امریکی بحریہ کا جوہری توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن تھائی لینڈ میں 5 روزہ قیام مکمل کرنے کے بعد اتوار کو روانہ ہوگیا۔
امریکی بحریہ کے مطابق یہ دورہ طویل عرصے سے جاری تعیناتی کے دوران بحری جہاز کے عملے کے لیے مختصر آرام کا موقع تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی طیارہ بردار بحری جہاز آرام اور تفریح کے لیے تھائی لینڈ پہنچ گیا
ابراہام لنکن کی حالیہ تعیناتی میں مشرق وسطیٰ میں مختلف بحری کارروائیاں بھی شامل رہی ہیں۔
جہاز کے کمانڈنگ آفیسر کیپٹن ڈین کیلر نے ایک بیان میں تھائی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تھائی لینڈ کی جانب سے شاندار میزبانی پر خوشی ہے۔
Latest Visuals ⚡️:
USS Abraham Lincoln (CVN-72) Aircraft carrier wraps visit to Laem Chabang Port, Thailand returning back to South China Enroute towards San Diego pic.twitter.com/9wrE4r3iSY
— OSINT Digest (@Indowatchosint) September 6, 2026
امریکی بحریہ کے مطابق عام طور پر بحری جہازوں کی تعیناتی کا دورانیہ 6 سے 9 ماہ تک ہوتا ہے، تاہم جنگ یا مسلح تنازع کی صورت میں یہ مدت مزید بڑھ سکتی ہے۔
تقریباً 5 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ابراہام لنکن ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی بحری ناکہ بندی اور جنگی کارروائیوں میں بھی شریک رہا۔
مزید پڑھیں : تھائی لینڈ اور سنگاپور کے وزرائے اعظم کی میوزیکل ڈپلومیسی، ویڈیو وائرل
امریکی ڈیموکریٹک ارکانِ کانگریس کے مطابق اس جہاز نے مسلسل کئی روز تک سمندر میں رہنے کا جدید دور کا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
ابراہام لنکن دیگر امریکی بحری جہازوں کے ہمراہ بدھ کی صبح تھائی لینڈ پہنچا تھا، تھائی لینڈ سرزمین جنوب مشرقی ایشیا میں امریکا کا واحد معاہداتی اتحادی ملک ہے۔

جہاز کے بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کے فوراً بعد بڑی تعداد میں امریکی ملاح اور میرینز شہری لباس میں تھائی شہر پتایا کے ایک ہوٹل پہنچنا شروع ہوگئے۔
پتایا دارالحکومت بینکاک سے تقریباً 150 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع معروف سیاحتی شہر ہے۔
امریکی اہلکاروں کی آمد کے دوران کئی ملاح مسکراتے اور ہاتھ ہلا کر مقامی لوگوں کا خیرمقدم کرتے دکھائی دیے۔
اپنے 5 روزہ قیام کے دوران امریکی بحری اہلکاروں کو طویل تعیناتی کے بعد آرام اور تفریح کا موقع ملا۔














