وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ واقعے میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور 1 زخمی ہوا ہے۔
پاکستان نے جاں بحق افراد کی میتیں وطن واپس لانے اور زخمی پاکستانی کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے تیز کردیے ہیں۔
تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے کے افسوسناک واقعے کی اطلاع پر انہیں گہری تشویش ہوئی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق حملے میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ 1 پاکستانی زخمی ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملے میں 3 پاکستانی شہید ہوئے، دفتر خارجہ
انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک غیر جنگی تجارتی جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔
حملے سے سمندری آمدورفت کو سنگین خطرہ لاحق
اسحاق ڈار کے مطابق اس نوعیت کے حملے بے گناہ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
I have learnt with deep concern about the unfortunate incident involving an attack on a commercial vessel in the Red Sea. According to the information available so far, three Pakistani nationals have lost their lives and one has sustained injuries in the incident. We extend our…
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) August 12, 2026
انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے سے آزادیٔ جہاز رانی، بحری سلامتی اور تجارتی شپنگ کی حفاظت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
یمنی حکام سے رابطہ
وزیر خارجہ نے بتایا کہ واقعے کی مزید تفصیلات اور اس کے حالات و واقعات جاننے کے لیے پاکستان متعلقہ یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت سے رابطے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ فوری رابطہ اور رابطہ کاری کرے۔
میتوں کی واپسی اور زخمی پاکستانی کی معاونت کے لیے اقدامات
اسحاق ڈار نے لکھا کہ پاکستانی سفارتخانے کو جاں بحق شہریوں کی میتیں واپس لانے اور ان کی وطن واپسی کے لیے تمام ضروری اقدامات بھرپور طریقے سے آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے زخمی پاکستانی شہری کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے بھی متعلقہ حکام سے رابطہ رکھنے کی ہدایت کی۔
وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور واقعے سے متعلق پیش رفت کے لیے تمام متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گا۔
مزید پڑھیں:یمن: حوثی باغیوں کا اقوام متحدہ کے دفتر پر چھاپہ، 20 ملازمین کو حراست میں لے لیا
بحیرہ احمر عالمی تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے، جہاں حالیہ برسوں میں کشیدگی اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے باعث بحری سلامتی اور عالمی شپنگ کو شدید خدشات کا سامنا رہا ہے۔
ایسے حملوں کے نتیجے میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت، عملے کی سلامتی اور عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
تازہ واقعے میں پاکستانی شہریوں کا جاں بحق ہونا پاکستان کے لیے اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے، جس کے باعث حکومت نے یمنی حکام کے ساتھ رابطہ کرکے متاثرہ پاکستانی شہریوں سے متعلق ضروری اقدامات شروع کیے ہیں۔














