یورپ میں پہلی بار ڈائنوسار کی نسل ڈپلوڈوکس کے فوسلز دریافت

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہسپانوی ماہرینِ حیاتیات نے پہلی بار ایسے شواہد دریافت کیے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ طویل گردن والا معروف ڈائنوسار ڈپلوڈوکس کبھی یورپ میں بھی پایا جاتا تھا۔

سائنسی جریدے جرنل آف ورٹیبریٹ پیلیونٹولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مشرقی اسپین کے علاقے تیروئیل میں ڈائنوسار کے 14 دُم کے مہرے اور کئی ہڈیوں کے فوسلز دریافت ہوئے ہیں، جن کا تعلق تقریباً 150 ملین سال قدیم دور سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 2 دہائیوں بعد اسمگل شدہ ڈائنوسار کے نایاب فوسلز منگولیا واپس پہنچ گئے

یہ فوسلز ڈائنوسار کی باقیات کی ایک جگہ ایل کاسٹیار کے مقام سے دریافت ہوئیں۔ تحقیق کرنے والے ماہرین کا تعلق ڈائنولوپس فاؤنڈیشن تیروئیل سے ہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف سرخیو سانچیز فینولوسا کے مطابق جسمانی ساخت کے مطالعے اور ارتقائی تجزیوں سے یہ شناخت ہوئی کہ ایل کاسٹیار سے ملنے والا نمونہ ڈپلوڈوکس نسل سے تعلق رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ یورپ میں اب تک دریافت ہونے والے سب سے مکمل ڈپلوڈوکس نمونوں میں سے ایک ہے اور شمالی امریکا سے باہر اس نسل کی موجودگی کا پہلا ثبوت بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بولیویا میں ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات کا دنیا کا سب سے بڑا مقام دریافت

ڈائنولوپس فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر اور تحقیق کے شریک مصنف البرتو کوبوس کے مطابق دریافت ہونے والے ڈائنوسار کی لمبائی تقریباً 25 میٹر تک ہونے کا امکان ہے۔

اس دریافت کے بعد تیروئیل کا علاقہ بڑے جسامت والے جراسک دور کے سوروپوڈ ڈائنوسارز کی باقیات کی بڑھتی ہوئی فہرست میں مزید اہم ہوگیا ہے۔

ڈپلوڈوکس کی شناخت پہلی بار 1877 میں امریکی ریاست وائیومنگ سے ملنے والے فوسلز کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ گھاس اور پودے کھانے والا یہ ڈائنوسار اپنی لمبی گردن، کوڑے جیسی دُم اور 4 مضبوط ٹانگوں کے باعث دنیا کے سب سے زیادہ پہچانے جانے والے ڈائنوسارز میں شمار ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp