ہائی بلڈ پریشر پر قابو پانے کے لیے روایتی طور پر صرف نمک (سوڈیم) کے کم استعمال کا مشورہ دیا جاتا رہا ہے تاہم ‘دی امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن’ میں شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں بتائے گئے شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ پوٹاشیم کی مقدار بڑھانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہائی بلڈ پریشر خاموشی سے گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، نئی تحقیق
ماہرین کے مطابق سوڈیم اور پوٹاشیم کا باہمی تناسب دل کی صحت اور بلڈ پریشر کی درست صورتحال کا تعین کرنے کے لیے زیادہ بہتر اشاریہ ہے۔
پوٹاشیم اور سوڈیم کا تناسب
پوٹاشیم جسم میں سوڈیم کے اثرات کو متوازن کرتا ہے، فاضل سوڈیم کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے اور خون کی نالیوں کو کشادہ (ریلیکس) کرتا ہے۔
بلڈ پریشر میں کمی
ایک میٹا اینالائسز کے مطابق روزانہ تقریباً 2,000 ملی گرام پوٹاشیم کا اضافہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں سسٹولک بلڈ پریشر کو 5 ملی میٹر آف مرکری (ایم ایم ایچ جی) اور ڈائیسٹولک کو 3 ایم ایم ایچ جی تک کم کر سکتا ہے۔ محض پوٹاشیم کی مقدار میں مناسب اضافہ بھی اوسطاً 6/4 ایم ایم ایچ جی بلڈ پریشر کم کر سکتا ہے لیکن سب سے بہترین نتائج پوٹاشیم بڑھانے اور نمک کم کرنے کے امتزاج سے حاصل ہوتے ہیں۔
نتائج ظاہر ہونے کا وقت
پوٹاشیم بڑھانے کے نتائج فوراً نہیں ملتے۔ سوڈیم کم کرنے سے ابتدائی چند دنوں میں بلڈ پریشر کم ہوتا ہے جبکہ پوٹاشیم کا اثر ایک سے 2 ہفتوں میں شروع ہوتا ہے اور مکمل نتائج میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔
سوڈیم (نمک)
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن روزانہ زیادہ سے زیادہ 2,300 ملی گرام اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے 1,500 ملی گرام سوڈیم کی سفارش کرتی ہے۔ زیادہ تر سوڈیم نمک دانی کی بجائے ریسٹورنٹ کے کھانوں اور پروسیس شدہ (ڈبہ بند) غذاؤں سے حاصل ہوتا ہے۔
پوٹاشیم
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق روزانہ 3,500 سے 5,000 ملی گرام پوٹاشیم کا ہدف رکھنا چاہیے۔
پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں
اگرچہ کیلا پوٹاشیم کے لیے مشہور ہے لیکن کئی دیگر غذائیں اس سے بھی زیادہ پوٹاشیم فراہم کرتی ہیں جیسے کہ ایک درمیانہ چھلکے سمیت بیکڈ آلو (919 ملی گرام)، پکا ہوا تازہ سالمن مچھلی کا پیس (763 ملی گرام)، پکی ہوئی تازہ پالک آدھا کپ (591 ملی گرام)، خربوزہ / گرما ایک کپ (417 ملی گرام)، دودھ – 8 اونس (388 ملی گرام) اور پکی ہوئی لو بيا / بینز – آدھا کپ (373 ملی گرام)۔
کن لوگوں کو احتیاط کرنی چاہیے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ پوٹاشیم کی مقدار سپلیمنٹس کی بجائے قدرتی غذاؤں سے بڑھانی چاہیے۔
مزید پڑھیے: ہائی بلڈ پریشر سے وابستہ گردوں کی بیماریاں اموات میں اضافے کا سبب قرار
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گردوں کے دائمی امراض یا ہارٹ فیلیئر کے مریض یا وہ افراد جن کے خون میں پہلے ہی پوٹاشیم کی مقدار زیادہ ہو یا مخصوص ادویات (مثلاً بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد اپنے معالج کے مشورے کے بغیر پوٹاشیم نہ بڑھائیں کیونکہ زیادہ پوٹاشیم دل کی دھڑکن میں خطرناک بے ترتیبی کا باعث بن سکتا ہے۔














