جمائما گولڈ سمتھ کے نئے شوہر کون ہیں؟

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے ڈبلن میں پیدا ہونے والے کاروباری شخصیت کیمرون او ریلی سے شادی کرلی، ان کی شادی کی خبر خاندان کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کئی گئی ہے۔

آئرلینڈ کے معروف میڈیا ٹائیکون ٹونی او ریلی کے صاحبزادے اور آئرش و آسٹریلین شہریت کے حامل نامور کاروباری شخصیت کیمرون او ریلی نے عالمی تجارت، میڈیا اور انرجی ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک منفرد پہچان بنائی ہے۔

سڈنی کے سب سے بڑے پریس گروپس میں شامل ‘اے پی این’ کی قیادت سے لے کر اربوں ڈالر مالیت کی عالمی کمپنی ‘لینڈس پلس گائر’ کی کامیاب خریدو فروخت تک، کیمرون او ریلی کا شمار دنیا کے بااثر ترین سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے۔

کیمرون او ریلی 28 اپریل 1964ء کو آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آئرش میڈیا کے معروف ٹائیکون ٹونی او ریلی اور والدہ آسٹریلین شہری سوزن کیمرون ہیں۔

یہ بھی پڑھیے جمائما گولڈ اسمتھ نے عمران خان سے علیحدگی کے 22 سال بعد دوبارہ شادی کرلی

5 سال کی عمر تک ڈبلن اور کلکولن میں رہنے کے بعد، وہ چند سال لندن اور پھر 14 سال کی عمر تک امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر پٹسبرگ میں مقیم رہے۔ انہوں نے اپنی تعلیم کلونگووز ووڈ کے ایک نجی اسکول سے مکمل کی، جو ان کے خاندانی اثاثوں کے قریب واقعہ ہے۔

1983ء میں آئرش لیول سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے وورسٹر کالج میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے سیاست، فلسفہ اور معاشیات (PPE) میں آنرز کی ڈگری حاصل کی۔ آکسفورڈ میں قیام کے دوران انہوں نے ٹینس، رگبی اور روئنگ میں یونیورسٹی کی نمائندگی کی، جبکہ ڈبیٹنگ سوسائٹی (آکسفورڈ یونین) کے خزانچی بھی رہے اور آکسفورڈ سے چین تک موٹر سائیکل پر مہم جوئی کی قیادت بھی کی۔

کیمرون نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز 1980ء کی دہائی کے وسط میں عالمی انویسٹمنٹ بینک ‘گولڈمین ساکس’ سے کیا اور 1988ء تک وہاں خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے آئرلینڈ واپس آئے اور اپنے والد کی قیادت میں قائم کمپنی ‘انڈیپنڈنٹ نیوز اینڈ میڈیا’ سے منسلک ہو گئے۔ بعد ازاں، انہیں آسٹریلیا بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے ‘اے پی این نیوز اینڈ میڈیا’ (APN) کے ریجنل سیلز شعبے میں ذمہ داریاں سنبھالیں اور کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل ہوئے۔

1988ء سے 1991ء تک سیلز کی دیکھ بھال کے بعد، انہیں 1991ء میں ‘راک ہیمپٹن مارننگ بلیٹن’ کا جنرل مینیجر اور بعد میں اے پی این کا ڈپٹی سی ای او مقرر کیا گیا۔ مئی 1996ء میں وہ اے پی این کے سی ای او کے عہدے پر فائز ہوئے، جہاں انہوں نے ریڈیو اور دیگر میڈیا چینلز کی خریداری اور توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیے جمائما گولڈ سمتھ کی ایک بار پھر ارب پتی بزنس مین سے شادی کی تیاری

اکتوبر 1999ء میں انہوں نے اپنے ذاتی کاروباری منصوبوں پر توجہ دینے کے لیے اے پی این کے انتظامی عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا اور جولائی 2000ء میں فرانس کے شہر گرینوبل منتقل ہو گئے۔

2002ء میں آسٹریلیا واپسی پر انہیں نومبر میں ‘گورنر پیس ایوارڈ’ سے نوازا گیا۔ مئی 2003ء میں انہوں نے 100 ملین آسٹریلین ڈالرز کے ابتدائی سرمائے کے ساتھ ‘بیارڈ کیپٹل’ (Bayard Capital) نامی انویسٹمنٹ ہاؤس کی بنیاد رکھی، جس میں حکومتِ سنگاپور اور جان فیئر فیکس سمیت مختلف سرمایہ کار شامل تھے۔

کیمرون نے توانائی اور پانی کی قلت پر قابو پانے کی صلاحیت رکھنے والی ٹیکنالوجیز اور میٹرنگ ڈیوائسز بنانے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کی۔ 2008ء تک بیارڈ گروپ کی اہم ترین کمپنی ‘لینڈس پلس گائر’ (Landis+Gyr) بن چکی تھی، جو بجلی کے سمارٹ میٹرز بنانے والی دنا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ اس گروپ کا سالانہ کاروبار 1.2 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا اور 30 سے زائد ممالک میں 5 ہزار سے زائد افراد اس سے وابستہ تھے۔

مئی 2011ء میں، کیمرون او ریلی نے لینڈس پلس گائر کو جاپان کی معروف کارپوریشن ‘توشیبا’ (Toshiba) کے ہاتھوں 2.3 بلین امریکی ڈالر میں فروخت کرنے کا کامیاب معاہدہ کیا۔ اس فروخت کے بعد وہ دوبارہ ‘بیارڈ کیپٹل’ کے سی ای او کے طور پر فعال ہو گئے۔

کیمرون عام طور پر دہریہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خدا پر ایمان نہیں رکھتے، تاہم دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ وہ عیسائی ہیں۔ جمائما گولڈ سمتھ سے شادی سے پہلے کیمرون او ریلی نے السے (Ilse) سے شادی کی جن سے ان کے 4 بچے ہیں۔ وہ 2010ء سے سوئٹزرلینڈ کے شہر زوگ (Zug) میں مقیم ہیں، جو ان کی کمپنی بیارڈ کیپٹل کا مرکز ہے۔ وہ ہائیکنگ اور اسکیئنگ کا شوق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیمرون او ریلی آسٹریلین ریپبلک موومنٹ کے بڑے مالی معاونین میں شمار ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp