دہلی میں بانجھ پن کے علاج کے دوران 26 سالہ شخص کے جسم میں رحم کی موجودگی کا انکشاف

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں بانجھ پن کے معائنے کے دوران 26 سالہ شادی شدہ شخص کے جسم میں رحم، فیلوپین ٹیوبز اور غیر معمولی طور پر نشوونما پانے والے خصیوں کی موجودگی کا نایاب طبی کیس سامنے آیا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق مذکورہ شخص کی شادی کو تقریباً 2 سال ہوچکے تھے اور وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ اولاد کے خواہش مند تھے، تاہم کافی عرصے کی کوشش کے باوجود حمل نہ ٹھہرنے پر دونوں نے دہلی کے راجوری گارڈن میں واقع آر جی اسپتال سے رجوع کیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق خاتون کے طبی معائنے کی رپورٹس معمول کے مطابق آنے کے بعد شوہر کے طبی معائنے پر توجہ دی گئی۔ مریض میں مردانہ جسمانی خصوصیات معمول کے مطابق تھیں، تاہم دونوں خصیے اپنی معمول کی جگہ پر موجود نہیں تھے۔

طبی ماہرین نے مزید ٹیسٹ کیے تو منی کے تجزیے میں اسپرم کی عدم موجودگی، یعنی ایزو اسپرمیا، سامنے آئی۔ ہارمون ٹیسٹ میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح معمول کے مطابق جبکہ ایف ایس ایچ اور ایل ایچ کی سطح بلند پائی گئی۔

پیٹ کے الٹراساؤنڈ کے بعد ایم آر آئی کی گئی، جس میں پیٹ کے اندر رحم اور فیلوپین ٹیوبز سے ملتی جلتی ساختوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ جینیاتی معائنے میں مریض کا کروموسومل پیٹرن 46، ایکس وائی پایا گیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق مریض کو ’پرسیسٹنٹ مولیرین ڈکٹ سنڈروم‘ نامی ایک انتہائی نایاب پیدائشی کیفیت لاحق تھی، جس میں مردانہ جسم میں رحم اور فیلوپین ٹیوبز جیسی ساختیں موجود رہ سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی کی مدد سے پوشیدہ ’خزانے‘ کی کامیاب تلاش، بانجھ مردوں کے لیے اچھی خبر

ماہرین نے ممکنہ کینسر کے خطرے کے پیش نظر پیچیدہ سرجری کی، جس کے بعد نکالے گئے ٹشوز کے معائنے میں ایک خصیے میں کینسر سے قبل کی تبدیلیاں بھی سامنے آئیں۔

ڈاکٹر سشیل کھر بندا نے بچوں میں خصیوں کے معمول کی جگہ پر نہ اترنے کی صورت میں بروقت طبی معائنہ کرانے اور بانجھ پن کی صورت میں میاں بیوی دونوں کے طبی معائنے پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp