے کہ مظفرآباد میں ان کی حکومت بننے جارہی ہے، اصل میں اسلام آباد والی حکومت بھی ہٹنے والی ہے۔ بلاول بھٹو نے وزیراعظم شہباز شریف کی نیت کو صاف قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ن لیگ کا ایک خاص حصہ وزیراعظم کو اتحادیوں سے لڑانا چاہتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے اس بیان کے بعد سوال یہ ہے کہ حکومت کے خلاف الٹی گنتی سے ان کی مراد کیا ہے اور ن لیگ کو الٹی گنتی کی دھمکی دینے والی پیپلز پارٹی کی اب اگلی سیاسی حکمت عملی کیا ہوگی؟
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار احمد ولید کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں غیر یقینی کی کیفیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اسلام آباد کی حکومت کے حوالے سے الٹی گنتی شروع ہونے کے بیان کے بعد پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے بیانات بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ کشمیر میں پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی محض اختلاف کا اظہار نہیں کر رہی بلکہ حکومت پر سیاسی دباؤ بھی بڑھا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد میں بھی الٹی گنتی شروع ہوچکی، بڑے لوگ کہہ رہے ہیں نظام تباہ ہوچکا: بلاول بھٹو
احمد ولید کے مطابق دوسری جانب صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ججز کی تقرری روکنے کا معاملہ بھی حکومت اور صدر کے درمیان اختلافات کو نمایاں کر رہا ہے۔ صدر کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ تقرریوں کے معاملے پر مناسب مشاورت نہیں کی گئی اور انہیں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی ہے۔
اگرچہ مسلم لیگ ن کی جانب سے بارہا کہا جا رہا ہے کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، لیکن سیاسی سطح پر پیدا ہونے والی بے یقینی اور ایک دوسرے کے خلاف آنے والے بیانات اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں کہ حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے درمیان معاملات مکمل طور پر معمول کے مطابق نہیں۔
احمد ولید کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات مزید بڑھتے ہیں تو پیپلز پارٹی کا اگلا سیاسی قدم کیا ہوگا۔ ان کے مطابق اگر کسی مرحلے پر حکومت پیچھے ہٹتی ہے، لیکن موجودہ قومی اسمبلی برقرار رہتی ہے، تو ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کو اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس میں پیپلز پارٹی کے لیے وزارتِ عظمیٰ کی راہ ہموار ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔
’ماضی میں بھی یہ قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں کہ مسلم لیگ ن کے وزیراعظم کی حکومت کی مدت کے بعد اگلے مرحلے میں پیپلز پارٹی کو وزارتِ عظمیٰ کا موقع دیا جا سکتا ہے اور بلاول بھٹو زرداری یا پیپلز پارٹی کا کوئی اور رہنما وزیراعظم بن سکتا ہے۔ موجودہ سیاسی کشیدگی نے ان قیاس آرائیوں کو ایک بار پھر تقویت دے دی ہے۔‘
احمد ولید کے مطابق اگرچہ فوری طور پر حکومت کی تبدیلی کی کوئی واضح صورتحال سامنے نہیں آئی، لیکن موجودہ غیر یقینی کی کیفیت برقرار رہنا بھی حکومت اور ملک دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ سیاسی عدم استحکام کے اثرات براہِ راست معاشی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں، اس لیے آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی کا رویہ اور حکومت کے ساتھ اس کے معاملات یہ طے کریں گے کہ موجودہ سیاسی کشمکش محض دباؤ کی سیاست تک محدود رہتی ہے یا واقعی حکومت کے خلاف کسی بڑے سیاسی اقدام کی طرف بڑھتی ہے۔
سینئر تجزیہ کار افتخار احمد کے مطابق موجودہ پارلیمانی نمبرز کو دیکھتے ہوئے وفاقی حکومت کے فوری طور پر گرنے کا امکان نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد سے علیحدہ بھی ہو جائے تو حکومت سیاسی طور پر کمزور ضرور ہوگی، تاہم اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے، البتہ سینیٹ میں آئینی ترامیم کی منظوری زیادہ مشکل ہوسکتی ہے۔
افتخار احمد کا کہنا تھا کہ اس وقت اصل مسئلہ حکومت گرانا نہیں بلکہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا مؤثر حل تلاش کرنا ہے۔
ان کے مطابق اپوزیشن کو سخت بیانات کے ساتھ ساتھ عوام کے سامنے ایک قابلِ عمل معاشی پروگرام اور مسائل کے عملی حل بھی پیش کرنے چاہییں۔
یہ بھی پڑھیے الیکشن پر ڈاکا ڈالا تو سمجھ لو وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی، بلاول بھٹو زرداری
دوسری جانب موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کار رانا عثمان نے کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ حکومت یا اتحادی نظام کے حوالے سے کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ ان کے مطابق اتحادی حکومت قائم رہے گی اور موجودہ سیاسی صورتحال میں سامنے آنے والی بعض باتیں دراصل آنے والے انتخابات کے لیے سیاسی نعرے ہیں۔
رانا عثمان کا کہنا تھا کہ حکومت کے اتحادی اور متعلقہ افراد اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے اور سب لوگ پرانی تنخواہ پر ہی کام کریں گے۔ انہوں نے موجودہ ملکی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ حکومت عدم استحکام کا شکار ہو یا ملک میں سیاسی بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو۔
ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں حکومت کا تسلسل برقرار رہنا ضروری ہے، جبکہ سیاسی طور پر سامنے آنے والے بیانات کو آنے والے انتخابات کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔













