آسٹریلیا کی امیگریشن پالیسی سخت، طلبہ اور سیاحوں کے لیے نیا پالیسی فریم ورک نافذ العمل

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسٹریلیا نے بڑھتی ہوئی امیگریشن کو کنٹرول کرنے کے لیے غیر ملکی طلبہ کو دورانِ تعلیم اپنے شریکِ حیات اور بچوں کو ساتھ لانے سے روکنے اور ورکنگ ہالیڈے ویزہ قوانین کو مزید سخت کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔

آسٹریلوی وزیرِ داخلہ ٹونی برک نے ان اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا مقصد سالانہ نیٹ امیگریشن کو 2028 تک کم کر کے 225,000 تک لانا ہے، جو فی الوقت تقریباً 300,000 سالانہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی طلبا آسٹریلیا کی اسکالرشپ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

انہوں نے واضح کیا کہ عارضی ویزے پر آنے والوں کو ویزہ ختم ہونے کے بعد ملک میں قیام کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں آسٹریلیا چھوڑنا ہو گا۔

ویزہ قوانین میں اہم تبدیلیاں

نئے فریم ورک کے تحت بیشتر اسٹوڈنٹ ویزوں پر فیملی ممبرز کو ساتھ لانے کی اجازت نہیں ہو گی، تاہم بحرِ الکاہل کے جزائر اور جنوب مشرقی ایشیا کے کچھ طلبہ کو اس سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔

 تمام وزٹ ویزوں پر ’نو فردر سٹے‘ کی شرط عائد کی جا رہی ہے تاکہ کوئی شخص اندرونِ ملک رہتے ہوئے ویزہ کیٹگری تبدیل نہ کر سکے۔

مزید برآں غیر ملکی طلبہ کو صرف تعلیمی معیار کی سطح بڑھانے کی صورت میں ہی ویزہ تجدید کی اجازت ملے گی۔

بیک پیکرز اور خلاف ورزیوں پر سختیاں

ورکنگ ہالیڈے ویزا کی توسیع کے لیے اب قرعہ اندازی (بیلوٹ) کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ غیر قانونی قیام اور ویزہ قوانین کی خلاف ورزی روکنے کے لیے 100 نئے ایمیگریشن افسران بھرتی کیے جائیں گے، جبکہ ملبورن میں موجود قرنطینہ سینٹر کو تارکینِ وطن کے حراستی مرکز میں تبدیل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

سیاسی دباؤ کی تردید

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریلیا کی دائیں بازو کی جماعت ’ون نیشن پارٹ‘ نے 3 سالوں میں عارضی تارکینِ وطن کی تعداد میں 750,000 کی کمی کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں:آسٹریلیا میں یہودی مخالف حملوں کی تحقیقات کے لیے قومی رائل کمیشن کا اعلان

 تاہم وزیرِ داخلہ ٹونی برک نے ان تاثرات کو مسترد کر دیا کہ حکومت کا یہ اقدام کسی سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔

تعلیمی شعبے کی تشویش

جون 2025 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران بین الاقوامی تعلیم نے آسٹریلیا کی معیشت میں 53.6 ارب آسٹریلوی ڈالر کا حصہ ڈالا جو ملک کی چوتھی بڑی برآمد ہے۔

گزشتہ 4 سالوں میں اسٹوڈنٹ ویزا فیس میں تقریباً 300 فیصد اضافہ کر کے اسے 2,500 آسٹریلوی ڈالر کر دیا گیا ہے۔ تعلیمی تنظیم ’یونیورسٹیز آسٹریلیا‘ کے چیف ایگزیکٹو نے ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے عظیم قومی اثاثے اور تعلیمی شعبے پر عالمی اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp