شفیع جان کی ویڈیو وائرل، شہدا کی توہین سے پی ٹی آئی یوٹیوبرز کے کمائے ڈالرز لانگ مارچ کے لیے استعمال کرنے کا انکشاف

ہفتہ 12 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ یوٹیوبرز کی جانب سے شہدا کی توہین اور پاک فوج مخالف پروپیگنڈا کرکے کمائے جانے والے ڈالرز لانگ مارچ کے لیے بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شفیع جان نے ویڈیو پیغام کے ذریعے سوشل میڈیا اور یوٹیوب کے پلیٹ فارمز پر سرگرم اوورسیز یوتھیا یوٹیوبرز سے لانگ مارچ کے لیے مالی معاونت طلب کی ہے۔

شفیع جان نے انکشاف کیا ہے کہ بیرون ملک بیٹھے ’یوتھیا یوٹیوبرز‘ طویل عرصے سے عمران خان کا نام استعمال کر کے اور ملکی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کر کے پیسہ کما رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق شفیع جان کے ویڈیو پیغام اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ بیرون ملک ’یوتھیا یوٹیوبرز‘کو ملنے والا مواد اور ہدایات پاکستان دشمن حلقوں کی جانب سے واٹس ایپ کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں، جنہیں منظم انداز میں نیٹ ورک کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

شہدا کی توہین کا کاروبار

شفیع جان کی ویڈیو کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تمام معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ آمدنی عام یا تعمیری مواد سے حاصل نہیں کی جا رہی، بلکہ شہدا کی توہین، مسلح افواج کو بدنام کرنے اور اپنے ہی ملک کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنے کے عوض کمائی جا رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ یوٹیوبرز نے ملک اور اداروں کی تذلیل کو ایک منافع بخش تجارتی ذریعہ بنا لیا گیا ہے اور اب اسی ذرائع سے حاصل ہونے والی رقم کو مبینہ طور پر ملکی سیاسی احتجاج اور احتجاجی تحریکوں کی سہولت کاری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

قومی سلامتی کے تناظر میں اٹھنے والے سوالات

ان سنگین الزامات کے بعد عوامی اور فکری حلقوں میں یہ بنیادی سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ غیر ملکی ڈالرز، اوورسیز یوٹیوب نیٹ ورک، پاکستان دشمن بیانیہ اور لانگ مارچ کے مالیاتی ذرائع آخرکار کہاں جا کر آپس میں ملتے ہیں؟

کیا سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے قومی سلامتی اور شہدا کی قربانیوں کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حساس امور پر سیاسی نعرے بازی کے بجائے اب ٹھوس اور واضح وضاحت کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو سیاسی مقاصد اور بعض اوقات ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ سازی کے لیے استعمال کرنے کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

دفاعی اور سیاسی مبصرین کے مطابق بیرونِ ملک سے چلنے والے ایسے نیٹ ورکس جن کی مالی بنیادیں ملک مخالف مواد اور اداروں کی تنقید پر استوار ہوں، قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔

اس نوعیت کے مالیاتی اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس پر قابو پانے کے لیے متعلقہ اداروں کی طرف سے بھی نگرانی سخت کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp