سندھ کابینہ نے نوجوان تاجر میر رضا قتل کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی منظوری دے دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ ارکان سے اس فیصلے کی منظوری سرکولیشن کے ذریعے حاصل کی گئی۔
مزید پڑھیں: میر رضا کے والدین کا وزیرِ اعلیٰ سندھ سے تحقیقات کی براہِ راست نگرانی کا مطالبہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میر رضا قتل کی تحقیقات سندھ ہائیکورٹ کے ایک حاضر سروس جج کی سربراہی میں کرائی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے کمیشن کی سربراہی کے لیے ایک حاضر سروس جج نامزد کرنے کی درخواست کی جائے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جوڈیشل کمیشن سندھ ٹریبونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے سیکشن 3 کے تحت تشکیل دیا جائے گا، جبکہ تحقیقات کے لیے کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آرز) بھی منظور کرلیے گئے ہیں۔
میر رضا کیس کا پس منظر
واضح رہے کہ کراچی کے 25 سالہ نوجوان تاجر اور آئی بی اے کے سابق طالب علم میر رضا علی 29 جولائی کو گلستانِ جوہر کے علاقے میں پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق وہ 28 جولائی کو کام سے گھر واپس آئے تھے، تاہم رات گئے دوبارہ گھر سے نکلے اور پھر واپس نہیں آئے۔
واقعے کے ابتدائی مرحلے میں پولیس نے دستیاب ابتدائی میڈیکل لیگل رپورٹ کی بنیاد پر موت کو خودکشی قرار دیا تھا، تاہم اہل خانہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے میر رضا کے قتل کا خدشہ ظاہر کیا اور تحقیقات پر سوالات اٹھائے۔
قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم
کیس میں اہم پیشرفت اس وقت ہوئی جب کراچی سٹی کورٹ نے قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کی درخواست منظور کی اور میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں سامنے آنے والی نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پہلی رپورٹ سے تضاد سامنے آیا اور میر رضا کو قتل کیے جانے کے امکانات ظاہر کیے گئے۔
نئی میڈیکل رپورٹ کے بعد مقدمے میں قتل اور شواہد چھپانے سمیت دیگر دفعات شامل کی گئیں، جبکہ پہلے درج اغوا کی ایف آئی آر کو بھی قتل کے مقدمے میں تبدیل کردیا گیا۔
نئی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی
پوسٹ مارٹم رپورٹس میں تضاد سامنے آنے کے بعد سندھ پولیس نے میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی، جس کی سربراہی ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن سندھ کراچی عامر فاروقی کو سونپی گئی۔ نئی ٹیم کا مقصد کیس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرنا ہے۔
بعد ازاں تحقیقاتی ٹیم میں مزید افسران کو بھی شامل کیا گیا اور کیس سے متعلق شواہد، محرکات، میڈیکل رپورٹس اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
میر رضا کیس پر اہل خانہ، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کی جانب سے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ خاندان کی جانب سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور اصل حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: میر رضا قتل کیس: 19 روز بعد سندھ پولیس نے خاموشی توڑ دی، طبی اور ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ جاری
اب سندھ کابینہ کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کی منظوری کے بعد میر رضا کے قتل کے تمام پہلوؤں، بالخصوص متضاد میڈیکل رپورٹس اور واقعے کے اصل محرکات کی تحقیقات کے لیے ایک نیا عدالتی مرحلہ شروع ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔













