وفاقی حکومت نے بچوں میں سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے اور عمر کی حد مقرر کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بچوں کے آن لائن استحصال اور فحاشی کی روک تھام کی جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارتِ داخلہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر بچوں کے استحصال اور ’فیملی ولاگنگ‘ کے نام پر پھیلائی جانے والی ناپسندیدہ مواد کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کیا سرکاری کام کے دن تبدیل ہوگئے؟ سوشل میڈیا پر وائرل نوٹیفکیشن کی حقیقت سامنے آگئی
اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے لیے کم از کم عمر کی حد طے کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرز پر مخصوص پلیٹ فارمز پر محدود یا کامل پابندی عائد کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
تمام اہم اداروں سے مشاورت
حکومتی تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے وزارتِ داخلہ نے تمام متعلقہ اداروں کا اہم اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حکام اور وفاقی و صوبائی پولیس کے نمائندے شرکت کریں گے۔
اجلاس میں بچوں کے استحصال اور غیر اخلاقی مواد کے کیسز کا تفصیلی ڈیٹا بھی پیش کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مشاورتی عمل میں آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک کی سوشل میڈیا پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
دنیا بھر میں ٹک ٹاک، یوٹیوب، فیس بک اور انسٹاگرام کے بچوں کی صحت اور سلامتی پر منفی اثرات کے باعث شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ آسٹریلیا نے گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی تھی، جس کے بعد سال 2026 میں کئی دیگر ممالک نے بھی یہی راستہ اپنایا ہے جبکہ یورپی کمیشن نے 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ایسی ہی تجویز پیش کی ہے۔
پنجاب اسمبلی کی قرارداد
پاکستان میں اس سے قبل 1 ستمبر کو پنجاب اسمبلی نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی کی قرارداد منظور کی تھی۔
مزید پڑھیں:عروہ حسین کی زبردست اداکاری، ڈراما سیریل’آپ کی عزت‘ کا دھماکے دار سین سوشل میڈیا پر وائرل
مسلم لیگ (ن) کی رکن سارہ احمد کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد میں پنجاب حکومت کے توسط سے وفاق سے اپیل کی گئی تھی کہ بچوں کے لیے والدین کی اجازت اور عمر کی درست تصدیق کا مؤثر قانونی نظام قائم کیا جائے۔













