پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال میں آتشزدگی کے المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کی یاد میں چلڈرن اسپتال کے باہر شمعیں روشن کی گئیں۔ ڈاکٹرز، اسپتال کے عملے، مریضوں کے لواحقین اور سول سوسائٹی کے افراد نے بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
پمز کے زچہ بچہ صحت مرکز کے تیسرے فلور پر واقع نومولود بچوں کے وارڈ میں بدھ کی صبح آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اسپتال حکام کے مطابق وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو بچایا جاسکا جبکہ 14 بچے جاں بحق ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز : تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل، ذمہ داران کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے، مصطفیٰ کمال
سانحے کے بعد آج اسپتال کے باہر فضا سوگوار رہی۔ شرکا نے جاں بحق بچوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں اور ان کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ سول سوسائٹی کے ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جبکہ بعض شرکا نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
پمز ہسپتال کے آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق بچوں کی یاد میں چلڈرن ہسپتال کے باہر شمعیں روشن کی گئیں۔۔#PIMS#fire#islamabad pic.twitter.com/kAo0p6dDvX
— Saleh Safeer Abbasi (@Msalehsafeer) August 27, 2026
واقعے کے بعد پمز میں غم اور غصے کی کیفیت برقرار ہے جبکہ متاثرہ خاندان اسپتال میں حفاظتی انتظامات اور امدادی کارروائیوں سے متعلق سوالات کے جوابات کے منتظر ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لیے سابق وفاقی سیکریٹری شاہد خان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو واقعے کی وجوہات، اسپتال کے حفاظتی انتظامات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز کے بعد گائنی کے پیچیدہ کیسز راولپنڈی اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ
ابتدائی رپورٹس میں آگ لگنے کی وجہ کے حوالے سے مختلف معلومات سامنے آئی ہیں۔ اسپتال کی ابتدائی رپورٹ میں نومولود بچوں کے وارڈ میں آکسیجن سے متعلق ایک آلے کے پھٹنے کو آگ کی وجہ قرار دیا گیا، جبکہ ابتدائی طور پر ایئر کنڈیشنر میں خرابی کی بات بھی سامنے آئی تھی۔ تاہم حتمی وجہ کا تعین تحقیقاتی کمیٹی کرے گی۔
واقعے کے بعد اسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات کا بھی دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے، جبکہ جاں بحق بچوں کے لواحقین اور سول سوسائٹی کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ سانحے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔














