حریت رہنما یاسین ملک کی قید، اہلِ خانہ نڈھال، بیٹی رضیہ سلطان ذہنی صدمے کے باعث اسپتال منتقل

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جیل میں قید نامور حریت رہنما یاسین ملک کی تشویشناک صورتحال کے باعث ان کی صاحبزادی رضیہ سلطان شدید ذہنی صدمے کے باعث علیل ہو گئی ہیں، جس پر انہیں رات گئے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

 اس کڑے وقت میں یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر زیرِ علاج بیٹی کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے عوام سے ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعاؤں کی اپیل کی ہے۔

اسپتال منتقلی اور مشعال ملک کا جذباتی پیغام

واضح رہے کہ بھارتی جیل میں پابندِ سلاسل یاسین ملک کی صحت اور ان سے متعلق ملنے والی تشویشناک اطلاعات نے ان کے اہلِ خانہ کو شدید ذہنی دباؤ اور اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔

مسلسل صدمے اور پریشانی کے باعث گزشتہ رات دیر گئے ان کی بیٹی رضیہ سلطان کی حالت اچانک بگڑ گئی، جس کے بعد انہیں فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔

اس پریشان کن صورتحال پر یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک انتہائی جذباتی پوسٹ شیئر کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی عدالتوں پر عدم اعتماد: حریت رہنما یاسین ملک کا مقدمہ لڑنے سے انکار

انہوں نے اسپتال کے بیڈ پر لیٹی اپنی بیمار بچی کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ ‘جب پوری دنیا آپ کو تنہا چھوڑ دے، تو آپ کے لیے صرف اللہ کی ذات ہی کافی ہوتی ہے’۔ ساتھ ہی انہوں نے عوام سے التماس کی ہے کہ وہ رضیہ کی جلد مکمل صحتیابی کے لیے خصوصی دعا کریں۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اور ممتاز کشمیری مزاحمتی رہنما یاسین ملک کو بھارتی حکومت نے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات میں طویل عرصے سے بدنامِ زمانہ تہاڑ جیل میں قید کر رکھا ہے۔

سال 2022 میں ایک متنازع عدالتی ٹرائل کے ذریعے انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ جیل انتظامیہ کی جانب سے انہیں بنیادی طبی اور قانونی سہولیات سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی صحت انتہائی گر چکی ہے۔

والد پر ہونے والے ان مظالم اور ان کی زندگی کو لاحق خطرات نے ان کی کمسن بیٹی رضیہ سلطان پر گہرا نفسیاتی اثر ڈالا ہے، جو اپنے والد کی سلامتی کے لیے طویل عرصے سے شدید اضطراب کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں:یاسین ملک کو رواں ماہ ہی پھانسی دیے جانے کا خدشہ ہے، مشعال ملک

واضح رہے کہ بھارتی قید میں موجود نامور کشمیری حریت رہنما یاسین ملک نے بھارتی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خلاف درج تمام کیسز کی مزید پیروی اور مقدمہ لڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

یاسین ملک نے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل ایک مفصل حلف نامہ جمع کرایا ہے، جسے عدالت نے ان کے 24 اگست کے تحریری بیانات کے ساتھ باقاعدہ شہادت کا حصہ بنا لیا ہے۔

یاسین ملک نے اپنے حلف نامے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارتی حکومت 36 سال پرانے ایک من گھڑت اور جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے انہیں پھانسی دینے کی سازش مکمل کر چکی ہے۔

حلف نامے میں یاسین ملک نے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو طویل قید اور سزائے موت کے خدشات کی پریشان کن زندگی سے آزاد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک کا قریبی ساتھیوں اور کشمیری عوام کے نام خط، کیا پیغام دیا؟

انہوں نے مشعال ملک کی بہادری اور قربانی کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اپنی رفاقت سے آزاد کرنے کا اعلان کیا۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی بیٹی کو ہدایت کی کہ وہ اپنی دادی کا خیال رکھے اور ان کا غم ہلکا کرے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز اور حق سچ عدالت کے سامنے رکھ چکے ہیں اور اب اپنا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp