حکومت نے عدالتی حکم کی روح کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ کرا دیا

جمعہ 21 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے اور ان کے طبی معائنے کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کردیا۔ حکومت کے مطابق سیکیورٹی اور انتظامی خدشات کے باعث شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے عمران خان کا پمز اسپتال میں تفصیلی طبی معائنہ کرایا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں اور شفا اسپتال کے ڈاکٹرز کی موجودگی میں انہیں طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔

حکومتی مؤقف کے مطابق عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے حکم کی روح کو مدنظر رکھا گیا اور انہیں بلا تاخیر طبی معائنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں، مختلف گروہوں، میڈیا نمائندوں اور گاڑیوں کے غیرمعمولی اجتماع کے باعث سیکیورٹی، رازداری اور انتظامی مسائل پیدا ہوگئے تھے، جس کے بعد عمران خان کو پمز منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا معائنہ پمز اسپتال میں ہوا، صحتمند قرار دیے جانے پر واپس اڈیالا بھیجا، عطاتارڑ

حکومت کا کہنا ہے کہ پمز ملک کا بڑا سرکاری و تدریسی اسپتال ہے جہاں مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹر اور مکمل طبی سہولیات دستیاب ہیں۔ چنانچہ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز میں معائنہ کرانا عدالتی فیصلے سے انحراف نہیں بلکہ سیکیورٹی حالات کے مطابق مقام کی تبدیلی تھی۔

عمران خان کے طبی معائنے کے لیے ماہر امراضِ چشم، ماہر امراضِ قلب اور فزیشن سمیت ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم موجود تھی۔ حکومتی بیان کے مطابق ڈاکٹروں نے تفصیلی معائنے کے بعد عمران خان کو طبی لحاظ سے فٹ قرار دیا۔ شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ڈاکٹرز بھی طبی معائنے کے عمل میں شریک تھے۔

حکومت کے مطابق عمران خان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان بھی طبی معائنے اور علاج کے تمام مراحل کے دوران موجود رہیں، جس سے اہل خانہ کی موجودگی بھی یقینی رہی۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کا معائنہ پمز اسپتال میں ہوا، صحتمند قرار دیے جانے پر واپس اڈیالا بھیجا، عطاتارڑ

حکومتی مؤقف ہے کہ عمران خان کو پہلے بھی طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ضرورت پڑنے پر انہیں طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

بعد ازاں طبی معائنہ مکمل ہونے پر عمران خان کو دوبارہ اڈیالا جیل منتقل کردیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پورے عمل میں عدالت کے حکم کی پاسداری، طبی سہولت کی فراہمی اور سیکیورٹی تقاضوں کے درمیان توازن برقرار رکھا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مجھے فیصلہ کرنا ہے ایران کو تباہ کروں یا دوبارہ پنپنے کا موقع دوں، ڈونلڈ ٹرمپ کا جنرل اسمبلی میں خطاب

جاپان بھارت ٹی 20 میچ میں امپائر کا یوٹرن، وائیڈ واپس لینے پر ہنگامہ

ڈونلڈ ٹرمپ کا جنرل اسمبلی میں بھی پاک بھارت جنگ کا ذکر، شہباز شریف کو عظیم لیڈر قرار دیدیا

ابھیشیک شرما کا ان چاہا عالمی ریکارڈ: ’گولڈن ڈک‘ کے ’معرکے‘ میں شاداب و راشد خان کو پیچھے چھوڑ دیا

عطااللہ تارڑ کا خیبرپختونخوا حکومت سے 13 سال کا حساب لینے کا اعلان، ریڈیو پاکستان پشاور کی نوتعمیر شدہ عمارت کا افتتاح کردیا

ویڈیو

’بڑا ہوکر اپنے والد کی طرح پولیس افسر بنوں گا‘، شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے ایمل کا عزم

تحریک انصاف کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، عمران خان مذاکرات کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان

27 ستمبر احتجاج: پی ٹی آئی کے مکمل خاتمے کا پلان؟ محسن نقوی نے وارننگ دیدی

کالم / تجزیہ

سید مودودیؒ آج بھی کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟

اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے

سومنات: جب تاریخ سیاسی نعرہ بن جائے