موڈ بہتر بنانے کے لیے صرف 30 سیکنڈ کافی، روزمرہ کی چند آسان عادتیں

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگر آپ خود کو ذہنی دباؤ، بے چینی یا تھکن سے گھرا ہوا محسوس کرتے ہیں تو ضروری نہیں کہ اپنی کیفیت بہتر بنانے کے لیے طویل مراقبے، گھنٹوں کی ورزش یا کسی مشکل معمول کا سہارا لیا جائے۔ ماہرین کے مطابق چند مختصر اور آسان سرگرمیاں جن میں بعض کے لیے صرف 30 سیکنڈ بھی کافی ہیں موڈ، ذہنی سکون اور مجموعی بہبود بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کم خرچ یا مفت میں صحت اور ذہنی سکون بہتر بنانے کے آسان طریقے

اس طرح کی مختصر سرگرمیوں کو ’مائیکرو پریکٹسز‘ یعنی مختصر ذہنی و جسمانی مشقیں کہا جاتا ہے۔

نیدرلینڈز کی ڈیلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے وابستہ محقق نٹالی فان ڈر وال کے ساتھ ایک مختصر ہنسی کی مشق کے دوران ایسا ہی تجربہ سامنے آیا۔ ویڈیو کال پر ہونے والی ہنسی کا یوگا مشق میں ابتدا سانس کی ورزش سے ہوئی اور پھر جان بوجھ کر مصنوعی ہنسی شروع کرنے کو کہا گیا۔

کچھ ہی دیر میں مصنوعی ہنسی حقیقی ہنسی میں تبدیل ہوگئی اور اتنی شدت اختیار کرگئی کہ پیٹ میں درد محسوس ہونے لگا لیکن ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

فان ڈر وال کے مطابق عموماً کچھ دیر بعد مصنوعی ہنسی حقیقی ہنسی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

آج کل خود کو بہتر محسوس کرنے کے لیے کیے جانے والے مختلف طریقے جیسے صبح سویرے مراقبہ، طویل ورزشیں یا سردیوں میں برف جیسے ٹھنڈے پانی میں تیرنا، خاصا وقت طلب ہوسکتے ہیں۔ تاہم متعدد مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذہنی کیفیت بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ طویل دورانیے کی سرگرمی ضروری نہیں۔

مائیکرو پریکٹسز کے مصنف ایلی سسمن کے مطابق بعض مفید مشقیں صرف 30 سیکنڈ میں کی جاسکتی ہیں۔

آئیے ایسی چند مختصر مشقوں پر نظر ڈالتے ہیں جنہیں آپ روزمرہ زندگی میں آزما سکتے ہیں۔

لافٹر یوگا

لافٹر یوگا (ہنسی کا یوگا) میں کسی لطیفے یا مزاحیہ واقعے کے بغیر جان بوجھ کر ہنسنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ابتدا میں مصنوعی ہنسی کچھ عجیب محسوس ہوسکتی ہے لیکن اس تجربے کے دوران جلد ہی یہ کیفیت بدل سکتی ہے۔ ہنسی کی مشق کے بعد خوش مزاجی اور مسرت میں اضافہ محسوس ہوسکتا ہے اور بعض افراد خود کو زیادہ پُرسکون بھی محسوس کرتے ہیں۔

فان ڈر وال کے مطابق ہنسی کا یوگا کی نشست کے بعد انہیں اکثر شرکا کے ساتھ تعلق اور دوستی قائم کرنا زیادہ آسان محسوس ہوتا ہے۔

ان کے ایک بڑے تجزیے میں متعدد تحقیقی مطالعات کے نتائج کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ غیر مزاحیہ یعنی جان بوجھ کر کی جانے والی ہنسی، مزاح سے پیدا ہونے والی ہنسی کے مقابلے میں ڈپریشن اور بے چینی کم کرنے کے حوالے سے تقریباً دوگنا مؤثر دیکھی گئی۔

یہ مشق کیسے کریں؟

3 مرتبہ گہری سانس لیں اور اپنے ہاتھ پیٹ پر رکھیں۔ اس کے بعد مصنوعی انداز میں ہنسنا شروع کریں۔ اگر براہ راست ہنسنا مشکل لگے تو ’ہی ہی ہی، ہا ہا ہا‘ کہہ کر آغاز کریں اور آہستہ آہستہ آواز بلند کریں۔

ممکن ہے کچھ ہی دیر میں مصنوعی ہنسی حقیقی ہنسی میں تبدیل ہوجائے۔

آخر میں ایک مرتبہ گہری سانس لیں اور کسی ایسی چیز کے بارے میں سوچیں جس کے لیے آپ شکر گزار ہیں۔ اگر آپ کے ساتھ کوئی دوسرا شخص بھی یہ مشق کرے تو ایک دوسرے کی ہنسی کی نقل کرنا بھی اس تجربے کو مزید دلچسپ بنا سکتا ہے۔

مختصر یوگا یا مائیکرو یوگا

اگر اکیلے یا آئینے کے سامنے ہنسنا آپ کو عجیب محسوس ہوتا ہے تو ذہن مرکوز کرتے ہوئے ہلکی پھلکی کھنچاؤ کی ورزش بھی کی جاسکتی ہے جسے ایلی سسمن ’مائیکرو یوگا‘ کہتے ہیں۔

یہ مشق خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ہوسکتی ہے جو گھنٹوں کمپیوٹر یا موبائل اسکرین کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں۔

طویل عرصے تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنے سے جسم آگے کی جانب جھک جاتا ہے اور گردن، کندھوں اور کمر میں تناؤ پیدا ہوسکتا ہے۔ سسمن کے مطابق مختصر وقفے میں کی جانے والی ہلکی کھنچاؤ کی ورزش اس کیفیت سے باہر آنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ ہر 15 منٹ بعد صرف 15 سے 30 سیکنڈ تک کھنچاؤ کی ورزش کرنے سے کام کرنے کی صلاحیت میں تقریباً 15 فیصد بہتری آئی۔

اگرچہ یہ مشق مکمل طور پر یوگا نہیں تاہم دیگر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کھنچاؤ کو گہری سانس اور ذہنی توجہ کے ساتھ ملایا جائے تو نفسیاتی دباؤ کم کرنے میں اس کے فوائد زیادہ ہوسکتے ہیں۔ ذہنی توجہ کے ساتھ کیے جانے والے مختصر وقفوں کو کام سے پیدا ہونے والی تھکن اور طبی شعبے میں غلطیوں میں کمی سے بھی جوڑا گیا ہے۔

یہ مشق کیسے کریں؟

اپنی انگلیوں کو کمر کے پیچھے آپس میں پھنسا لیں۔ سانس اندر لیتے ہوئے بازوؤں کو نیچے کی جانب سیدھا کریں اور سینے کو آہستگی سے اوپر اٹھائیں۔ سانس باہر نکالتے ہوئے کھنچاؤ کو نرم ہونے دیں۔

اس حالت میں 2 سے 3 مرتبہ آہستہ سانس لیں۔

تاہم نئی ورزش شروع کرنے سے پہلے خاص طور پر اگر کوئی طبی مسئلہ موجود ہو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے کیونکہ ہر قسم کی جسمانی کھنچاؤ کی ورزش میں چوٹ لگنے کا امکان موجود ہوتا ہے۔

آہستہ اور گہری سانسیں

اگر آپ ذہنی دباؤ یا بے چینی کا شکار ہیں تو چند آہستہ اور گہری سانسیں لینا اعصابی نظام کو پرسکون کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

جسمانی طور پر آہستہ اور گہری سانسیں لینے سے ’لڑو یا بھاگو‘ والی کیفیت کم ہوسکتی ہے کیونکہ اس سے جسم کے پیراسیمپیتھیٹک اعصابی نظام کو فعال ہونے میں مدد ملتی ہے جو جسم کو آرام اور ہاضمے کی حالت میں لاتا ہے۔

تحقیق میں سانس کی ایسی مشقوں کو ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور بے چینی میں کمی سے بھی جوڑا گیا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں محققین نے پایا کہ صرف 3 مرتبہ آہستہ اور گہری سانس لینے سے دماغ میں الفا لہروں میں اضافہ ہوا جن کا تعلق پرسکون اور مرکوز توجہ سے ہے جبکہ تھیٹا لہروں میں بھی اضافہ دیکھا گیا جنہیں گہری راحت سے جوڑا جاتا ہے۔

تحقیق کے سربراہ اٹلی کی یونیورسٹی آف نیپلز فیڈریکو دوم کے محقق امیت کمار کے مطابق اس مشق کو دفتر میں کسی اہم اجلاس سے پہلے یا اس وقت بھی کیا جاسکتا ہے جب ذہن میں خیالات بہت تیزی سے گردش کر رہے ہوں۔

ان کے مطابق اگر دن کے مختلف اوقات میں باقاعدگی سے یہ مشق کی جائے تو ممکن ہے کہ ذہنی دباؤ کو جمع ہونے اور بڑھنے سے روکنے میں مدد ملے۔

تاہم شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے صرف 30 سیکنڈ کی سانس کی مشق کافی نہ بھی ہو۔

یہ مشق کیسے کریں؟

آرام دہ انداز میں بیٹھ جائیں اور آنکھیں بند کرلیں۔ تقریباً 10، 10 سیکنڈ کی 3 آہستہ اور گہری سانسیں لیں۔ سانس اندر لینے کے مقابلے میں باہر نکالنے کا دورانیہ کچھ زیادہ رکھیں۔

اپنی توجہ اس احساس پر مرکوز کریں کہ ہوا پھیپھڑوں میں داخل اور خارج ہورہی ہے۔ دن میں جتنی مرتبہ ضرورت محسوس ہو اس مشق کو دہرایا جاسکتا ہے۔

خود سے شفقت کا لمس

انسانی لمس کے فوائد ایک عرصے سے تسلیم کیے جاتے رہے ہیں لیکن ہر وقت کسی دوسرے انسان کا لمس میسر نہیں ہوتا۔

ایلی سسمن اور ان کے ساتھیوں کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ اپنے آپ کو پرسکون کرنے کے لیے کیا جانے والا ایک سادہ لمس بھی محض 20 سیکنڈ میں دیرپا فوائد فراہم کرسکتا ہے۔

تحقیق میں شرکا نے اپنے ہاتھ دل اور پیٹ پر رکھے اور اپنے بارے میں مہربان اور مثبت خیالات پر توجہ مرکوز کی۔ صرف 20 سیکنڈ تک یہ مشق کرنے والے افراد میں تناؤ سے وابستہ ہارمون کورٹیسول کی مقدار کنٹرول گروپ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم دیکھی گئی۔

سسمن کے مطابق انسانوں کے لیے خود سے شفقت کرنا ایک اہم لیکن کم توجہ حاصل کرنے والی عادت ہے۔

اس کے بعد کی ایک تحقیق رواں ہفتے شائع ہوئی جس میں سسمن نے پایا کہ اس مشق کو زیادہ مرتبہ کرنے کا تعلق 6 ماہ بعد خود سے شفقت کے احساس میں مزید بہتری سے تھا۔

یہ مشق کیسے کی جائے؟

ایک یا دونوں ہاتھ نرمی سے سینے یا بازو کے اوپری حصے پر رکھیں۔ ایک گہری سانس لیں اور ہاتھوں کی گرمی اور ہلکے دباؤ پر توجہ دیں۔

اس دوران اپنے بارے میں مہربان اور حوصلہ افزا خیالات ذہن میں لائیں۔

روزمرہ زندگی میں ذہنی توجہ

ماہرین کے مطابق ان تمام مشقوں کو آزمانا ضروری نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ایسی ایک یا دو سرگرمیاں تلاش کی جائیں جو آپ کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکیں۔

نٹالی فان ڈر وال کا مشورہ ہے کہ مختلف طریقے آزما کر دیکھا جائے کہ کون سا طریقہ آپ کے لیے موزوں ہے کیونکہ ہر شخص کے لیے مطلوبہ دورانیہ اور مقدار مختلف ہوسکتی ہے۔

ذہنی سکون کے لیے باقاعدہ سرگرمیوں کے بجائے روزمرہ معمولات کے دوران بھی مختصر وقفے شامل کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً چہل قدمی کرتے ہوئے اردگرد کی چیزوں پر توجہ دینا یا برتن دھوتے وقت چند گہری سانسیں لینا۔

ایسی چھوٹی چھوٹی عادات مجموعی ذہنی بہبود بہتر بنانے اور دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

اور جہاں تک ہنسی کے یوگا کا تعلق ہے اس تجربے کے بعد اس مشق کو جاری رکھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ اگرچہ مسلسل ہنسنے کے بعد پیٹ کو معمول پر آنے میں کچھ وقت لگا لیکن مجموعی طور پر یہ تجربہ خوشگوار اور ذہنی طور پر ہلکا محسوس ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقوں میں طوفانی بارشیں، کوہِ سلیمان اور سخی سرور میں سیلابی ریلے داخل

میرپور نہر میں پھینکے گئے 3 بچوں میں سے 2 کی لاشیں برآمد، ملزم گرفتار

بچوں کے سوشل میڈیا استعمال اور ’فیملی ولاگنگ‘ پر لگام کسنے کی تیاری، بڑے ایکشن کی تیاری

اے آئی کی دوڑ کو ایک اور خطرہ، ڈیٹا سینٹرز کے خلاف دنیا بھر میں بڑھتی مزاحمت کیوں؟

حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز میں فیول ریلیف پیکج پر اتفاق، عمل درآمد شروع

ویڈیو

حارث کھوکھر کے اپنی بھابھی کے ساتھ ناجائز تعلقات؟ لڑائی کے بعد ہنی مون کیسا رہا؟ ڈاکٹر نبیحہ کے انکشافات

پوری پاکستانی قوم اپنی افواج کے ساتھ حرمین کی حفاظت کے لیے ہر وقت تیار ہے، ارکان پارلیمنٹ کی رائے

حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بات کی جائےگی، شائستہ پرویز ملک

کالم / تجزیہ

غلطی، معافی، اور نفسیاتی قید

مکہ امت کی ریڈلائن ہے؟

نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟