امریکا میں جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس خودکار ڈرونز کی آزمائش کی جا رہی ہے، جن کا مقصد آگ پھیلنے سے پہلے ہی اس کی نشاندہی کرکے ابتدائی مرحلے میں بجھانا ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق کیلیفورنیا میں محکمہ جنگلات و فائر پروٹیکشن نے حال ہی میں خودکار فائر فائٹنگ ڈرونز کا تجربہ کیا، جبکہ الاسکا میں ایک عالمی مقابلے کے دوران بھی خودکار نظاموں کو ابتدائی درجے کی آگ کا سراغ لگانے اور اسے بجھانے کے لیے آزمایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:فرانس اور اسپین میں جنگلاتی آگ مزید پھیل گئی، ساڑھے 3 لاکھ افراد متاثر
کیلیفورنیا میں آزمائے گئے ڈرونز میں مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر وژن اور دیگر سینسرز استعمال کیے گئے ہیں، جو آگ کے مقام کی نشاندہی کرکے وہاں فائر فائٹنگ فوم پہنچا سکتے ہیں۔ ان ڈرونز کو خاص طور پر ایسے دور دراز علاقوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے جہاں زمینی عملے یا بڑے طیاروں کو پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
الاسکا میں جرمن کمپنی ڈرائیڈ نیٹ ورکس کے نظام نے جنگلات میں نصب شمسی توانائی سے چلنے والے سینسرز کے ذریعے آگ کے ابتدائی آثار کا پتا لگایا، جس کے بعد ایک مشاہداتی ڈرون نے خودکار طور پر پرواز کرکے آگ کی تصدیق کی اور دوسرا ڈرون اسے بجھانے کے لیے پہنچا۔

ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بڑے فائر فائٹنگ طیاروں کا متبادل نہیں بلکہ ان کی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ آگ لگنے کے ابتدائی چند منٹوں میں فوری کارروائی ہے۔
تاہم موسم، دشوار گزار علاقے، محدود گنجائش اور دیگر طیاروں کے ساتھ محفوظ رابطہ اب بھی اہم چیلنجز ہیں۔ امریکہ کی بعض فائر ایجنسیاں ان ڈرونز کو تجرباتی مرحلے سے نکال کر عملی کارروائیوں میں شامل کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔














