خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ یوٹیوبرز کی جانب سے شہدا کی توہین اور پاک فوج مخالف پروپیگنڈا کرکے کمائے جانے والے ڈالرز لانگ مارچ کے لیے بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شفیع جان نے ویڈیو پیغام کے ذریعے سوشل میڈیا اور یوٹیوب کے پلیٹ فارمز پر سرگرم اوورسیز یوتھیا یوٹیوبرز سے لانگ مارچ کے لیے مالی معاونت طلب کی ہے۔
شفیع جان نے انکشاف کیا ہے کہ بیرون ملک بیٹھے ’یوتھیا یوٹیوبرز‘ طویل عرصے سے عمران خان کا نام استعمال کر کے اور ملکی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کر کے پیسہ کما رہے ہیں۔
اوورسیز جو عمران خان کے نام پر وی لاگ کرتے اور عمران خان کے نام پر ڈالر کماتے ہیں ان سے اپیل کی تھی کہ اگر آپ پاکستان لانگ مارچ کے لئے آ نہیں سکتے تو عمران خان کے نام پر آپ نے لاکھوں ڈالر کمائے ان میں سے لانگ مارچ کے لئے پیسے جمع کرائیں، شفیع جان pic.twitter.com/swofkH8oDr
— Ali Tanoli (@alitanoli889) September 12, 2026
ذرائع کے مطابق شفیع جان کے ویڈیو پیغام اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ بیرون ملک ’یوتھیا یوٹیوبرز‘کو ملنے والا مواد اور ہدایات پاکستان دشمن حلقوں کی جانب سے واٹس ایپ کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں، جنہیں منظم انداز میں نیٹ ورک کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔
شہدا کی توہین کا کاروبار
شفیع جان کی ویڈیو کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تمام معاملے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ آمدنی عام یا تعمیری مواد سے حاصل نہیں کی جا رہی، بلکہ شہدا کی توہین، مسلح افواج کو بدنام کرنے اور اپنے ہی ملک کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنے کے عوض کمائی جا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ یوٹیوبرز نے ملک اور اداروں کی تذلیل کو ایک منافع بخش تجارتی ذریعہ بنا لیا گیا ہے اور اب اسی ذرائع سے حاصل ہونے والی رقم کو مبینہ طور پر ملکی سیاسی احتجاج اور احتجاجی تحریکوں کی سہولت کاری کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
قومی سلامتی کے تناظر میں اٹھنے والے سوالات
ان سنگین الزامات کے بعد عوامی اور فکری حلقوں میں یہ بنیادی سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ غیر ملکی ڈالرز، اوورسیز یوٹیوب نیٹ ورک، پاکستان دشمن بیانیہ اور لانگ مارچ کے مالیاتی ذرائع آخرکار کہاں جا کر آپس میں ملتے ہیں؟
شہداء کی توہین اور پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرکے ڈالر کمانے والے یوٹیوبرز سے لانگ مارچ کی مالی معاونت کی اپیل
اگر یہ ڈالر پاکستان مخالف بیانیے سے کمائے گئے اور پھر اسی احتجاجی تحریک کے لیے استعمال ہوئے تو سوال صرف فنڈنگ کا نہیں، اس پورے نیٹ ورک کی وضاحت کا ہے۔
غیر ملکی ڈالر،… pic.twitter.com/e6mFjCAjYd
— Khawaja Yaseen Usmani (@YaseenUSM_Offl) September 12, 2026
کیا سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے قومی سلامتی اور شہدا کی قربانیوں کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے حساس امور پر سیاسی نعرے بازی کے بجائے اب ٹھوس اور واضح وضاحت کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو سیاسی مقاصد اور بعض اوقات ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ سازی کے لیے استعمال کرنے کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
دفاعی اور سیاسی مبصرین کے مطابق بیرونِ ملک سے چلنے والے ایسے نیٹ ورکس جن کی مالی بنیادیں ملک مخالف مواد اور اداروں کی تنقید پر استوار ہوں، قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔
اس نوعیت کے مالیاتی اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس پر قابو پانے کے لیے متعلقہ اداروں کی طرف سے بھی نگرانی سخت کی جا رہی ہے۔














