’ باس سکیم‘ نامی نیا سائبر حملہ، واردات کا طریقہ کار کیا ہے، کیسے بچا جاسکتا ہے؟

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سائبر مجرموں نے کمپنیاں لوٹنے کے لیے ’باس سکیم’ (Boss Scam) نامی ایک نیا اور انتہائی خطرناک طریقہ کار اپنا لیا ہے۔ بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی کے بانی کو ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے نام سے جعلی واٹس ایپ لنک بھیج کر ان کے کمپیوٹر تک رسائی حاصل کی گئی، جس کے بعد کمپنی کے اکاؤنٹنٹ کو باس کے جعلی پیغام کے ذریعے ڈیڑھ کروڑ روپے ایک نامعلوم اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔ تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے رقم کا بڑا حصہ واپس بلاک کروا لیا ہے۔

وارادت کا طریقہ کار اور ہیکنگ

تفصیلات کے مطابق، احمد آباد کے تاجر پروین ناگجی بھائی بوالیا کو واٹس ایپ پر ایک پیغام موصول ہوا جس میں بھیجنے والے نے خود کو ‘آر بی آئی’ کے رسک کنٹرول شعبے کا اہلکار ظاہر کرتے ہوئے کمپنی کے اکاؤنٹ منجمد ہونے کا ڈرایا اور ایک زِپ (ZIP) فائل بھیجی۔

پروین ناگجی نے وہ فائل اپنے اکاؤنٹنٹ کو جانچ کے لیے بھیج دی۔ جیسے ہی اکاؤنٹنٹ نے کمپیوٹر پر فائل ڈاؤن لوڈ کی، اس میں موجود خطرناک سافٹ ویئر (Malware) نے ہیکرز کو کمپنی کے واٹس ایپ ویب سیشن اور تمام معلومات تک رسائی دے دی۔

یہ بھی پڑھیے واٹس ایپ یوزرنیم: جعلسازی اور اہم شخصیات سے ملتے جلتے نام رکھے جانے کے خدشات بڑھ گئے

ہیکرز نے پروین ناگجی کے شادی میں مصروف ہونے کا فائدہ اٹھایا اور ان کے نام سے اکاؤنٹنٹ کو فوری طور پر کلکتہ کی ایک کپڑا ساز کمپنی کو ڈیڑھ کروڑ روپے ٹرانسفر کرنے کا واٹس ایپ پیغام بھیج دیا۔ اکاؤنٹنٹ نے اسے اصل باس کی ہدایت سمجھتے ہوئے رقم منتقل کر دی۔

پولیس کی کارروائی اور رقم کی برآمدگی

فراڈ کا علم ہوتے ہی سائبر کرائم ہیلپ لائن پر بلا تاخیر شکایت درج کرائی گئی۔ احمد آباد پولیس نے بروقت اقدام کرتے ہوئے منتقل کی گئی رقم میں سے 1 کروڑ 13 لاکھ 53 ہزار روپے کی رقم کو ریکور کروا لیا۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مغربی بنگال سے 2 ملزمان، ارم علی پیادا اور انزامل ملا کو گرفتار کر لیا ہے۔

احمد آباد سائبر کرائم برانچ کی ڈی ایس پی لوینا سنہا کے مطابق، اس قسم کے فراڈ میں ایک پورا منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے جسے ’سائبر کرائم ایز اے سروس‘ (CaaS) کہا جاتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں جعلی سم کارڈز، او ٹی پی، بائیومیٹرک معلومات کی چوری اور چینی ہیکرز کا تیار کردہ میل ویئر استعمال کیا گیا۔ پولیس کی جانب سے انڈیا کی 26 ریاستوں میں 4,500 سم کارڈز اور 251 شکایات کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کے تانے بانے چین، ہانگ کانگ اور دیگر ممالک سے ملتے ہیں۔

‘باس سکیم’ سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’باس سکیم‘ سے بچنے کے لیے واٹس ایپ یا ای میل پر موصول ہونے والی کسی بھی نا معلوم .zip، .exe، .dll یا .apk فائل کو کبھی بھی ڈاؤن لوڈ یا اوپن نہ کریں۔

اگر باس یا سی ای او کی طرف سے واٹس ایپ پر ایمرجنسی میں رقم کی منتقلی کا پیغام آئے تو رقم بھیجنے سے قبل براہِ راست فون کال یا ویڈیو کال کر کے تصدیق لازمی کریں۔

یہ بھی پڑھیے سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کرتے ہیں؟ اے آئی اور ڈیپ فیک کے نئے خطرات جان لیں

واٹس ایپ ویب میں جا کر یہ چیک کرتے رہیں کہ کہیں کوئی غیر متعلقہ ڈیوائس لاگ ان تو نہیں ہے، اور اکاؤںٹ پر ‘ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن’ (Two-Factor Authentication) ہمیشہ فعال رکھیں۔

سائبر فراڈ ہونے کی صورت میں بلا تاخیر پہلے ایک گھنٹے (Golden Hour) کے اندر ہیلپ لائن یا پولیس کو اطلاع دیں تاکہ رقم کو بروقت منجمد کرایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp