نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق بحث میں 6 سے 8 ماہ لگ سکتے ہیں، رانا ثنا اللہ

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اسے پارلیمنٹ اور متعلقہ کمیٹیوں سے گزرنے میں 6 سے 8 ماہ لگ سکتے ہیں.

لاہور میں اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے صوبوں کی تقسیم کا منصوبہ شروع نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نئے صوبوں کے لیے عوامی ریفرنڈم ہوگا یا نہیں؟ فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی : مشیر وزیراعظم رانا ثنااللہ

رانا ثنا اللہ کے مطابق، اگر نئے صوبوں کے قیام کی کوئی باقاعدہ تجویز پارلیمنٹ میں پیش کی جاتی ہے تو ہر سیاسی جماعت اور رکن پارلیمنٹ کو اس پر اپنی رائے دینے کا موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ معاملہ مزید غور کے لیے پارلیمانی یا قائمہ کمیٹی کو بھی بھجوایا جا سکتا ہے، ان کے بقول صوبوں کی تقسیم کا معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے آنے میں ابھی خاصا وقت باقی ہے، جبکہ اس بحث کے نتیجے میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی تجاویز سامنے آسکتی ہیں یا مقامی حکومتوں کے انتخابات کے معاملے پر بھی بحث شروع ہوسکتی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے اقتصادی فورم پر صوبوں کی تقسیم کی بحث شروع کیے جانے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے بڑے آئینی اور سیاسی منصوبوں کے آغاز کے لیے اقتصادی فورم موزوں پلیٹ فارم نہیں۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ منصوبے کے پس پردہ موجود لوگوں نے ممکن ہے مسلم لیگ (ن) سے بات کی ہو، لیکن اگر پارٹی نے یہ منصوبہ پیش نہیں کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اسے ڈنڈا لے کر روکنے کے لیے کھڑی ہوجائے۔

مزید پڑھیں: نئے صوبے عوام کی مرضی سے بننے چاہییں، تحفظات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے، بلاول بھٹو

انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صوبوں کی تقسیم کے حق میں کوئی بڑا منصوبہ یا تجویز سامنے نہیں آئی۔ ’جب مسلم لیگ (ن) نے یہ منصوبہ شروع ہی نہیں کیا تو آپ کو سمجھ جانا چاہیے کہ ہماری پالیسی کیا ہے۔‘

بہاولپور کا معاملہ

بہاولپور کے حوالے سے سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت اس خطے کو مجوزہ جنوبی پنجاب صوبے میں شامل کرنے کے حق میں نہیں۔

ان کے مطابق پارٹی میں بعض لوگ الگ بہاولپور صوبے کے قیام کے حامی ہیں جبکہ کچھ اسے لاہور کے ساتھ منسلک رکھنے کے خواہاں ہیں۔

مزید پڑھیں: نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی حکومت یا جماعت نہیں، عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، محسن نقوی

انہوں نے کہا کہ صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر ہونے والی بحث سے پاکستان پیپلز پارٹی نے سیاسی فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ اس کے کارکن اس معاملے کے ساتھ جذباتی طور پر وابستہ ہوگئے ہیں۔

متنازع نہری منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے اس منصوبے کی تعمیر کی حمایت کی تھی، تاہم بعد میں پیپلز پارٹی نے اس کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں منصوبہ روک دیا گیا۔

عمران خان سے بیک ڈور رابطوں کا دعویٰ

بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بیک ڈور رابطوں سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پسِ پردہ رابطے ہوسکتے ہیں، تاہم ایسے راستے اختیار کرنے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور جو بھی اس راستے کا انتخاب کرے گا اسے وہ قیمت ادا کرنا ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ کے ساتھ اختلافات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیر جب کابینہ یا سینیٹ میں بات کریں گے تو ان سے وضاحت طلب کی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp