آزاد کشمیر میں الیکشن کا تیسرا مرحلہ تمام ہوا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اس عمل میں ہمارے سیکھنے سمجھنے کے لیے کیا کچھ ہے؟
کشمیر کا حالیہ الیکشن، معمول کی مشق نہیں تھی۔ یہ کوہ گراں تھا۔ کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے ذریعے جو ماحول بنا دیا گیا تھا اس میں الیکشن کا انعقاد کوئی آسان کام نہ تھا۔ انتخابی عمل میں تعطل آجاتا تو فتنہ گروں کا کھیل کامیاب ہوجاتا۔ شاید اسی لیے پہلے اس انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا گیا اور اب انتخابات کالعدم قرار دے کر نئے انتخابات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ لیکن وقت کا پہیہ اب آگے کو گھوم چکا ہے۔ جس کشمیر میں کل تک سڑکوں، چوراہوں پر نفرت انگیز نعرے لگائے جارہے تھے، انتخابی عمل کی بحالی کے ساتھ ہی اب اسی کشمیر سے سید علی گیلانی کا نعرہ پھوٹ رہا ہے کہ: ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔
پہلی بات سمجھنے کی یہ ہے کہ سیاسی عمل غیر متعلق ہوجائے یا اسے بے توقیر کردیا جائے تو اس سے مرکز گریز قوتیں جنم لیتی ہیں۔ انتشار کو فروغ ملتا ہے۔ وحدت پارہ پارہ پوتی ہے۔ اپنی ساری خرابیوں کے باوجود یہ سیاسی جماعتیں وحدت کی نشانی ہیں۔ یہ پورے ملک میں اپنے اپنے وابستگان کو مرکزیت سے جوڑے رکھتی ہیں۔ یہ انہیں کسی بھی فتنہ گری سے دُور کرتی ہیں اور پاکستانیت کی طرف لاتی ہیں۔
سیاسی جماعتیں کمزور ہوتی ہیں یا بے توقیر ہوتی ہیں تو خلا پیدا ہوتا ہے۔ اس خلا کو پھر علیحدگی پسند، انتہا پسند اور فتنہ پرور قوتیں بھرتی ہیں۔ کشمیر میں یہی ہوا۔
ایک زمانہ تھا، کشمیر میں رومانوی سیاست موجود تھی۔ جناب سردار ابراہیم سے سردار قیوم خاں صاحب تک یہ رومان کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا۔ گزرتے وقت کے ساتھ زوال آتا گیا لیکن فاروق حیدر صاحب کے دور میں بھی حالات نسبتاً اچھے ہی تھے اور ان کی عمومی شہرت بھی بہت بہتر تھی ۔ اس کے بعد کشمیر میں بھی سونامی آگیا۔ باقی کہانی ہے۔
کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ قیوم نیازی صاحب یا تنویر الیاس صاحب جیسی شخصیات کو وزیراعظم آزاد کشمیر بنا کر بھی یہ امید رکھی جائے کہ لوگ سیاسی عمل سے جڑے رہیں گے اور جمہوری سیاست کا کوئی بھرم اور عزت لوگوں میں باقی رہے گی؟ سیاست اور سیاسی عمل جب بے توقیر ہوتا ہے تو پھر جو خلا پیدا ہوتا ہے اس میں کشمیر ایکشن کمیٹی جیسے بحران ہی جنم لیتے ہیں۔
اعلیٰ ترین سیاسی مناصب پی ٹی وی کی نوکری نہیں ہوتے کہ بانٹ دیے جائیں۔ یہاں ایک عصبیت ہوتی ہے جو مشکل سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک سیاسی میراث ہوتی ہے جو نسلوں کی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ لوگوں سے ایک تعلق خاطر ہوتا ہے جو عشروں پر محیط ہوتا ہے۔ سیاست اپنے معاشرے سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ اس کی نباض ہوتی ہے۔ یہ مسند اگر عثمان بزداروں، قیوم نیازیوں یا تنویر الیاس جیسوں کو سونپ دی جائے تو پھر کسی کو یہ شکوہ نہیں کرنا چاہیے کہ جمہوری عمل بے توقیر کیوں ہوگیا اور فتنہ گری کا سا ماحول کیں پیدا ہوگیا۔
کشمیر ایکشن کمیٹی جو کچھ کررہی ہے ہمارے سامنے ہے۔ اس کے ابلاغی میمنہ میسرہ پر جو لوگ کھڑے ہیں وہ بھی سب کو معلوم ہے اور کچھ نہیں تو تبدیلی کے ان ہرکاروں سے اتنا تو پوچھا جانا چاہیے کہ جب کشمیر میں قیوم نیازی اور تنویر الیاس جیسے رجال کار کی حکومت تھی، تب تم نے کشمیر میں دودھ اور شہد کی کتنی نہریں رواں فرما دی تھیں؟ اقوال زریں سنو تو یہ مارٹن لوتھر کنگ کے دادا جان لگتے ہیں اور گڈ گورننس کا نامہ اعمال یہ ہے کہ عثمان بزدار سے شروع ہوتا ہے اور قیوم نیازی پر ختم ہوجاتا ہے۔
کشمیر میں جو ہوچکا ہے، اس کا حساب سودو زیاں بہت طویل ہے جس کی جمع تفریق نسلوں پر محیط ہوگی۔ معمولی نقصان نہیں ہے، یہ درد کی ایک مالا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ حالات یہاں تک کیسے پہنچے۔
انتخابی عمل کی کامیابی، موجودہ حالات میں بہت بڑی مگر جزوی کامیابی ہے۔ اصل کامیابی گڈ گورننس کے گم گشتہ تصور کی بحالی ہوگی۔ یہ گڈ گورننس ہے جو لوگوں کو جوڑے رکھتی ہے اور وہ کسی فتنہ گری سے دُور رہتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ لینا نہیں ہے۔ لوگ شراکت اقتدار کا احساس چاہتے ہیں۔ ان کے لیے سیاسی جماعتوں میں مناصب کے حصول کی گنجائش باقی نہیں رہے گی اور سیاسی جماعتیں چند گھرانوں تک محدود ہوجائیں گی تو پھر سماج میں سیاسی عمل سے لاتعلقی پھیلے گی۔
یہاں کسی ایک جماعت کا نام بتا دیجیے جہاں عام نوجوانوں کے لیے صرف صلاحیتوں کی بنیاد پر امکانات کی کوئی کھڑکی کھلی ہو۔ سیاست پیچھے رہ گئی اور معاشرہ آگے بڑھ گیا ہے۔ اس فاصلے کو کم نہ کیا گیا تو سیاست مزید بے توقیر ہوگی۔
کشمیر اب ٹیسٹ کیس ہے۔ سوال یہ ہے کیا اہل سیاست سرخرو ہوسکیں گے؟ اس کا جواب نئی حکومت نے اپنی کارکردگی سے دینا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













