سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں مختلف کارروائیوں کے دوران 21 بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائیاں 3 سے 5 ستمبر کے دوران کی گئیں، جن میں شمالی وزیرستان، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کے قریب سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ایک گروپ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور کارروائی کرتے ہوئے 7 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 2 مختلف جھڑپوں کے دوران مزید 4 دہشتگرد مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب شمالی وزیرستان کے مقابل پاک افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 15 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا تھا، جس کے بعد علاقے میں چھپے مزید 10 دہشتگرد بھی مارے گئے اور اس کارروائی میں ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 25 ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر بار بار پیش آنے والے واقعات نے پاکستان کے اس مؤقف کو مزید تقویت دی ہے کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرزمین کو دہشتگرد تنظیموں کی جانب سے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان حکومت مؤثر بارڈر مینجمنٹ یقینی بنانے اور دہشتگردی کے خلاف اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے تاکہ وہاں موجود دیگر دہشتگردوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔ آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں بھی دونوں صوبے ملک میں بدامنی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جبکہ خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا۔














