خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کو قانون سازی کے لیے مزید 3 ہفتوں کی مہلت دے دی، جبکہ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانا ہوں گے۔
مزید پڑھیں:الیکشن کمیشن میں اے آئی ونگ قائم کرنے کا فیصلہ، دسمبر تک ای آفس نافذ ہوگا
ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے 4 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے 7 اضلاع میں حلقہ بندیوں کا عمل تعطل کا شکار ہے۔
اسپیشل سیکریٹری کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت صوبے میں بلدیاتی انتخابات ایک ہی مرحلے میں کرانا چاہتی ہے، جبکہ گزشتہ سماعت میں چیف سیکریٹری نے قانون سازی کے لیے 3 ہفتوں کا وقت مانگا تھا۔
سیکریٹری لوکل گورنمنٹ نے بتایا کہ صوبائی کابینہ کی تشکیل کردہ کمیٹی نے دیگر صوبوں کے بلدیاتی نظام کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔
ممبر بلوچستان الیکشن کمیشن نے ریمارکس دیے کہ خیبرپختونخوا حکومت تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، جبکہ ممبر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ کمیشن کو وزیراعلیٰ کو طلب کرنا پڑے۔
مزید پڑھیں:الیکشن کمیشن کی قائد حزب اختلاف کے اثاثوں سے متعلق کیس زیر سماعت ہونے کی خبروں کی تردید
ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات تو کرانا پڑیں گے، الیکشن کمیشن کے پاس اس حوالے سے بہت سے آئینی راستے موجود ہیں۔
چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا نے بتایا کہ متعلقہ کمیٹی قانون میں ترامیم پر غور کر رہی ہے۔
الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا حکومت کو قانون سازی کے لیے 3 ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کردی۔














