ہونڈا گاڑیوں کی لاگت میں 9 ارب ڈالر کی کمی کا منصوبہ، سپلائرز کو قیمتیں کم کرنے کی بھی ہدایت، وجہ کیا ہے؟

بدھ 2 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جاپان کی کارساز کمپنی ہونڈا نے آئندہ 4 برسوں کے دوران لاگت میں 9 ارب ڈالر سے زائد کمی کا ہدف مقرر کیا ہے اور اس مقصد کے لیے اپنے سپلائرز کو قیمتوں میں نمایاں کمی کرنے کی ہدایت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہونڈا اٹلس کا پاکستان کی الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں فوری اینٹری سے انکار، وجہ کیا ہے؟

یہ رپورٹ رائٹرز کی جانب سے کمپنی کی اندرونی دستاویزات کے جائزے اور معاملے سے واقف 2 افراد کے انٹرویوز پر مبنی ہے جنہوں نے معلومات کے غیر عوامی ہونے کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی۔

کمپنی کا مذکورہ منصوبہ جو پہلی بار سامنے آیا ہے اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ جاپانی آٹو ساز کمپنیاں چین کی جانب سے بڑھتی ہوئی مسابقت سے نمٹنے کے لیے کس قدر شدید کوششیں کر رہی ہیں۔

بی وائی ڈی اور دیگر چینی الیکٹرک وہیکل ساز کمپنیاں جنوب مشرقی ایشیا، لاطینی امریکا اور یورپ میں خاصا مارکیٹ شیئر حاصل کر رہی ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کی جدید سافٹ ویئر اور بیٹری ٹیکنالوجی، اور صنعت میں سب سے کم قیمتیں ہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی موٹر سائیکل ساز کمپنی ہونڈا اپنی کمزور کار سازی کے کاروبار کو درست کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

کمپنی کو توقع ہے کہ الیکٹرک وہیکلز سے متعلق مجموعی نقصانات بالآخر 12 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ جائیں گے جو عالمی سطح پر کسی بھی آٹو ساز کمپنی کے سب سے بڑے نقصانات میں شمار ہوگا۔ اسی وجہ سے کمپنی اب اپنی توجہ پیٹرول اور بجلی سے چلنے والی ہائبرڈ گاڑیوں کی جانب مرکوز کر رہی ہے۔

مزید پڑھیے: اٹلس ہونڈا کی بڑی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت 20 لاکھ موٹر سائیکل سالانہ کرنے کا فیصلہ

مئی میں ہونڈا نے ایک عوامی طور پر فہرست شدہ کمپنی کے طور پر اپنی تاریخ کا پہلا سالانہ خسارہ ظاہر کیا تھا۔

دستاویزات بتاتے ہیں کہ سی آر وی اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل بنانے والی یہ کمپنی اب 2030 تک 1.5 کھرب ین (تقریباً 9.4 ارب ڈالر) کی بچت کا ہدف رکھتی ہے۔

سوالات کے تحریری جواب میں ہونڈا کے ترجمان نے مخصوص لاگت میں کمی کے اہداف یا سپلائرز کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

ترجمان کے مطابق آٹو ساز کمپنی عالمی سطح پر اپنے سپلائرز کے ساتھ مل کر مسابقت بہتر بنانے اور لاگت کم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے بشمول معیاری پرزہ جات کے استعمال کے ذریعے۔

دستاویزات کے مطابق اس سال بہار کے موسم میں ہونڈا کے منتظمین نے ٹوکیو کے شمال میں واقع شہر اوتسونومیا کے ایک کنونشن سینٹر میں بڑے سپلائرز سے ملاقات کی جو کمپنی کے تحقیق و ترقی کے مرکز کے قریب واقع ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس اجلاس میں کتنے سپلائرز نے شرکت کی۔

ایک ذریعے کے مطابق ہونڈا کے منتظمین نے سپلائرز کو اس منصوبے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کمپنی مزید پرزہ جات چینی سپلائرز سے حاصل کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ بعد ازاں ہر سپلائر کو اپنی کمپنی سے متعلق مخصوص لاگت میں کمی کے اہداف پیش کیے گئے۔

مزید پڑھیں: سالوں بعد ہونڈا نے اپنے لوگو میں لگا ’ایچ‘ تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا

دستاویزات کے مطابق ہونڈا 3 اہم اقسام کے پرزہ جات بشمول پریسڈ اور فورجڈ کمپوننٹس، برقی پرزہ جات اور سافٹ ویئر بیسڈ گاڑیوں سے متعلق پرزہ جات میں 30 فیصد لاگت میں کمی کا ہدف رکھتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق اس نوعیت کی کمی سے جاپانی سپلائرز کو چینی حریفوں کے ساتھ بہتر مسابقت کا موقع ملے گا۔

دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہونڈا کے براہ راست سپلائرز یعنی ’ٹیئر ون‘ سپلائرز سے بھی کہا گیا کہ وہ اپنے میٹریل کی خریداری کے طریقہ کار کا جائزہ لیں اور لاگت کم رکھنے کے لیے دوسرے اور تیسرے درجے کے سپلائرز سے حاصل کیے گئے معیاری پرزہ جات کے استعمال کو فروغ دیں۔

ہونڈا کے منتظمین نے سپلائرز سے یہ بھی کہا کہ جہاں ممکن ہو وہ چینی ساختہ پرزہ جات کا استعمال بھی بڑھائیں۔

لاگت میں کمی کے یہ اہداف انتہائی بڑے ہیں اور فوری طور پر یہ واضح نہیں کہ آیا یہ حاصل کیے جا سکیں گے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ہونڈا سوک فیس لفٹ کی تعارفی قیمتوں کا اعلان

قبل ازیں ہونڈا نے کبھی یہ تاثر نہیں دیا تھا کہ اسے اس قدر جارحانہ لاگت میں کمی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اب صورتحال ایسی دکھائی دیتی ہے کہ اس میں مزید تاخیر کی گنجائش باقی نہیں رہی۔

بدھ کے روز سہ پہر کی ٹریڈنگ میں ہونڈا کے حصص کی قیمت میں 2.5 فیصد کمی دیکھی گئی۔

ہونڈا سے وابستہ متعدد سپلائرز کے حصص میں بھی کمی دیکھی گئی جن میں سیٹ ساز کمپنی ٹی ایس ٹیک کے حصص 1.3 فیصد، فریم ساز کمپنی ایچ-ون کے 2.3 فیصد اور آٹو باڈی پارٹس ساز کمپنی جی ٹیکٹ کے حصص 2.0 فیصد نیچے آئے۔

پیر کے روز ہونڈا اور نسان نے اعلان کیا تھا کہ وہ سافٹ ویئر بیسڈ گاڑیوں کے لیے معیاری الیکٹرانک کنٹرول یونٹس مشترکہ طور پر تیار کریں گے اور مالی سال 2029 سے اس پر مبنی ایک نیا فریم ورک متعارف کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ہونڈا کے سی ای او توشی ہیرو میبے نے جون میں کمپنی کے بورڈ کے لیے اپنی دوبارہ تقرری کی حمایت حاصل کی تھی۔ کمپنی کی کارکردگی پر ان پر سابق ایگزیکٹوز کی جانب سے مستعفی ہونے کا دباؤ بھی رہا ہے۔

گزشتہ سال ہونڈا اور نسان نے ایک ایسے انضمام (مرجر) کے مذاکرات ختم کر دیے تھے جس کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی آٹو ساز کمپنیوں میں سے ایک وجود میں آ سکتی تھی۔

مزید پڑھیے: ہونڈا کی پسندیدہ گاڑی خریدنا اب ہر کسی کے لیے ممکن، مگر کیسے؟

چینی مسابقت کے علاوہ، ہونڈا اور دیگر آٹو ساز کمپنیوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درآمدی محصولات (ٹیرف) اور بڑھتے ہوئے لیبر اخراجات کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کے مزید جدید ہوتے جانے کے باعث تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کی بڑھتی ضرورت بھی پوری صنعت میں اخراجات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp