وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور قائم مقام سیکریٹری صحت کیپٹن (ر) محمد محمود کو ہدایت کی ہے کہ وہ باری باری پمز میں بیٹھ کر اسپتال کے انتظامی اور طبی امور کی نگرانی کریں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے کے بعد یہ فیصلہ اسپتال میں براہ راست سیاسی اور انتظامی نگرانی یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ پمز اسپتال اب محفوظ ہے اور مستقبل میں کوئی حادثہ نہیں ہوگا، مصطفیٰ کمال
وزیراعظم کی زیر صدارت صحت کے شعبے سے متعلق اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وہ پمز میں طبی معاملات، مریضوں کی دیکھ بھال اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کی نگرانی کریں گے، جبکہ قائم مقام سیکریٹری صحت انتظامی اور طبی امور دیکھیں گے۔
پمز کا مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر 26 اگست کو نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں لگنے والی آگ کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif chairs a meeting regarding Ministry of National Health Services and PIMS fire incident. pic.twitter.com/PjrTxsJa4f
— Press Information Department (PID), Lahore (@LahorePress) September 2, 2026
آتشزدگی کے نتیجے میں نرسری میں موجود 15 نومولود بچوں میں سے 14 جاں بحق ہوگئے تھے۔
واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آگ لگنے کی حتمی وجہ کا تعین نہ کرسکی، تاہم رپورٹ میں اندرونی برقی نظام یا کسی طبی آلات میں خرابی کو ممکنہ وجہ قرار دیا گیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں پمز میں فائر سیفٹی کے ناقص انتظامات، ہنگامی راستوں، انخلا کی منصوبہ بندی، ایمرجنسی اطلاع رسانی، آگ بجھانے کی تیاری، عملے کی حاضری اور اسپتال کے مختلف شعبوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان رابطے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
مزید پڑھیں: پمز آتشزدگی واقعہ: وزیراعظم کا ہنگامی اجلاس، غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو رعایت نہ دینے کا حکم
رپورٹ کے بعد وزیراعظم نے پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر سمیت 8 افسران کی معطلی کی منظوری دی۔
معطل ہونے والوں میں جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، شعبہ نوزائیدہ بچوں کے سینیئر افسران، سیکیورٹی حکام اور سی ڈی اے کی ایمرجنسی سروسز کے سربراہ شامل ہیں، وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو بھی سانحے کے فوری بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
بعد ازاں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 21 کے افسر کیپٹن (ر) محمد محمود کو 3 ماہ کے لیے یا مستقل سیکریٹری کی تعیناتی تک اضافی طور پر وفاقی سیکریٹری صحت مقرر کیا گیا۔
مزید پڑھیں: پمز میں 14 بچوں کی ہلاکت: ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری مقدمہ تاحال درج نہ ہوسکا
انہوں نے اس سے قبل پمز کے احاطے میں عارضی خیمہ دفتر قائم کرکے اسپتال کی کارکردگی، انتظامی مسائل اور مریضوں و ملازمین کی شکایات کی نگرانی شروع کی تھی۔
نئی ہدایت کے تحت وزیر صحت اور قائم مقام سیکریٹری صحت متبادل دنوں میں پمز میں موجود رہیں گے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ آتشزدگی کے ذمہ دار افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ ساتھ فوجداری کارروائی بھی کی جائے اور پمز سمیت دیگر سرکاری اسپتالوں میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
مزید پڑھیں: پمز سانحہ: وفاقی وزرا کی متاثرہ خاندان سے ملاقات، 50 لاکھ روپے کا چیک اور اظہارِ افسوس
پمز طویل عرصے سے کمزور انتظامی نگرانی، بکھرے ہوئے انتظامی اختیارات، عملے کی کمی، ناقص دیکھ بھال، خریداری میں تاخیر، سیکیورٹی مسائل اور ملازمین و مختلف پیشہ ور گروپس کے تنازعات کے باعث تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔
حکومت پمز کے انتظامی نظام میں وسیع تر اصلاحات پر بھی غور کر رہی ہے، جن میں اسپتال کے لیے ایک آزاد بورڈ آف گورنرز کا قیام بھی شامل ہے تاکہ انتظامی امور میں بہتری اور جوابدہی یقینی بنائی جاسکے۔
حکام کے مطابق مستقل انتظامی ڈھانچے کے لیے پارلیمنٹ سے قانون سازی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔













