اے آئی کی دوڑ کو ایک اور خطرہ، ڈیٹا سینٹرز کے خلاف دنیا بھر میں بڑھتی مزاحمت کیوں؟

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی دنیا تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن اس انقلاب کو چلانے والے بڑے ڈیٹا سینٹرز اب خود ایک نئے تنازع کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ امریکا میں ان مراکز کے خلاف مقامی سطح پر مزاحمت بڑھ رہی ہے جبکہ برطانیہ میں بھی بعض علاقوں کے رہائشی توانائی، پانی، شور، ماحول اور زمین کے استعمال پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سینیٹ میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز پر پابندی کا بل، سینڈرز اور اوکاسیو کورٹیز پیش پیش

ڈیٹا سینٹرز میں موجود ہزاروں سرورز اور لاکھوں چپس ہر سیکنڈ میں کھربوں حسابات کرتے ہیں۔ یہی کمپیوٹنگ طاقت اے آئی ماڈلز کے ذریعے تیار ہونے والے متن، تصاویر اور ویڈیوز کو ممکن بناتی ہے۔

اگرچہ چپس کے اندر ہونے والی اربوں کھربوں چھوٹی چھوٹی برقی کارروائیاں خود کوئی آواز پیدا نہیں کرتیں لیکن ان سے پیدا ہونے والی شدید حرارت کو ختم کرنے کے لیے ہزاروں پنکھے مسلسل چلتے رہتے ہیں۔ بڑے مراکز کے قریب بجلی کے ٹرانسفارمرز کی گونج بھی سنائی دے سکتی ہے۔

یوں ڈیٹا سینٹرز سے آنے والی مسلسل مدھم آواز ان علاقوں کے رہائشیوں کے لیے اے آئی انقلاب کی ایک نمایاں علامت بن گئی ہے۔

لوگ ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟

مقامی آبادی کی مخالفت کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑا خدشہ بجلی کے استعمال کا ہے۔ بڑے ڈیٹا سینٹرز کو مسلسل اور بہت زیادہ مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے۔ امریکا کے بعض علاقوں میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نئے مراکز کے لیے بجلی کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کا خرچ بالآخر عام صارفین کے بجلی کے بلوں پر منتقل ہو سکتا ہے۔

دوسری بڑی تشویش پانی کے استعمال سے متعلق ہے۔ ڈیٹا سینٹرز میں سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے مختلف نظام استعمال کیے جاتے ہیں جن میں بعض صورتوں میں پانی بھی استعمال ہوتا ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں پہلے ہی پانی محدود ہے مقامی آبادی کو خدشہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز ان کے وسائل پر مزید دباؤ ڈالیں گے۔

اس کے علاوہ شور، رات بھر روشن رہنے والی سیکیورٹی لائٹس، ماحول پر اثرات اور قیمتی زمین کے استعمال نے بھی مخالفت کو جنم دیا ہے۔

مقامی آبادی کا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر ان مراکز سے قومی معیشت کو فائدہ ہوتا ہے تو اس فائدے میں مقامی لوگوں کا حصہ کیا ہے؟

مزید پڑھیے: ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھونڈ لیا

ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے دوران تو بڑی تعداد میں روزگار پیدا ہوسکتا ہے لیکن مرکز فعال ہوجانے کے بعد عموماً وہاں مستقل ملازمین کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ بڑے مراکز میں بھی مستقل عملہ چند سو افراد تک محدود ہوسکتا ہے۔

یہ صورت حال مقامی لوگوں کے لیے اس سوال کو مزید اہم بنا دیتی ہے کہ انہیں شور، بجلی اور پانی پر دباؤ برداشت کرنے کے بدلے کیا حاصل ہوگا۔

امریکا میں مخالفت سیاسی مسئلہ بن گئی

امریکا میں ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت خاص طور پر بائیں بازو کے حلقوں میں نمایاں ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر برنی سینڈرز نے نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کے لیے عارضی پابندی کی حمایت کی ہے۔

ان کے مطابق لوگ اس بات پر تشویش میں مبتلا ہیں کہ ٹیکنالوجی کتنی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اس پر ان کا کنٹرول کتنا کم ہے اور ڈیٹا سینٹرز ان کی برادری کے بجلی کے نرخوں اور پانی کے استعمال کو کس طرح متاثر کریں گے۔

مئی میں شائع ہونے والے گیلپ کے ایک سروے میں بھی ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے نمایاں عوامی مخالفت سامنے آئی۔ سروے کے مطابق 71 فیصد امریکی اپنے علاقے میں ڈیٹا سینٹر کی موجودگی کے مخالف تھے جن میں 48 فیصد نے شدید مخالفت کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: کیا بڑے سائز کے ڈیٹا سینٹرز کا دور ختم ہونے والا ہے؟

اس کے مقابلے میں کسی علاقے میں جوہری بجلی گھر کی موجودگی کی مخالفت کرنے والوں کی شرح 53 فیصد تھی۔

یعنی سروے میں ڈیٹا سینٹرز کی مقامی مخالفت جوہری بجلی گھروں سے بھی زیادہ سامنے آئی۔

یہ مخالفت صرف ڈیموکریٹس تک محدود نہیں۔ ریپبلکن حلقوں میں بھی بعض مقامی حکومتوں کو ڈیٹا سینٹرز سے متعلق پالیسیوں پر سیاسی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ کچھ ریپبلکن اکثریتی اور ڈیموکریٹ اکثریتی ریاستوں میں بھی نئے مراکز پر پابندی یا سخت شرائط کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔

ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی دباؤ میں

مارچ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے 7 سربراہان نے ’ریٹ پیئر پروٹیکشن پلیج‘ پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کمپنیوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات خود پوری کرنے کی کوشش کریں گی اور اس کا بوجھ عام گھریلو صارفین پر منتقل نہیں کیا جائے گا۔

تاہم یہ وعدہ قانونی طور پر پابند نہیں تھا اور مقامی مخالفت کو ختم نہیں کرسکا۔

امریکا کی ٹیکنالوجی صنعت کا مؤقف ہے کہ ڈیٹا سینٹرز ملکی صنعتی ترقی، روزگار اور اقتصادی مسابقت کے لیے ضروری ہیں۔ این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے بھی ڈیٹا سینٹرز کو امریکا میں صنعتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

لیکن مقامی سطح پر یہ دلیل ہمیشہ کافی ثابت نہیں ہورہی۔

ٹیکساس میں بھی مؤقف بدلتا دکھائی دیا

ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے سیاسی رویے میں تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ٹیکساس ہے، جو طویل عرصے سے کاروبار، توانائی اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے سازگار ریاست سمجھی جاتی رہی ہے۔

لیکن اب ریپبلکن سینیٹ امیدوار کین پیکسٹن بھی ڈیٹا سینٹرز پر تنقید کر رہے ہیں۔ وہ ان مراکز کو دی جانے والی ٹیکس رعایتوں کی مخالفت اور آپریٹرز پر بعض صورتوں میں سخت قانونی ذمہ داری عائد کرنے کی تجاویز دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے نئے قلعے: ہزاروں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر جاری، لاگت کتنی؟

یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ ٹیکساس خود بڑی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے حصول میں ایک نمایاں ریاست رہی ہے۔

برطانیہ میں بھی مخالفت بڑھ رہی ہے

ڈیٹا سینٹرز کے خلاف مزاحمت صرف امریکا تک محدود نہیں۔ برطانیہ میں بکنگھم شائر، برکشائر اور مشرقی لندن کے برک لین سمیت مختلف علاقوں میں مقامی آبادی نے نئے منصوبوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

برک لین میں ایک ایسے ڈیٹا سینٹر کی منصوبہ بندی کی مخالفت کی گئی جو لندن کے مالیاتی مرکز میں تیز رفتار تجارت کرنے والے اداروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہونا تھا۔

مقامی احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے کو ڈیٹا سینٹرز کے بجائے سماجی رہائش، مقامی کاروبار اور کمیونٹی کی ضروریات کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

ایک احتجاجی نعرے میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اے آئی کے لیے پانی پہلے یا انسانوں کے لیے؟

برطانیہ دنیا میں ڈیٹا سینٹرز کی تعداد کے اعتبار سے امریکا کے بعد تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ چین اس سے ایک درجے نیچے ہے۔

سلاؤ میں 500 سے زیادہ افراد نے احتجاج کیا

برطانیہ کے شہر سلاؤ میں، جہاں یورپ میں ڈیٹا سینٹرز کا سب سے بڑا مجموعہ موجود ہے، 500 سے زیادہ افراد نے ایک درخواست پر دستخط کیے اور مطالبہ کیا کہ شہر میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر عارضی طور پر روکی جائے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان کا شہر اس تیزی سے پھیلتی صنعت کے لیے ’تجربہ گاہ‘ نہیں بننا چاہیے۔

کچھ رہائشیوں نے یہ شکایت بھی کی کہ ڈیٹا سینٹرز سے پیدا ہونے والی حرارت نے گرم موسم کے دوران پہلے سے بلند درجہ حرارت کو مزید محسوس ہونے والا بنا دیا۔

ایک منصوبہ ایسی زمین پر بھی بنایا گیا جہاں پہلے تقریباً ایک ہزار گھروں کی تعمیر کی منصوبہ بندی کی گئی تھی لیکن بلدیاتی ادارے کی مالی مشکلات دور کرنے کی کوشش میں زمین ڈیٹا سینٹر کمپنی کو فروخت کردی گئی۔

برطانیہ ڈیٹا سینٹرز کو قومی اہمیت کیوں دے رہا ہے؟

دوسری جانب برطانوی حکومت ڈیٹا سینٹرز کو صرف نجی کاروباری منصوبے نہیں سمجھتی۔

لیبر حکومت نے گزشتہ سال ڈیٹا سینٹرز کو اہم قومی بنیادی ڈھانچے کا درجہ دیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ مراکز عوامی خدمات کے لیے ضروری ہیں، سرمایہ کاری لانے میں مدد دے سکتے ہیں اور عالمی معیشت میں برطانیہ کی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں۔

حکومت ایسے منصوبوں کی تعمیر تیز کرنے کے لیے بعض علاقوں کو ’ اے آئی گروتھ زونز‘ کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے، جہاں زمین، بجلی کے نظام اور صنعتی انفرااسٹرکچر کی دستیابی کو مدنظر رکھا جائے گا۔

تاہم یہاں بھی ترقی اور ماحول کے درمیان توازن ایک مشکل سوال بن چکا ہے۔

بکنگھم شائر میں ایک ڈیٹا سینٹر منصوبہ مقامی کونسل کی مخالفت کے باوجود مرکزی حکومت نے منظور کیا کیونکہ منصوبہ گرین بیلٹ پر تعمیر ہونا تھا۔ بعد میں ماحولیاتی اثرات کا مناسب جائزہ نہ لینے پر مہم چلانے والوں نے عدالت سے رجوع کیا۔

مزید پڑھیے: ’کیا ٹیک کمپنیوں کا کلاؤڈ ڈیٹا دنیا کو پانی سے محروم کر رہا ہے؟ ایمیزون کا حیران کن اعتراف

حکومت نے اپنی منظوری میں غلطیوں کو تسلیم کیا اور اسے واپس لے لیا۔ بعد ازاں منصوبہ تیار کرنے والی کمپنی نے بھی کونسل کے ساتھ صاف توانائی کے حوالے سے پابند شرائط پر اتفاق کرنے کی ضرورت تسلیم کی۔

پانی کا سوال بھی اہم

ماحولیاتی کارکنوں کی ایک بڑی تشویش پانی ہے۔

ٹیکنالوجی صنعت کا مؤقف ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کا پانی کا استعمال مجموعی ملکی ضیاع کے مقابلے میں اتنا بڑا نہیں لیکن پانی کے شعبے سے وابستہ اداروں نے حکومت کی اے آئی حکمت عملی میں پانی کے مسئلے کو نظرانداز کرنے پر اعتراض کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ تصور درست نہیں کہ ملک کی اقتصادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمیشہ وافر پانی دستیاب رہے گا۔

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ اے آئی کے پھیلاؤ کے ساتھ ڈیٹا سینٹرز کی تعداد اور صلاحیت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

اے آئی کی توانائی کی ضرورت اور موسمیاتی تبدیلی

ڈیٹا سینٹرز کا سب سے بڑا ماحولیاتی مسئلہ ان کی توانائی کی ضرورت بھی ہے۔

اے آئی کمپنیوں کے بڑے مراکز کو مسلسل بڑی مقدار میں بجلی درکار ہوتی ہے جس کے باعث موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اہداف اور اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ پر بھی بحث جاری ہے۔

این ویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ نے ماضی میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ اے آئی کی ایجاد اور اس کا پھیلاؤ اولین ترجیح ہے اور یہی ٹیکنالوجی مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے حل میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

برطانیہ میں موجودہ منصوبوں کے تحت سنہ 2030 تک ڈیٹا سینٹرز کی مسلسل بجلی کی صلاحیت تقریباً تین گنا بڑھا کر 6 گیگاواٹ کرنے کا ہدف زیر بحث ہے۔

مزید پڑھیں: اے آئی کے پھیلاؤ کے دوران نیویارک کا بڑا فیصلہ، بڑے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر ایک سالہ پابندی

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی اضافی بجلی کی ضرورت برطانیہ کے خالص صفر اخراج کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکتی ہے؟

اے آئی کا فائدہ قومی، نقصان مقامی؟

ڈیٹا سینٹرز کے تنازعے کا شاید سب سے بنیادی سوال یہی ہے۔ حکومتیں اور ٹیکنالوجی کمپنیاں کہتی ہیں کہ اے آئی سے پوری معیشت، صحت، قومی سلامتی اور عوامی خدمات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

لیکن مقامی رہائشیوں کو اس کے اثرات اپنے گھروں کے قریب نظر آتے ہیں یعنی بجلی کا بنیادی ڈھانچہ، پانی کی طلب، شور، رات بھر کی روشنیاں، گرمی اور زمین کا استعمال۔

یہ فرق اس وقت مزید نمایاں ہوجاتا ہے جب ایک ڈیٹا سینٹر میں مقامی طور پر مستقل روزگار پیدا کرنے والے افراد کی تعداد نسبتاً کم ہو جبکہ اے آئی کمپنیاں مستقبل میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کے امکانات پر بھی بحث کر رہی ہوں۔

اسی لیے صرف یہ کہنا کہ اے آئی قومی معیشت کے لیے فائدہ مند ہوگی مقامی آبادی کو اپنے علاقے میں ڈیٹا سینٹر قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہورہا۔

ڈیٹا سینٹرز کے بغیر اے آئی کی دوڑ ممکن ہے؟

دوسری جانب حکومتوں کے لیے ڈیٹا سینٹرز سے مکمل طور پر دور رہنا بھی آسان نہیں۔ برطانیہ میں یہ بحث صرف اقتصادی ترقی تک محدود نہیں بلکہ ڈیٹا خودمختاری سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ حکومت میں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر ملک اپنی اہم ڈیجیٹل خدمات کے لیے مکمل طور پر امریکا یا دوسرے ممالک کے انفرااسٹرکچر پر انحصار کرے تو مستقبل میں یہ اسٹریٹجک خطرہ بن سکتا ہے۔

اے آئی کے شعبے میں بعض ماہرین یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کے معاشرے اور معیشت پر اثرات اتنے بڑے ہوسکتے ہیں کہ حکومتوں کے لیے مستقبل میں اس سے پیدا ہونے والی دولت پر ٹیکس لگانے کے نئے طریقے تلاش کرنا ضروری ہوجائیں گے۔ بڑے ڈیٹا سینٹرز اس حوالے سے ایک اہم بنیادی ڈھانچہ بن سکتے ہیں۔

یوں دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں حکومتوں کو ایک طرف اے آئی کی عالمی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا خدشہ ہے، جبکہ دوسری طرف مقامی آبادی کے بجلی، پانی، ماحول، زمین اور روزگار سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔

امریکا میں بعض ایسے سیاست دان بھی اب ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت کر رہے ہیں جو ماضی میں انہیں اپنے علاقوں میں لانے کے حامی تھے۔ جہاں پہلے کمپنیوں کو ٹیکس مراعات دینے کی دوڑ تھی، وہاں اب بعض مقامات پر انہی کمپنیوں سے زیادہ ٹیکس اور مقامی اخراجات کا حصہ ادا کرنے کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ایلون مسک کا زمین پر بجلی اور پانی کی قلت سے بچنے کے لیے ڈیٹا سینٹرز خلا میں منتقل کرنے کا اعلان

اس طرح اے آئی کا عالمی انقلاب ایک ایسے مقامی سیاسی اور ماحولیاتی سوال سے دوچار ہوگیا ہے جسے صرف ٹیکنالوجی کی ترقی یا قومی اقتصادی فائدے کی دلیل سے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp