‘سرجیکل چیٹ جی پی ٹی’: اے آئی کی مدد سے دماغ کی پیچیدہ رسولی کیسے ہٹائی گئی؟

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا میں پہلی بار طبی ماہرین نے براہِ راست مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کی معاونت سے دماغ کی پیچیدہ سرجری کر کے مریض کے دماغ سے رسولی (ٹیومر) کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا ہے۔ سرجنوں کے مطابق، جدید اے آئی ٹول نے آپریشن کے دوران ویڈیو فیڈ کا لائیو تجزیہ کیا اور حساس رگوں اور اعصاب کو بچاتے ہوئے رسولی کو محفوظ طریقے سے ہٹانے میں اہم کردار ادا کیا۔

یونیورسٹی کالج لندن ہسپتال (UCLH) کے سرجنوں کے مطابق، بیڈ فورڈ شائر سے تعلق رکھنے والے 2 بچوں کے 48 سالہ والد ریز ہبرٹ کی بینائی اس رسولی کی وجہ سے شدید خطرے میں تھی، جسے اس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بچا لیا گیا ہے۔

آپریشن کے دوران استعمال کیے گئے اے آئی ٹول نے ویڈیو فیڈ کا لمحہ بہ لمحہ تجزیہ کیا اور سرجنوں کو دماغ کے اندر چھپی ہوئی ان حساس رگوں اور اعصاب کے بارے میں مشورے دیے، جنہیں نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ اس معاونت کی بدولت ڈاکٹر رسولی کا زیادہ سے زیادہ حصہ محفوظ طریقے سے نکالنے میں کامیاب رہے۔

اس حوالے سے مریض ریز ہبرٹ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’مریض کی حفاظت کے نقطہ نظر سے، میں اس ٹیکنالوجی کے فائدے کو واضح طور پر دیکھ سکتا ہوں۔ آخر ہمارے سر کے اندر کوئی سڑک کے اشارے (Road Signs) تو لگے نہیں ہوتے (جو راستہ بتائیں)۔‘

مرض کی تشخیص اور اثرات

ریز ہبرٹ، جو پیشے کے لحاظ سے کسٹمر سروسز مینیجر ہیں، 18 ماہ قبل تک مکمل طور پر فٹ اور صحت مند تھے اور روزانہ 2 میل پیدل چلتے تھے۔ ایسی ہی ایک واک کے دوران وہ سڑک پر بے ہوش ہو کر گر گئے اور انہیں دورے پڑنے لگے۔

دماغ کے اسکین سے انکشاف ہوا کہ ان کی پٹیوٹری گلینڈ  پر 11 ملی میٹر کی رسولی بن رہی ہے۔ پٹیوٹری گلینڈ کھوپڑی کی بنیاد پر واقع کنچے کے سائز کا ایک عضو ہے، جو نشوونما، میٹابولزم، بلڈ پریشر اور درجہ حرارت کو منظم کرنے والے حیاتیاتی ہارمونز خارج کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

یہ غدود کیروٹڈ شریانوں اور بصری اعصاب کے بالکل قریب ہوتا ہے۔ شریانیں دماغ کو خون سپلائی کرتی ہیں جبکہ اعصاب بصارت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ رسولی کے دباؤ کی وجہ سے ریز ہبرٹ کی اطراف کی بینائی ختم ہوتی جا رہی تھی۔

اگرچہ فوری سرجری کی ضرورت نہیں تھی، لیکن ہبرٹ کو چیزوں سے ٹکرانے، شدید تھکاوٹ اور چکر آنے جیسی شکایات شروع ہو گئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے نفسیاتی اور جذباتی اثرات زیادہ تھے، کیونکہ وہ کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتے تھے۔

آپریشن اور مصنوعی ذہانت کا کردار

جب سرجنوں نے انہیں اس جدید اے آئی ٹول کے ذریعے پہلے مریض بننے کا آپشن دیا، تو انہوں نے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مریض تحقیق کا حصہ نہیں بنیں گے، تو طب میں پیشرفت کیسے ہوگی۔

سرجری کے لیے ناک کے راستے کھوپڑی کی بنیاد تک ایک اینڈوسکوپ (ایک پتلا کیمرہ) داخل کیا گیا۔ چونکہ ہر انسان کی اناٹومی (داخلی ساخت) مختلف ہوتی ہے، اس لیے رسولی تک پہنچنے کے لیے سب سے محفوظ راستے کی شناخت آسان نہیں تھی۔ پیچیدگیوں کے خطرات موجود تھے، جن میں بڑی رگ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی شامل تھا۔

ریز ہبرٹ

یہاں اے آئی ٹول نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ایک دوسری اسکرین پر، اس سسٹم نے لائیو ویڈیو فیڈ کا تجزیہ کیا، جراحی کے آلات کی نقل و حرکت کو ٹریک کیا، اور ان حصوں کی نشاندہی کی جہاں رگیں اور اعصاب موجود تھے، ساتھ ہی رسولی کو ہٹانے کے لیے محفوظ ترین علاقوں کو نمایاں کیا۔

یہ ٹیکنالوجی فونز میں استعمال ہونے والی فیشل ریکگنیشن (چہرے کی شناخت) کی طرح ہے، لیکن یہ چہروں کے بجائے اہم اور اکثر چھپی ہوئی اناٹومیاتی ساختوں کو پہچانتی ہے۔

‘سرجیکل چیٹ جی پی ٹی’ کا تصور

برطانیہ میں ایک اوسط سرجن سالانہ 10 سے 20 ایسے آپریشن کرتا ہے۔ محققین نے اپنے اے آئی سسٹم کو پٹیوٹری ٹیومر ہٹانے کی سینکڑوں ویڈیوز پر تربیت دی، تاکہ سسٹم اہم ڈھانچوں کو ’پہچاننا‘ شروع کر دے۔

اس عمل میں معاونت کرنے والے پروفیسر ہانی مارکس نے کہا، ’یہ سسٹم اتنے آپریشنز دیکھ کر تربیت یافتہ ہوا ہے جتنے زیادہ تر سرجن اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھتے۔ یہ ماہر کی دوسری آنکھوں کے طور پر کام کر سکتا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر تجرباتی ٹولز کے برعکس، یہ ‘ریئل ٹائم’ کام کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت نے پہلی بار نئے وائرس ڈیزائن کر دیے، طبی تحقیق میں بڑی پیشرفت لیکن نئے خطرات بھی

ٹیم نے واضح کیا کہ اے آئی ٹول صرف معاونت کر رہا ہے اور مکمل کنٹرول سرجنوں کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ ان کا طویل مدتی ہدف سرجنوں کے لیے ایک طرح کا ’چیٹ جی پی ٹی‘ تیار کرنا ہے، تاکہ آپریشن تھیٹر میں ایک اور ماہر موجود ہو جس سے ضرورت پڑنے پر مشورہ لیا جا سکے۔

گوگل اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ریسرچ کی مالی معاونت سے تیار کردہ اس ٹیکنالوجی کے پہلے تجربے سے ماہرین خوش ہیں اور اب ایک بڑے ٹرائل پر کام کر رہے ہیں۔

‘مجھے میری زندگی واپس مل گئی’

آپریشن کے بعد ریز ہبرٹ کی زندگی بدل گئی ہے۔ انہوں نے بتایا، ’جب میں نے آپریشن کے بعد آنکھیں کھولیں تو مجھے ایسا لگا جیسے مجھے 360 ڈگری بصارت مل گئی ہو۔ میں نے ایک سال سے اتنا واضح نہیں دیکھا تھا۔‘ اب ان کی بصارت اور توانائی واپس آچکی ہے اور تمام منفی اثرات ختم ہو چکے ہیں۔

ہیلتھ انوویشن کے وزیر جیمز فریتھ نے بھی اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت اس طرح کی تحقیق کی مالی معاونت کر رہی ہے، جس سے زندگیاں بدل رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہاکی ورلڈ کپ: 4 مرتبہ کا عالمی چیمپیئن پاکستان جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن لینے میں کامیاب

’آج اقتدار نہیں بلکہ ذمہ داری منتقل ہونے جارہی ہے‘، فیصل ممتاز راٹھور کا بطور وزیراعظم آزاد کشمیر آخری خطاب

دنیا کے کم عمر ترین بادشاہ اویو انتقال کرگئے

بھارت جان لے، پانی ہماری ریڈ لائن ہے، 25 کروڑ پاکستانیوں کی آبی بقا پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، اسحاق ڈار

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، پیٹرول 58پیسے، ڈیزل 17پیسے سستا

ویڈیو

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، مظاہرین پر ایف آئی آر کا تذکرہ

سانحہ پمز، ملزمان سامنے آئے نہ کوئی گرفتاری ہوسکی، سسٹم ٹھیک ہوگا؟ عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو

آزاد کشمیر کے نومنتخب وزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟ کیریئر پر ایک نظر

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ