جنوبی کوریا کی معروف کار ساز کمپنی ‘ہونڈائی موٹر گروپ’ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی تیار کردہ ڈرائیور اسسٹنس سافٹ ویئر پر مبنی گاڑیاں اب منصوبہ بندی سے 2 سال کی تاخیر کے ساتھ 2029 کے آخر میں متعارف کرائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: مکھی کا دماغ خودکار گاڑیوں میں استعمال ہوسکتا ہے، برطانوی تحقیق نے نیا راستہ دکھا دیا
اس دوران عبوری دور میں اس ٹیکنالوجی کی فراہمی کو تیز کرنے کے لیے امریکی چِپ میکر کمپنی اینویڈیا کا سہارا لیا جائے گا۔
ہونڈائی کے ایگزیکٹو کے مطابق کمپنی اینویڈیا کے ساتھ مل کر سنہ 2028 میں جدید ڈرائیور اسسٹنس سسٹم پیش کرے گی جنہیں ہائی وے ڈرائیونگ اور شہری علاقوں کی پیچیدہ ڈرائیونگ کہا جاتا ہے۔
ان ہاؤس خودکار ڈرائیونگ سسٹم کی تیاری میں پیش آنے والی دشواریوں نے ٹیسلا اور چینی حریف کمپنیوں سے پیچھے رہ جانے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ پہلے یہ ٹیکنالوجی 2027ء کے آخر میں لانچ کی جانی تھی۔
مزید پڑھیے: فرانس نے الیکٹرک گاڑیاں چارج کرنے والی دنیا کی پہلی موٹروے متعارف کروا دی
ہونڈائی کے پریذیڈنٹ پارک مِن وو نے وضاحت کی کہ اینویڈیا کے ساتھ ہماری شراکت داری کا مطلب اپنی قسمت ان کے ہاتھ میں دینا نہیں ہے۔ ہونڈائی مشترکہ ڈیزائن تیار کرے گی اور اس ڈیٹا کو اپنے ذاتی سافٹ ویئر پلیٹ فارم کی بہتری اور تربیت کے لیے استعمال کرے گی۔
تکنیکی خصوصیات اور مستقبل کے منصوبے
سینسرز اور کیمروں کا استعمال: اینویڈیا کے پلیٹ فارم پر چلنے والی ہیونڈائی گاڑیاں فی الحال مہنگے ‘لیڈار‘ سینسرز کے بجائے کیمروں، الٹراسونک سینسرز اور ریڈار پر انحصار کریں گی۔ تاہم لیول 3 خودکار ڈرائیونگ کے لیے سیکیورٹی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے لیڈار کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے۔
دنیا کی تیسری بڑی کار ساز کمپنی ہونڈائی اور کیار مل کر سالانہ 70 لاکھ سے زائد گاڑیاں بیچتی ہیں۔ ہونڈائی اپنی عالمی گاڑیوں کے ذریعے ڈیٹا اکٹھا کرے گی۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ 2033 تک وہ جمع شدہ ڈرائیونگ ڈیٹا کے معاملے میں تمام حریفوں کو پیچھے چھوڑ دے گی۔
مزید پڑھیں: چین کی خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی دنیا بھر کی سڑکوں پر نئی رفتار سے رواں دواں
ہونڈائی اور اینویڈیا کے درمیان یہ تعاون صرف خودکار ڈرائیونگ تک محدود نہیں بلکہ اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور ہیونڈائی کی ذیلی کمپنی ‘بوسٹن ڈائنامکس’ کے ہیوما نائڈ روبوٹس کی تیاری تک پھیلا ہوا ہے۔














