انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 0-3 سے عبرتناک شکست کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم آئی سی سی کی تازہ ترین ٹیسٹ رینکنگ میں تنزلی کے بعد تاریخ کی بدترین 9یں پوزیشن پر چلی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ٹیسٹ کرکٹ میں ناپسندیدہ ریکارڈ کا شکار، بیرونِ ملک مسلسل آٹھویں شکست
تازہ ترین درجہ بندی میں ویسٹ انڈیز ایک درجے ترقی کے ساتھ آٹھویں نمبر پر آ گیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان 9ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔ آسٹریلیا رینکنگ میں پہلے نمبر پر براجمان ہے جبکہ سیریز جیتنے کے باوجود انگلینڈ کی ٹیم 5چویں نمبر پر برقرار ہے۔
انگلینڈ نے ہیڈنگلے، لارڈز اور ایج بیسٹن ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز میں کلین سویپ مکمل کیا۔
ہیڈنگلے میں اننگز اور 103 رنز اور لارڈز میں 194 رنز سے شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسکواڈ میں بڑا آپریشن کرتے ہوئے 7 کھلاڑیوں کو فارغ کر دیا۔
اسکواڈ میں رضا اللہ، عرفات منہاس، عمران رندھاوا، محمد عمران جونیئر اور سعد بیگ جیسے 5 ان کیپڈ کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا جبکہ ریڈ بال کوچز سرفراز احمد اور عمر گل کو ہٹا کر وائٹ بال کوچز مائیک ہیسن اور ایشلی نوفکے کو ذمہ داریاں دی گئیں۔
مزید پڑھیے: انگلینڈ کے ہاتھوں وائٹ واش کے بعد ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان کی پوزیشن کیا ہے؟
تاہم ان تبدیلیوں کے باوجود ایج بیسٹن کے آخری ٹیسٹ میں انگلینڈ نے 130 رنز کا ہدف 8 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے پاکستان کو سیریز میں وائٹ واش کر دیا۔
قومی ٹیم ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ پوائنٹس ٹیبل پر بھی سب سے نیچے
ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ (ڈبلیو ٹی سی) میں بھی پاکستان اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے (آخری) نمبر پر ہے جس نے 9 میں سے صرف 2 میچز جیتے ہیں اور اس کے پوائنٹس کا تناسب صرف 14.81 فیصد ہے۔
گرین شرٹس نے اپنے آخری 20 ٹیسٹ میچوں میں سے صرف 7 میں فتح حاصل کی ہے اور آخری 12 ٹیسٹ سیریز میں سے 6 میں کلین سویپ کا سامنا کیا ہے۔
واحد مثبت پہلو: فاسٹ بولر رضا اللہ کا شاندار ڈیبیو
اس مایوس کن سیریز میں پاکستان کے لیے واحد روشن پہلو فاسٹ بولر رضا اللہ کی کارکردگی رہی۔ انہوں نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں 140 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے بولنگ کرتے ہوئے جو روٹ کی اہم وکٹ سمیت 4 شکار کیے۔
مزید پڑھیں: رضا اللہ کا شاندار ٹیسٹ ڈیبیو: 90 سے زائد رنز اور 4 وکٹوں کے ساتھ خاص فہرست میں شامل
اس کے علاوہ انہوں نے بلے بازی میں بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے صرف 63 گیندوں پر 81 رنز (4 چوکے اور 9 چھکے) کی دھواں دھار اننگز کھیلی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئی سی سی کی روایتی ‘ٹیسٹ رینکنگ’ اور ‘ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ (ڈبلیو ٹی سی پوائنٹس ٹیبل’ 2 بالکل مختلف اور الگ نظام ہیں۔
آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ دراصل کسی بھی ٹیم کی پچھلے 3 سے 4 سال کی مجموعی اور طویل المدتی کارکردگی کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں ٹیم کے ‘ریٹنگ پوائنٹس’ کی بنیاد پر درجہ بندی طے کی جاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ پرانی سیریز کے پوائنٹس کا اثر کم ہوتا جاتا ہے۔ اس رینکنگ میں نچلے درجے پر جانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ٹیم طویل عرصے سے ٹیسٹ فارمیٹ میں مسلسل زوال کا شکار ہے۔
اس کے برعکس ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا پوائنٹس ٹیبل کسی بھی فٹ بال لیگ یا ورلڈ کپ کے ٹیبل کی طرح کام کرتا ہے جس کا دورانیہ صرف 2 سال کے مخصوص سائیکل پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر 2 سال بعد تمام ٹیموں کے پوائنٹس دوبارہ صفر سے شروع ہوتے ہیں اور اس میں صرف اسی سائیکل کے دوران کھیلی جانے والی سیریز کے پوائنٹس شامل کیے جاتے ہیں۔ اس ٹیبل میں رینکنگ کا فیصلہ میچز جیتنے کے فیصد پی سی ٹی پر کیا جاتا ہے اور 2 سالہ مدت کے اختتام پر پوائنٹس ٹیبل کی ٹاپ 2 ٹیمیں فائنل کھیل کر ٹیسٹ چیمپیئن بنتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کرکٹ میں انگلینڈ سے اچھی خبر بھی: عبدالقادر کی شاندار سینچری، پاکستان انڈر 19 نے میزبان ٹیم کیخلاف ون ڈے122 رنز سے جیت لیا
الغرض آئی سی سی رینکنگ میں 9ویں نمبر پر جانا پاکستان کی گزشتہ چند سالوں کی مجموعی ناکامیوں اور مسلسل سیریز ہارنے کا نتیجہ ہے جبکہ پوائنٹس ٹیبل میں سب سے آخری پوزیشن پر ہونا موجودہ 2 سالہ سائیکل میں ٹیم کی بدترین کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان دونوں عالمی درجہ بندیوں میں ایک ساتھ بدترین سطح پر پہنچنا قومی ٹیسٹ کرکٹ کے درپیش سنگین بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔














