جنوبی کوریا کی فٹبال ایسوسی ایشن (کے ایف اے) کو ایک دہائی سے زائد پرانے اسکینڈل نے ہلا کر رکھ دیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن نے 2011 اور 2012 کے دوران غیر ملکی ریفریز اور فٹبال حکام کے لیے جنسی خدمات کی مد میں ہزاروں ڈالر خرچ کیے۔
رپورٹ سامنے آنے کے بعد کے ایف اے نے عوامی سطح پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں پیش آنے والے واقعات پر اسے گہری تشویش ہے اور اس طرح کی نامناسب سرگرمیاں یا ادارے کے کریڈٹ کارڈز کا غلط استعمال اب نہیں ہورہا۔
مزید پڑھیں:ڈیٹنگ ایپ پر دوستی، باکو جانے والی خاتون ممکنہ جنسی استحصال کے شبہے میں آف لوڈ
جنوبی کوریا کی وزارت ثقافت، کھیل اور سیاحت نے کے ایف اے میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کے بعد یہ رپورٹ 2016 میں تیار کی تھی، تاہم رپورٹ گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے ٹی وی چینل جے ٹی بی سی کے ہاتھ لگنے کے بعد پہلی مرتبہ منظرعام پر آئی۔
حکومتی رپورٹ کے مطابق 2011 اور 2012 کے دوران کم از کم 8 مواقع پر غیر ملکی ریفریز اور فٹبال حکام کے لیے مساج پارلرز میں ’جنسی تفریح‘ کے اخراجات ادا کیے گئے۔ ان میں ورلڈ کپ اور اولمپکس کے کوالیفائنگ میچز بھی شامل تھے۔
رپورٹ میں ایک واقعے کے مطابق 21 ستمبر 2011 کو جنوبی کوریا اور عمان کے درمیان لندن اولمپکس کے کوالیفائنگ میچ کے بعد 4 ریفریز کو مبینہ طور پر ایک مساج پارلر لے جایا گیا، جہاں کے ایف اے نے 7 لاکھ 60 ہزار کورین وون خرچ کیے۔ بعد ازاں اخراجات کی تفصیلات میں مبینہ طور پر اسے میچ کے بعد شراب نوشی کے اخراجات ظاہر کیا گیا۔
اسی طرح 29 فروری 2012 کو جنوبی کوریا اور کویت کے درمیان 2014 ورلڈ کپ کوالیفائر سے قبل بھی ایسا ہی واقعہ پیش آنے کا الزام ہے۔ 14 مارچ 2012 کو جنوبی کوریا اور قطر کے اولمپک کوالیفائر کے دوران ایک ریفری اسیسَر کے لیے بھی اسی نوعیت کے اخراجات کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران ایسے اخراجات کی مجموعی رقم قریباً 56 لاکھ کورین وون، یعنی 3 ہزار 950 ڈالر بنتی ہے۔ کئی مواقع پر مبینہ طور پر اخراجات کو کھانے، مشروبات یا عام مساج کی مد میں ظاہر کیا گیا۔
حکومتی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ چینی فٹبال ایسوسی ایشن کے ریفری ایکسچینج پروگرام کے تحت جنوبی کوریا آنے والے 3 حکام کے لیے بھی مبینہ طور پر جنسی خدمات کے اخراجات ادا کیے گئے۔
جنوبی کوریا کی حکومت کی تحقیقات کے مطابق یہ معاملہ ایک فرد تک محدود نہیں تھا بلکہ ادارہ جاتی نوعیت کا تھا، تاہم دسمبر 2017 میں استغاثہ نے شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید کارروائی نہیں کی۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ہاتھ ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان
اب وزارت کھیل نے معاملے کو دوبارہ تحقیقات کے لیے بھیج دیا ہے اور کے ایف اے کو ضروری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ جاپانی میڈیا کے مطابق 4 جاپانی ریفریز کے مبینہ طور پر اس معاملے میں شامل ہونے کے الزامات کی جاپان فٹبال ایسوسی ایشن بھی تحقیقات کررہی ہے۔
کے ایف اے کے مطابق اس نے 2013 میں’کلین کارڈ سسٹم‘ متعارف کرایا تھا، جس کے بعد ادارے کے کارپوریٹ کارڈز مساج پارلرز اور کراوکی بارز جیسی جگہوں پر استعمال نہیں کیے جاسکتے۔
جنوبی کوریا کی فٹبال ایسوسی ایشن حالیہ عرصے میں 2026 ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی اور سابق کوچ کی تقرری میں مبینہ شفافیت کے فقدان پر بھی شدید عوامی تنقید کی زد میں ہے۔ ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے سے ٹیم کے اخراج کے بعد صدر لی جے میونگ نے بھی ایسوسی ایشن کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔














