آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں مبینہ طور پر والد کی جانب سے نہر میں پھینکے گئے 3 بچوں میں سے 2 بہن بھائیوں کی لاشیں برآمد کرلی گئیں، جبکہ تیسرے بچے کی لاش نہ ملنے پر ریسکیو آپریشن ختم کردیا گیا۔
میرپور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سردار نجم سدوزئی کے مطابق ریسکیو 1122 کے غوطہ خوروں نے کھڑی شریف نہر میں تیسرے بچے کی لاش کی تلاش کے لیے آپریشن کیا، تاہم لاش برآمد نہ ہونے پر کارروائی روک دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 100 بچوں کے سفاک قاتل نے سزائے موت ملنے پر صحافی کا شکریہ ادا کیوں کیا؟
کھڑی شریف نہر دریائے جہلم سے نکلتی ہے اور آزاد کشمیر کے میرپور اور پنجاب کے ضلع جہلم میں منگلا ڈیم کی نہر کے درمیان سرحدی علاقے میں واقع ہے۔
جہلم کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شفیق چوہدری نے تصدیق کی کہ پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے میرپور میں اپنے 3 بچوں، 2 بیٹیوں اور ایک بیٹے کو نہر میں پھینک دیا۔
ڈی پی او کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ مشتبہ شخص نشے کا عادی ہے جبکہ اس کے اپنی اہلیہ کے ساتھ تعلقات بھی کشیدہ تھے اور اہلیہ اپنے والدین کے گھر رہ رہی تھی۔ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
شفیق چوہدری کے مطابق جہلم پولیس مختلف پہلوؤں سے مشتبہ شخص سے تفتیش کررہی ہے تاکہ بچوں کے لاپتا ہونے کے حالات کا تعین کیا جاسکے۔
ڈی پی او نے بتایا کہ بچوں کی والدہ کی جانب سے 3 بچوں کے لاپتا ہونے پر شور مچانے کے بعد مشتبہ شخص نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف کیا۔
ان کے مطابق مشتبہ شخص 3 بچوں کو ‘سیر کے لیے’ اپنے ساتھ لے کر گیا تھا، تاہم واپس نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: حنا جاوید قتل کیس: ’وہ شوہر کے غصے سے بچنے کی کوشش کرتی تھیں‘
ڈی پی او کے مطابق مشتبہ شخص کے نشے کا عادی ہونے کے باعث بچوں کے واپس نہ آنے پر ان کی والدہ کو تشویش ہوئی اور انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس افسر کے مطابق جہلم میں منگلا تھانے نے شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا، جہاں اس نے پولیس کو بتایا کہ اس نے اپنے 3 بچوں کو دریائے جہلم کی ایک نہر میں پھینک دیا تھا۔
بچوں کی والدہ کی شکایت پر پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 363 کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
ایف آئی آر میں بچوں کی والدہ نے مؤقف اختیار کیا کہ 15 ستمبر 2026 کو شام تقریباً 6 بجے وہ اپنے بھائی کے ہمراہ بچوں کو پیر بھچن دربار کی زیارت کے لیے لے گئی تھیں۔
شکایت کے مطابق واپسی پر دینہ میں منگلا روڈ پر ایک بیکری کے سامنے ان کے بھائی نے گاڑی روکی، جہاں وہ بچوں کے لیے کچھ اشیا خریدنے بیکری کے اندر چلی گئیں۔
خاتون کے مطابق ان کی غیر موجودگی میں ان کے شوہر ذیشان 2 نامعلوم افراد کے ہمراہ ان کے بھائی کی گاڑی کے قریب پہنچے اور کہا کہ وہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی جارہے ہیں، بچوں کو پارک لے جائیں گے اور بعد میں انہیں واپس کردیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: بچوں کے سامنے ماں باپ اور دادی کو پھانسی دینے اور ذبح کرنے کا واقعہ، تہرے قتل کے پیچھے کون؟
خاتون نے بتایا کہ شوہر کی باتوں پر یقین کرتے ہوئے ان کے بھائی نے 3 بچوں کو ذیشان کے حوالے کردیا۔ کچھ ہی دیر بعد انہیں اور ان کے بھائی کو بچوں کے حوالے سے شدید تشویش ہوئی۔
شکایت کے مطابق جب انہوں نے اپنے شوہر سے موبائل فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تو فون بند تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اپنی استطاعت کے مطابق بچوں کو تلاش کیا، تاہم ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔













