امریکا کا ایران پر دباؤ برقرار، نئے بڑے فوجی حملے فی الحال خارج از امکان

بدھ 26 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے فی الحال ایران کے خلاف مزید نئے فوجی حملے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے متعدد غیر ملکی ہم منصبوں کو ٹیلی فونک رابطوں کے دوران واشنگٹن کی نئی حکمت عملی سے آگاہ کیا۔

امریکی میڈیا ادارے ’ایکسِیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ فوری طور پر بڑے فضائی آپریشنز کے بجائے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے اور سمندری اقدامات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: کیا سفارت کاری جنگ پر غالب آ سکے گی؟

رپورٹ میں امریکی حکام اور معاملے سے باخبر افراد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مارکو روبیو نے حالیہ دنوں میں اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کے دوران ایران سے متعلق نظرثانی شدہ حکمت عملی پیش کی۔

ایران کی معاشی ناکہ بندی پر توجہ

نئی حکمت عملی کے تحت واشنگٹن ایران کی معیشت کو دباؤ میں لانے کے لیے پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کرے گا، جبکہ امریکی بحری ناکہ بندی کے ذریعے تہران پر دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پہلے ہی ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیوں کی مہم شروع کر چکے ہیں، جسے ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی حکومت کی ’معاشی گھٹن‘ کی کوشش قرار دیا ہے۔

اس مہم میں ان غیر ملکی حکومتوں، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے خلاف ثانوی پابندیوں کی دھمکی بھی شامل ہے جو ایران کے ساتھ کاروباری یا مالی روابط برقرار رکھیں گے۔

واشنگٹن کا مقصد بین الاقوامی کمپنیوں کو تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات جاری رکھنے سے قبل کئی بار سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔

آبنائے ہرمز پر امریکی توجہ برقرار

امریکی حکمت عملی میں آبنائے ہرمز کو مرکزی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔

ایکسِیوس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کی جانب سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز کے جنوبی راستوں سے تجارتی ٹینکرز کی آمدورفت بحال ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی کا دوبارہ شدت اختیار کرنا کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان اور سعودی عرب کا اظہار تشویش

امریکی انتظامیہ کا خیال ہے کہ اس اقدام سے ایران کی اس صلاحیت میں کمی آئی ہے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ کو عالمی تیل اور توانائی کی ترسیل میں خلل ڈالنے کے لیے استعمال کر سکے۔

تاہم بڑے پیمانے پر نئے حملے فی الحال روکنے کے باوجود امریکا نے فوجی کارروائی کا آپشن مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔

روبیو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے غیر ملکی ہم منصبوں کو واضح کیا کہ اگر ایران نے پہلے حملہ کیا تو واشنگٹن فوجی جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

حکمت عملی وسط مدتی انتخابات تک جاری رہنے کا امکان

ایک امریکی عہدیدار نے ایکسِیوس کو بتایا کہ کم شدت کے فوجی دباؤ کے ساتھ ایران پر پابندیوں میں اضافے کی موجودہ حکمت عملی نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک جاری رہ سکتی ہے۔

اس کے بعد واشنگٹن ایران کے خلاف وسیع تر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کا جائزہ لے سکتا ہے۔

یہ حکمت عملی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ فوری طور پر ایک وسیع جنگی مہم شروع کرنے کے بجائے تہران پر مسلسل دباؤ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی سفارتی سرگرمیاں بحال

اقتصادی اور بحری دباؤ کے ساتھ ساتھ امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی سفارتی موجودگی بحال کرنا بھی شروع کر دی ہے۔

علاقائی سفارت خانوں سے ایرانی میزائل حملوں اور لڑائی کے خدشات کے باعث پہلے نکالے گئے بعض امریکی اہلکاروں کو اب واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کو خطے کے بعض مقامات پر فوری سکیورٹی صورتحال میں بہتری کا اندازہ ہے، جس کے باعث سفارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے جاری معاشی دباؤ کو مستقبل میں ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن کو امید ہے کہ مسلسل مالی دباؤ تہران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp