یونیورسٹی جانے سے پہلے طلبہ کیا جاننا چاہتے ہیں؟ پڑھائی سے زیادہ مشکل گھر سے دور زندگی ہوسکتی ہے

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہزاروں نوجوان ہر سال یونیورسٹی کی تعلیم کے لیے گھر سے دور جاتے ہیں اور اکثر ان کی توجہ داخلے، مضامین، امتحانات اور تعلیمی کارکردگی پر ہوتی ہے لیکن یونیورسٹی کی زندگی میں کچھ ایسے چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں جن کے لیے بہت سے طلبہ پہلے سے تیار نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا کی امیگریشن پالیسی سخت، طلبہ اور سیاحوں کے لیے نیا پالیسی فریم ورک نافذ العمل

گھر سے دور رہنا، نئے لوگوں کے ساتھ رہائش اختیار کرنا، تنہائی سے نمٹنا، روزمرہ کے کام خود کرنا اور مختلف ماحول میں خود کو ڈھالنا بعض اوقات پڑھائی سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔

دوسروں کے ساتھ رہنا بھی ایک نیا تجربہ

گھر میں خاندان کے ساتھ رہنے والے نوجوان جب پہلی مرتبہ ہاسٹل یا مشترکہ رہائش میں جاتے ہیں تو انہیں مختلف عادات اور معمولات رکھنے والے لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنی پڑتی ہے۔

کھانے کے اوقات، سونے جاگنے کے معمولات، صفائی، شور اور ذاتی جگہ جیسے معاملات بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں لیکن نئے طالب علم کے لیے یہ سب ایک بڑا تجربہ ہوسکتے ہیں۔

ایک طالبہ نے بتایا کہ خاندان سے الگ ہوکر دوسرے لوگوں کے ساتھ جگہ بانٹنا اس کے لیے ابتدائی طور پر عجیب تجربہ تھا کیونکہ ہر شخص کے معمولات مختلف ہوتے ہیں۔

اس کے مطابق یونیورسٹی کی مختلف سرگرمیوں اور نئے طلبہ کے لیے منعقد ہونے والی تقریبات میں شرکت نے اسے نئے ماحول میں گھلنے ملنے میں مدد دی تاہم اس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ تنہائی تھا۔

مزید پڑھیے: کینیڈا میں اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند طلبہ کے لیے سہولت، حکومت نے بڑا اعلان کردیا

اس نے بتایا کہ جب وہ اکیلی ہوتی تو اسے سب سے زیادہ مشکل محسوس ہوتی تھی کیونکہ گھر سے دور رہ کر اپنے خیالات کے ساتھ اکیلے رہنا بعض اوقات پریشان کن ہوسکتا ہے۔

تنہائی محسوس ہونا غیر معمولی بات نہیں

ماہرین کے مطابق یونیورسٹی کے پہلے سال میں بہت سے طلبہ تنہائی، گھبراہٹ یا بے یقینی محسوس کرتے ہیں خصوصاً اس وقت جب وہ پہلی بار گھر سے دور رہ رہے ہوں۔

نوعمر اور نوجوانوں کی نفسیاتی معاونت کی ماہر کمبرلی فلر کے مطابق طلبہ کے لیے سب سے اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔

ان کے مطابق اگر کوئی طالب علم گھر سے دور ہونے یا تنہا رہنے کی وجہ سے پریشان یا گھبرایا ہوا محسوس کررہا ہے تو امکان ہے کہ آس پاس موجود دوسرے طلبہ بھی اسی طرح کے جذبات سے گزر رہے ہوں۔

ماہر کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں پیش آنے والی بہت سی مشکلات دراصل ان حالات کا نتیجہ ہوتی ہیں جن کا سامنا نوجوان پہلی مرتبہ کررہے ہوتے ہیں اس لیے غلطیاں ہونا فطری ہے۔

ایسے میں طالب علم کو چاہیے کہ مسئلہ اپنے اندر رکھنے کے بجائے کسی قابل اعتماد شخص سے بات کرے، خواہ وہ دوست، روم میٹ، استاد، والدین یا یونیورسٹی کی طلبہ معاونت کی خدمات سے وابستہ کوئی فرد ہو۔

ماہر کے مطابق مسائل کو جتنا زیادہ اپنے اندر رکھا جائے گا اتنی ہی بے چینی بڑھ سکتی ہے۔

کھانا پکانا اور گھر کے کام بھی اہم ہنر

گھر سے یونیورسٹی جانے والے بہت سے نوجوانوں کو پہلی مرتبہ کھانا پکانے، کپڑے دھونے، خریداری کرنے، صفائی رکھنے اور محدود رقم میں روزمرہ اخراجات پورے کرنے جیسے کام خود کرنے پڑتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا میں غیرملکی طلبہ کے لیے امیگریشن نظام تبدیل، نئی پابندیاں کل سے نافذ

ایک برطانوی شیف نے اپنی بیٹی کے یونیورسٹی جانے سے قبل اسے آسان کھانے پکانے کے طریقے بتانے کے لیے مختصر ویڈیوز بنانی شروع کیں۔ بعد میں یہی مواد ایک کتاب کی شکل اختیار کرگیا جس میں کھانا پکانے کے ساتھ گھر سے دور زندگی گزارنے کے لیے عملی مشورے بھی شامل تھے۔

ان کے مطابق کھانا پکانا محض پیٹ بھرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا ہنر ہے جو طلبہ کے اخراجات کم کرسکتا ہے اور انہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ وقت گزارنے اور تعلقات بنانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

طلبہ کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ گھر میں والدین کی موجودگی میں معمولی لگنے والے کام جیسے کہ کپڑے دھونا، کھانے کا انتظام کرنا یا گھر کا سامان خریدنا جب خود کرنا پڑیں تو ان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

مختلف لوگوں اور ثقافتوں کے ساتھ رہنے کے لیے تیار رہیں

یونیورسٹی میں مختلف شہروں، علاقوں اور بعض اوقات مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ ایک ساتھ رہتے اور پڑھتے ہیں۔ اس لیے ہر طالب علم کی عادات، ترجیحات اور سماجی رویے مختلف ہوسکتے ہیں۔

گھر سے دور کسی دوسرے ملک جانے والے طلبہ کے لیے یہ تبدیلی مزید بڑی ہوسکتی ہے کیونکہ انہیں زبان اور رہن سہن کے علاوہ موسم، کھانے، سماجی رویوں اور لوگوں کے طرز زندگی سے بھی خود کو ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے۔

ایک طالب علم نے بتایا کہ اپنے ملک میں کپڑے ہاتھ سے دھونا معمول کی بات تھی جبکہ نئے ملک میں واشنگ مشین اور کپڑے خشک کرنے والی مشینوں کا عام استعمال اس کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔

اس کے مطابق موسم، کھانے اور گھر سے دوری بھی ابتدائی مشکلات میں شامل تھے جبکہ مختلف معاشروں میں لوگوں کے ایک دوسرے سے میل جول اور ذاتی آزادی کے تصورات بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

اسی طرح ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نے بتایا کہ نئے ملک میں یونیورسٹی کی سماجی سرگرمیوں کا ماحول اس کے لیے مختلف تھا اور اسے وہاں کے بعض سماجی رجحانات سے خود کو ہم آہنگ کرنا پڑا۔

والدین طلبہ کی تیاری کیسے کرسکتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق والدین کو چاہیے کہ بچوں کے یونیورسٹی جانے سے پہلے انہیں روزمرہ زندگی کے بنیادی کام سکھائیں۔

سادہ کھانا پکانا، کپڑے دھونا، اپنے اخراجات کا حساب رکھنا، ضروری اشیا خریدنا، اپنے کمرے اور اردگرد کی صفائی برقرار رکھنا اور ہنگامی صورت حال میں مناسب فیصلہ کرنا ایسے ہنر ہیں جو گھر سے دور زندگی میں بہت کام آتے ہیں۔

یونیورسٹی شروع ہونے کے بعد والدین کے لیے بھی توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ فون کالز اور پیغامات کے ذریعے بچوں سے رابطے میں رہنا انہیں جذباتی سہارا دے سکتا ہے لیکن انہیں ہر مسئلے کا حل خود فراہم کرنے کے بجائے فیصلے کرنے اور مسائل سے نمٹنے کا موقع بھی دینا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق والدین کو بچوں کی بات بغیر تنقید یا فوری فیصلہ سنائے سننی چاہیے اور انہیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ یونیورسٹی کی زندگی میں گھبراہٹ، غلطیاں اور مشکلات کا سامنا کرنا معمول کی بات ہے۔

والدین کے لیے بھی یہ تبدیلی آسان نہیں ہوتی کیونکہ گھر میں موجود بچے کے مسائل حل کرنے کے بجائے اب اسے خود فیصلے کرنے دینے پڑتے ہیں۔ بعض والدین میں بچے کے گھر سے دور جانے کے بعد اپنی نوعیت کی بے چینی بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

یونیورسٹی کی تیاری صرف کتابوں تک محدود نہیں

ماہرین کے مطابق یونیورسٹی جانے کی تیاری صرف داخلہ لینے، کتابیں خریدنے یا تعلیمی منصوبہ بندی تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

نئے طالب علم کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اسے گھر سے دور رہتے ہوئے اپنے جذبات، روزمرہ کاموں، مالی معاملات، سماجی تعلقات اور پڑھائی کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ مشکل محسوس ہونے کی صورت میں خاموش رہنے کے بجائے کسی قابل اعتماد شخص سے بات کی جائے۔ گھر سے دور نئی زندگی شروع کرنا ہر طالب علم کے لیے مختلف تجربہ ہوسکتا ہے لیکن ابتدا میں پیش آنے والی مشکلات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس زندگی کے لیے موزوں نہیں۔

مزید پڑھیں: ایچ ای سی اور یو ایس ای ایف پی کا معاہدہ، پاک امریکا تعلقات میں اہم پیشرفت، طلبہ کے لیے مفید

وقت کے ساتھ نئے ماحول، نئے لوگوں اور نئی ذمہ داریوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا بھی یونیورسٹی کے تجربے کا ایک اہم حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp