معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے پاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز( پمز) کا چلڈرن اسپتال یورپ اور امریکا کے اسپتالوں سے بھی بہتر بنایا گیا تھا لیکن سہولیات کی عدم فراہمی اور عمارت اور ایمرجنسی راستوں کے ساتھ کی جانے والی چھیڑ چھاڑ نے اس شاندار ادارے کا یہ حال کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا
ہارون رشید پیشے کے اعتبار سے آرکیٹیکٹ ہیں اور سنہ 1983 سے سنہ 1986 تک پمز اسپتال کی تعمیر کے دوران ایک جاپانی کمپنی کے ساتھ اس منصوبے کے سپروائزر کے طور پر کام کرتے رہے۔
وی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ جب یہ اسٹیٹ آف دی آرٹ چلڈرن اسپتال تعمیر کیا گیا تو اسے ایک ’جیول‘ یعنی نگینے کے طور پر دیکھا جاتا تھا کیونکہ یہ ہر لحاظ سے ایک انتہائی جدید اسپتال تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس کی سروسز بہتر طور پر فراہم نہیں کر سکے جس کی وجہ سے یہ خراب ہونا شروع ہوگیا لیکن جہاں تک اس کی عمارت کا تعلق ہے وہ اب بھی بہت بہتر حالت میں ہے۔
ان کے مطابق جاپانی ماہرین نے پاکستان کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے عمارت میں جگہ جگہ کورٹ یارڈز بنائے اور بیرونی کھڑکیوں کو اس طرح کور کیا کہ براہ راست دھوپ اندر نہ آئے اور عمارت کے اندر موسم بہتر رہے۔
’مرکزی ایئر کنڈیشنگ کی جگہ چھوٹے اسپلٹ یونٹس نہیں لگانے چاہییں تھے‘
26 اگست کو پمز اسپتال کے چلڈرن یونٹ میں لگنے والی آگ اور 14 معصوم بچوں کی جانیں جانے کے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ہارون رشید نے کہا کہ انہیں اس سانحے پر اتنا دکھ ہوا کہ وہ اسے بیان نہیں کرسکتے۔
مزید پڑھیے: پمز سانحہ: وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا استعفیٰ وزیراعظم کو پیش، فرانزک رپورٹ کا انتظار
انہوں نے کہا کہ مجھے تو اتنا دکھ ہوا کہ بیان نہیں کرسکتا کہ اتنی اچھی بلڈنگ میں آگ لگ گئی اور اتنے چھوٹے بچوں کی جانیں چلی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ضرور کوئی ایسی غلطی ہوئی ہے اور سب سے قرینِ قیاس یہی ہے کہ ایئرکنڈیشنگ کے نظام کے لیے جو کام چلاؤ حل (جگاڑ) استعمال کیے گئے ان کی وجہ سے ایسا ہوا ہو۔ مرکزی ایئرکنڈیشنگ کی جگہ انہوں نے چھوٹے اسپلٹ اے سی لگا دیے ہیں۔ اس قسم کی حرکتیں اسپتال میں نہیں کرنی چاہییں۔‘
ہارون رشید نے کہا کہ اسپتال کے لیے ہمیں بہتر سے بہتر چیزیں استعمال کرنی چاہییں، کیونکہ یہ انسانی زندگیوں کا مسئلہ ہے۔
’اسپتال اپنی مثال آپ تھا‘
ہارون رشید نے بتایا کہ وہ پمز اسپتال کی بنیادوں کی کھدائی سے لے کر اسے وزارتِ صحت کے حکام کے حوالے کیے جانے تک اس منصوبے سے منسلک رہے اور انہیں اسپتال کی ہر چیز سے متعلق معلومات ہیں۔
مزید پڑھیں: سانحات کے بعد معطلیاں، تحقیقات اور پھر خاموشی، پمز واقعے نے خامیاں بے نقاب کردیں
انہوں نے کہا کہ اس اسپتال کی تعمیر میں جاپانی ماہرین نے جو نظام استعمال کیے تھے وہ اپنے وقت کے جدید ترین نظام تھے۔
ان کے مطابق کچھ عرصے بعد جب الشفا اسپتال تعمیر ہورہا تھا تو اس سلسلے میں وہ امریکا گئے اور دنیا کے دوسرے اسپتالوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں لیکن انہیں اس معیار کا اسپتال دنیا میں کہیں نظر نہیں آیا۔
ہارون رشید نے کہا کہ جاپانی ماہرین نے اس اسپتال میں چھوٹی سے چھوٹی چیز کا خیال رکھا تھا۔ اسپتال کے مختلف شعبوں کو مربوط کیا گیا تھا اور ہر چیز کا خیال رکھا گیا تھا کہ کس چیز کو کس جگہ رکھنا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن تھیٹر میں داخلی دروازے بنائے گئے اور یہ خیال رکھا گیا کہ یہاں سروسز کس طرح فراہم کی جائیں گی، ڈاکٹرز کہاں سے آئیں گے، مریض کہاں سے آئے گا اور اسے کس طرح آئی سی یو تک لے جایا جائے گا۔
’بیکٹیریا کو پھیلنے سے روکنے کا نظام بنایا گیا تھا‘
ہارون رشید نے بتایا کہ اسپتال میں مرکزی ایئرکنڈیشنگ کا نظام بنایا گیا تھا اور اس کے لیے ایک مرکزی کنٹرول بھی قائم کیا گیا تھا جس کے ذریعے ایئر کوالٹی کو مانیٹر کیا جاسکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا
انہوں نے بتایا کہ بیکٹیریا کو روکنے کے لیے ہیپا فلٹرز لگائے گئے تھے اور اسپتال میں 100 فیصد تازہ ہوا کی فراہمی کا انتظام تھا تاکہ بیکٹیریا اندر آکر مریضوں کو بیمار نہ کریں۔
ان کے مطابق اب بجلی کی بچت کے لیے اسپلٹ اے سی لگا دیے گئے ہیں جن میں غالباً ہیپا فلٹرز کا خیال نہیں رکھا گیا۔
’ہنگامی دروازوں پر دیسی تالے اور کنڈیاں لگا دی گئیں‘
ہارون رشید نے بتایا کہ جاپانی ماہرین نے اسپتال میں ہنگامی راستے بھی بنائے تھے لیکن بعد میں انہوں نے دیکھا کہ ان راستوں پر ’دیسی‘ تالے اور کنڈیاں لگا دی گئی تھیں جنہیں لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ جاپانی ماہرین نے اسپتال جس انداز میں تعمیر کیا تھا اس میں اس طرح کی چیزیں شامل نہیں تھیں۔
مزید پڑھیں: پمز سانحہ، جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان
ہارون رشید نے کہا کہ ہمارا کلچر ہے کہ ہم اچھی چیز کو بری طرح سے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر مریض کے ساتھ 10،10 تیماردار آجاتے ہیں جس کے لیے کنڈیاں اور تالے لگانے پڑتے ہیں۔













