پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز کاروباری سرگرمیوں کے دوران شدید مندی دیکھی گئی جہاں انڈیکس انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران 1900 پوائنٹس سے گرگیا۔
کاروبار کے دوران بینچ مارک کے ایس سی 100 انڈیکس میں 1,904.31 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد انڈیکس 1.10 فیصد کمی کے ساتھ 171,731.76 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مثبت آغاز کے باوجود اسٹاک مارکیٹ گراوٹ کا شکار، انڈیکس میں 1,300 پوائنٹس سے زائد کمی
کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔
نیشنل بینک، میزان بینک، پاکستان آئل فیلڈز، ماری پیٹرولیم، پاکستان اسٹیٹ آئل اور یونائیٹد بینک جیسے انڈیکس پر بھاری اثر رکھنے والے حصص منفی زون میں کاروبار کرتے رہے۔
Market is down at midday 👇
⏳ KSE 100 is negative by -495.91 points (-0.29%) at midday trading. Index is at 173,140.17 and volume so far is 90 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/alrE0zpGMM— Investify Pakistan (@investifypk) September 8, 2026
اس سے ایک روز قبل پیر کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید فروخت کا رجحان رہا تھا اور تقریباً تمام بڑے شعبے دباؤ کا شکار رہے تھے۔
سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی اور کمرشل بینکوں، تیل و گیس اور سیمنٹ کے شعبوں میں بڑھتی ہوئی فروخت کے باعث انڈیکس 1,692.74 پوائنٹس یعنی 0.97 فیصد کمی کے بعد 173,636.08 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
دوسری جانب عالمی منڈیوں میں بھی سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے۔ منگل کو جاپانی ین کی قدر میں اضافہ ہوا جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس سمت کے تعین میں مشکلات کا شکار رہیں۔
مزید پڑھیں: 27 سرکاری اداروں کی نجکاری پر پیش رفت، وزیراعظم نے اہداف بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کر دی
خطے کے ملے جلے معاشی اعداد و شمار اور خلیج فارس میں ایران کی تازہ دھمکیوں کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور بانڈز کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔
جاپان کا نکی 225 انڈیکس اتار چڑھاؤ کے بعد 0.2 فیصد اضافے پر بند ہوا، جبکہ ین کی قدر میں 0.6 فیصد تک اضافہ ہوا اور یہ 153.51 فی ڈالر تک پہنچ گیا، جو 18 فروری کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.2 فیصد بڑھا، جس میں جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس کا 1.2 فیصد اضافہ نمایاں رہا۔

امریکا میں پیر کو تعطیل کے بعد S&P 500 ای منی فیوچرز 0.1 فیصد نیچے رہے، ادھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ہوا۔
ایشیائی مارکیٹ میں کاروبار بحال ہونے پر برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 0.04 فیصد اضافے سے 97.04 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ سرمایہ کاری کے لیے بہترین جگہ کیوں ہے؟
پیر کو ایران کی جانب سے امریکا کے مزید حملوں کا جواب دینے کی دھمکی کے بعد برینٹ کی قیمت 6 ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
ایران نے خبردار کیا تھا کہ کسی نئے حملے کی صورت میں خلیج بھر میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، بشمول امریکی تیل و گیس کے مفادات، کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔














