امریکا میں شہریوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے پرائیویسی اور قومی سلامتی کے درمیان توازن پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
کیمروں، مصنوعی ذہانت، لائسنس پلیٹ ریڈرز اور دیگر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شہریوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کی جا رہی ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس وسیع نگرانی کے ممکنہ غلط استعمال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں اے آئی نگرانی کے کیمروں کے خلاف مزاحمت، متعدد کیمرے توڑ دیے گئے
نیویارک میں سرویلنس ٹیکنالوجی اوورسائٹ پروجیکٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مشیل ڈاہل کے مطابق شہر میں نگرانی کا نظام اس قدر وسیع ہے کہ عام شہری اس کی موجودگی محسوس بھی نہیں کرتا۔
نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کا ڈومین اویئرنیس سسٹم شہر بھر میں موجود 80 ہزار سے زائد کیمروں کو ڈرونز، سوشل میڈیا ڈیٹا اور گاڑیوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کرنے والے نظام سے جوڑتا ہے۔
US Senator Bernie Sanders will soon introduce a bill to completely ban Flock cameras.
If it passes, Flock and other AI mass surveillance systems will be banned in the US to protect people's privacy. pic.twitter.com/uGWBWHIsqj
— Pubity (@pubity) August 29, 2026
ڈاہل کے مطابق پولیس افسران اپنے موبائل فونز کے ذریعے اس نظام تک رسائی حاصل کرکے کسی بھی شخص کے بارے میں معلومات دیکھ سکتے ہیں، جن میں اس کی گزشتہ نقل و حرکت اور ملاقاتوں سے متعلق ڈیٹا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
نیویارک کی سڑکوں پر ایک مختصر سفر کے دوران درجنوں کیمروں کی نشاندہی کی گئی، جن میں دکانوں اور عمارتوں کے کیمروں کے علاوہ ایسے جدید سرکاری کیمرے بھی شامل ہیں جو کسی شخص کو زوم، پین اور ٹِلٹ کرکے مسلسل مانیٹر کر سکتے ہیں۔
بعض نجی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی پولیس تحقیقات کے دوران حاصل کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی یا منافع کا انقلاب؟ امریکی معیشت کے اعداد و شمار نے سوال اٹھا دیے
امریکا میں فلوک سیفٹی نگرانی کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے حالیہ عرصے میں شدید تنقید کا مرکز بنا ہے، کمپنی کے مطابق اس کے 6 ہزار سے زائد امریکی کمیونٹیز میں ایک لاکھ سے زیادہ کیمرے موجود ہیں اور اس کا نظام ماہانہ اربوں مرتبہ گاڑیوں کی اسکیننگ کرتا ہے۔
کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے گمشدہ افراد کی تلاش اور سنگین جرائم کی تحقیقات میں مدد ملتی ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے نظام غلط شناخت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ بعض پولیس اہلکاروں پر نگرانی کے نظام کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد متعدد شہروں نے فلوک کے ساتھ معاہدے ختم کیے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کا بے جا استعمال، نیویارک کے بعد لاس اینجلس کے اسکولوں میں بھی اے آئی پر پابندی
ماہرین شہریوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے علاقوں میں موجود نگرانی کے نظام سے آگاہ ہوں، اٹلس آف سرویلنس اور ڈی فلوک جیسے آن لائن نقشے شہریوں کو اپنے علاقوں میں نصب نگرانی کے کیمروں کی معلومات فراہم کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا زیادہ نگرانی واقعی معاشرے کو زیادہ محفوظ بناتی ہے یا اس کے نتیجے میں شہری آزادیوں اور پرائیویسی کو غیر ضروری خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ان کا ڈیٹا کہاں جمع ہو رہا ہے، کون اسے دیکھ سکتا ہے اور اسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
نیویارک میں ایک گھنٹے سے زائد وقت تک نگرانی کے کیمروں کے درمیان سفر کرنے والے صحافی کے مطابق آخرکار یہ احساس نمایاں ہوگیا کہ شہر میں شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں انسان کی نقل و حرکت کسی نہ کسی کیمرے کی نظر میں نہ ہو۔














