ملک میں گندم کے بحران نے ایک مرتبہ پھر سنگین صورتِ حال اختیار کر لی ہے۔ رواں سال تقریباً ایک کروڑ 64 لاکھ ایکڑ رقبے پر گندم کی کاشت اور مجموعی پیداوار کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں گندم کی قلت اور آٹے کے نرخوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔
صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ وفاقی حکومت نے 7 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جبکہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے عالمی سپلائرز سے گندم کی خریداری کے لیے بین الاقوامی ٹینڈر بھی جاری کر دیا ہے۔
پیداواری اہداف اور حقائق کا تضاد
ماہرین اور کسان نمائندوں کے مطابق موجودہ بحران کو محض گندم کی پیداوار میں کمی قرار دینا مسئلے کی مکمل تصویر نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب گندم کا زیرِ کاشت رقبہ وسیع رہا اور مجموعی پیداوار بھی کروڑوں ٹن بتائی جا رہی ہے، تو پھر ملک کو اتنی جلدی گندم درآمد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہ بھی پڑھیں:صوبوں کے درمیان گندم کی ترسیل پر پابندیاں، بلوچستان میں آٹے کا شدید بحران، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال ملک میں گندم کی پیداوار تقریباً 2 کروڑ 98 لاکھ سے 3 کروڑ 13 لاکھ ٹن کے درمیان رہنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ تاہم دوسری جانب صوبوں کی ضروریات، سرکاری ذخائر کی محدود دستیابی، نجی شعبے کی طلب، ذخیرہ اندوزی اور بین الصوبائی ترسیل کے مسائل نے طلب و رسد کا توازن مکمل طور پر بگاڑ دیا۔
فی ایکڑ پیداوار میں تشویشناک کمی
کسانوں کے مطابق رواں سال گندم کی مجموعی پیداوار سے زیادہ تشویشناک صورتِ حال ’فی ایکڑ پیداوار‘ میں کمی کی ہے۔ خصوصاً جنوبی پنجاب کے متعدد علاقوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں فی ایکڑ پیداوار میں 7 سے 8 من، جبکہ بعض علاقوں میں 8 سے 10 من تک کمی رپورٹ کی گئی ہے۔
پاکستان کسان اتحاد کے سربراہ خالد محمود کھوکھر کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں فی ایکڑ پیداوار میں 5، 8 اور بعض مقامات پر 10 من تک کی کمی سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق اس پیداواری خسارے کی ایک اہم وجہ کاشتکار کی جانب سے کھادوں کا غیر متوازن استعمال ہے۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ مہنگی زرعی مداخل کے باعث کاشتکاروں نے فاسفورس اور پوٹاش جیسی انتہائی ضروری کھادوں کا استعمال کم کر کے نسبتاً سستی نائٹروجن پر زیادہ انحصار کیا، جس سے فصل کی مجموعی صحت، دانے کی بھرائی اور فی ایکڑ پیداوار شدید متاثر ہوئی۔ یعنی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ گندم کم رقبے پر کاشت ہوئی، بلکہ کاشت کی گئی زمین سے مطلوبہ پیداوار حاصل نہ ہو سکی۔
زرعی مداخل کی بڑھتی قیمتیں اور متوازن کھاد کا فقدان
کاشتکاروں کے مطابق گندم کی لاگت میں مسلسل اضافے کے باعث کسان کے لیے متوازن کھاد، معیاری بیج، زرعی ادویات اور دیگر ضروری مداخل کا استعمال مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق گندم جیسی فصل میں صرف نائٹروجن کے استعمال سے مطلوبہ پیداوار حاصل نہیں ہوتی۔ فاسفورس، پوٹاش اور دیگر غذائی اجزا کا متوازن استعمال فصل کی جڑوں کی مضبوطی، پودے کی نشوونما اور دانے کی تشکیل کے لیے ناگزیر ہے۔ جب کسان اخراجات کم کرنے کے لیے ان مداخل میں کمی کرتا ہے تو فی ایکڑ پیداوار کا متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔
مزید پڑھیں:نگراں دور حکومت میں گندم کی درآمد سے کاشتکار بحران سے دوچار ہوا، وزیر خوراک پنجاب بلال یاسین
ایک طرف حکومت پیداوار بڑھانے کے لیے رقبہ بڑھانے پر توجہ دیتی رہی، مگر دوسری طرف فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے بنیادی عوامل، خصوصاً معیاری بیج، متوازن کھاد اور بروقت زرعی مداخل کسان کی پہنچ سے دور اور مہنگے ہوتے چلے گئے۔
ناقص سرکاری خریداری اور کسانوں کا معاشی استحصال
کسانوں کی مشکلات کا دوسرا اہم پہلو گندم کی خریداری اور قیمت کے تعین کا ہے۔ حکومت کی جانب سے گندم کا نرخ 3500 روپے فی من مقرر کیے جانے کے باوجود، کسانوں کا کہنا ہے کہ کٹائی کے آغاز پر اوپن مارکیٹ میں انہیں اپنا اناج تقریباً 2800 روپے فی من کے حساب سے فروخت کرنا پڑا۔
بعد ازاں مارکیٹ میں یہ قیمت 2900، 3000 روپے اور پھر تقریباً 3200 سے 3250 روپے فی من تک پہنچی۔ مگر کسان نمائندوں کے مطابق یہ قیمت بھی ان کی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے مقابلے میں ہرگز تسلی بخش نہیں تھی اور اب مارکیٹ میں اسی گندم کی قیمت 5 ہزار روپے فی من تک جا پہنچی ہے۔
اس ظالمانہ صورتِ حال نے کسان کو دہرے دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ ایک طرف کھاد، بیج، ڈیزل اور دیگر زرعی اخراجات بڑھ گئے، تو دوسری طرف اسے اپنی پیداوار کی مناسب قیمت بروقت نہ مل سکی۔
بروقت خریداری کا فقدان اور بین الصوبائی پابندیاں
گندم بحران کی ایک بڑی وجہ حکومت کی جانب سے بروقت اور مؤثر سرکاری خریداری کا نہ ہونا بھی قرار دی جا رہی ہے۔ کسان اتحاد کے رہنما خالد کھوکھر کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت فصل کی کٹائی کے موقع پر واضح خریداری پالیسی مرتب کرتی اور مؤثر خریداری مراکز فراہم کرتی، تو گندم کا بڑا حصہ منظم سرکاری ذخائر میں آ جاتا۔
مگر سرکاری خریداری کے عمل میں تاخیر اور پالیسی کی غیر یقینی کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں کے تعین کا اختیار مختلف نجی قوتوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں موجودہ بحران کی بنیاد پڑی، کسان کو فصل کی مناسب قیمت نہ ملی، حکومت مطلوبہ مقدار میں خریداری نہ کر سکی اور بعد میں جب مارکیٹ میں طلب بڑھی تو گندم کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔
اس کے علاوہ گندم کے موجودہ بحران میں صوبوں کے درمیان گندم کی نقل و حرکت پر پابندی بھی ایک سنگین مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے پنجاب سے بین الصوبائی سطح پر گندم کی نقل و حرکت آسان بنانے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم پنجاب حکومت نے اپنی مقامی ضروریات کا جواز پیش کرتے ہوئے یہ درخواست مسترد کر دی۔
اس صورتِ حال نے ملک میں گندم کے غیر مساوی جغرافیائی ذخائر کا مسئلہ مزید نمایاں کر دیا۔ جہاں ایک صوبے میں گندم دستیاب تھی، وہاں سے دوسرے صوبے تک اس کی آزادانہ اور بروقت ترسیل نہ ہونے کے باعث مقامی سطح پر قلت کا تاثر مضبوط ہوا اور قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔
صوبوں کی بڑھتی طلب اور وفاق پر دباؤ
موجودہ بحران کی شدت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ تینوں صوبوں نے وفاقی حکومت سے گندم کی فراہمی کی ہنگامی درخواست کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب نے وفاقی ذخائر سے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم طلب کی ہے، جبکہ سندھ نے پاسکو کے گوداموں سے 2 لاکھ 20 ہزار ٹن گندم مانگی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا نے سرکاری ضروریات کے لیے 1 لاکھ ٹن، جبکہ نجی شعبے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مزید 7 لاکھ ٹن گندم کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے برعکس، وفاقی ذخائر پہلے ہی محدود ہیں، جس کے باعث وفاقی حکومت کے لیے صوبوں کی یہ بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں گندم کا بحران، حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟
اس ضمن میں وفاقی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے 7 لاکھ میٹرک ٹن درآمدی گندم کے منصوبے کے تحت، صوبوں کی طلب اور ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تقسیم کی جائے گی۔ مجوزہ تقسیم کے مطابق سندھ کو 3 لاکھ میٹرک ٹن، پنجاب کو اڑھائی لاکھ میٹرک ٹن اور خیبر پختونخوا کو 2 لاکھ میٹرک ٹن گندم فراہم کی جائے گی۔
آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور ملز مالکان کا مؤقف
ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے مطابق عالمی منڈی سے درآمد کی جانے والی گندم تازہ ترین فصل سے حاصل شدہ ہونی چاہیے، جس کے لیے بین الاقوامی سپلائرز کو ٹینڈر جاری کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب گندم کے نرخ میں اضافے کے اثرات اب براہِ راست صارفین تک پہنچ چکے ہیں اور فلور ملز نے آٹے کے نرخ بڑھا دیے ہیں۔
کراچی میں آٹا 15 روپے اضافے کے بعد 145 روپے فی کلو، جبکہ ریٹیل مارکیٹ میں تقریباً 160 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے۔ فائن آٹے کی قیمت میں بھی 13 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے اور ریٹیل میں یہ تقریباً 175 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ چکی کے آٹے کی قیمت بھی 10 روپے اضافے کے بعد 180 روپے فی کلو، جبکہ گندم کی قیمت 15 روپے اضافے کے بعد 130 روپے فی کلو تک رپورٹ کی گئی ہے۔
فلور ملز کا مؤقف ہے کہ مہنگی گندم خرید کر سرکاری نرخ پر آٹا فروخت کرنا کسی صورت ممکن نہیں، اس لیے حکومت کو فوری طور پر گندم درآمد کر کے مارکیٹ میں دستیابی بہتر بنانا ہوگی۔ فلور ملز نے حکومت سے 20 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔
بلوچستان میں بحران کے اثرات اور حکومت کے ہنگامی اقدامات
گندم کے اس بحران کے اثرات بلوچستان تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں گزشتہ ایک سے دو ماہ کے دوران آٹے کی قیمت میں تقریباً 15 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔ ’110 سے 115 روپے فی کلو فروخت ہونے والا آٹا اب تقریباً 130 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے‘۔
اس تشویشناک صورتِ حال کے پیشِ نظر بلوچستان حکومت نے گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق صوبائی کابینہ نے پاسکو سے 5 لاکھ بوریاں گندم خریدنے کی منظوری دے دی ہے اور محکمہ انتظامِ اجناس نے پاسکو سے باقاعدہ رابطہ کر لیا ہے۔
موجودہ صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو گندم کا یہ بحران کسی ایک وجہ کا نتیجہ دکھائی نہیں دیتا، بلکہ کئی پالیسی اور پیداواری خامیوں نے مل کر صورتِ حال کو یہاں تک پہنچایا ہے۔
بحران کے بنیادی اسباب اور مستقبل کے سوالات
اس بحران کی 6 بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں، پہلی وجہ فی ایکڑ پیداوار میں کمی ہے۔ دوسری وجہ مہنگی زرعی مداخل ہیں جس سے کسان نے فصل پر سرمایہ کاری کم کی۔
مزید پڑھیں:ماضی میں کب کب گندم اور چینی بحران نے حکومتوں کو مشکل میں ڈالا؟
تیسری وجہ کھادوں کا غیر متوازن استعمال ہے۔ چوتھی وجہ سرکاری خریداری میں تاخیر اور واضح پالیسی کا فقدان ہے۔ پانچویں وجہ صوبوں کے درمیان گندم کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹیں ہیں اور چھٹی بڑی وجہ وفاقی ذخائر کا محدود ہونا ہے۔
موجودہ بحران کا سب سے بڑا اور چبھتا ہوا سوال یہی ہے کہ اگر گندم کی پیداوار بڑھانے اور کسان کو بہتر قیمت دینے کے دعوے کیے گئے تھے، تو پھر حکومت کو نئی فصل آنے کے کچھ ہی عرصے بعد بیرونِ ملک سے مہنگی گندم کیوں منگوانا پڑ رہی ہے؟
کسانوں کا بجا طور پر یہ مؤقف ہے کہ اگر انہیں بروقت مناسب قیمت، سستی اور متوازن کھاد، معیاری بیج اور مؤثر سرکاری خریداری مل جاتی، تو نہ صرف ان کی آمدنی بہتر ہوتی بلکہ ملکی گندم کے ذخائر بھی مستحکم ہوتے۔ آج المیہ یہ ہے کہ پہلے کسان کو اونے پونے داموں گندم فروخت کرنے پر مجبور کیا گیا اور اب اسی گندم کی کمی پوری کرنے کے لیے قیمتی زرمبادلہ خرچ کر کے درآمدی گندم خریدی جا رہی ہے۔














