نئی سائنسی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ علاج کی کامیابی کا اصل معیار مجموعی صحت میں بہتری، بیماریوں کے خطرات میں کمی اور طویل مدت تک حاصل ہونے والے فوائد کا برقرار رہنا ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا بچپن کا موٹاپا زندگی بھر کے خطرے کی علامت ہے؟
موٹاپا ایک طویل مدتی صحت کا مسئلہ ہے جو ٹائپ 2 ذیابیطس، بلند فشار خون، دل کی شریانوں کی بیماری، فالج اور بعض اقسام کے سرطان سمیت متعدد بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔
امریکا میں 40 فیصد سے زیادہ بالغ افراد موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ اگر موٹاپے کی تعریف میں کمر کا گھیر اور جسم میں چربی کی تقسیم جیسے عوامل بھی شامل کیے جائیں تو یہ شرح تقریباً 70 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔
عام طور پر موٹاپے کے علاج کا بنیادی مقصد وزن کم کرکے اسے صحت مند اور قابل برقرار سطح پر رکھنا سمجھا جاتا ہے تاہم اینڈوکرائن سوسائٹی کے ایک نئے سائنسی بیان میں کہا گیا ہے کہ علاج کی کامیابی کو صرف وزن میں کمی سے نہیں ناپنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق اس کے بجائے یہ دیکھا جانا چاہیے کہ علاج سے مجموعی صحت میں کتنی بہتری آئی، موٹاپے سے متعلق پیچیدگیوں میں کتنا کمی ہوئی اور یہ فوائد طویل عرصے تک برقرار رہ سکے یا نہیں۔
یہ سائنسی بیان اینڈوکرائن سوسائٹی کے جریدے اینڈوکرائن ریویوز میں شائع ہوا ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں تیزی سے بڑھتا موٹاپا، عوام اور ماہرین کیا کہتے ہیں؟
رپورٹ میں موٹاپے سے متعلق تحقیق میں ہونے والی اہم پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا ہے جن میں سیماگلوٹائڈ اور ٹرائزیپٹائڈ جیسی زیادہ مؤثر ادویات کا سامنے آنا بھی شامل ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اب بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ موٹاپا مختلف افراد میں مختلف انداز سے کیوں پیدا ہوتا ہے، لوگ علاج کے لیے مختلف ردعمل کیوں دیتے ہیں اور نئی ادویات کئی برس تک استعمال کرنے کی صورت میں کتنی محفوظ اور مؤثر رہتی ہیں۔
جی ایل پی۔ون ادویات نے موٹاپے کے علاج کا منظرنامہ بدل دیا
گلوکاگون نما پیپٹائڈ۔ون یعنی جی ایل پی۔ون کے راستے پر اثر انداز ہونے والی نئی ادویات جن میں سیماگلوٹائڈ اور ٹرائزیپٹائڈ شامل ہیں، نے موٹاپے کے علاج میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔
یہ ادویات زائد وزن اور موٹاپے کے علاج کے لیے استعمال کی جارہی ہیں اور ان سے موٹاپے سے جڑے بعض دیگر طبی مسائل میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔
محققین اب یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان ادویات کے ممکنہ فوائد دل، گردوں، جگر اور نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری کے علاوہ سرطان، نشہ آور اشیا کے استعمال سے متعلق مسائل، جوڑوں کے درد اور بانجھ پن جیسے مسائل میں بھی ہوسکتے ہیں یا نہیں۔
مزید پڑھیں: موٹاپا کم کرنے والے انجیکشن چھوڑنے کے بعد وزن قابو میں رکھنے کے لیے نئی گولی پر امید افزا تحقیق
یہ وسیع تر ممکنہ فوائد ایک اہم سوال پیدا کرتے ہیں کہ کیا موٹاپے کے علاج کی کامیابی کا سب سے اہم پیمانہ صرف یہ ہونا چاہیے کہ مریض نے کتنا وزن کم کیا؟ اینڈوکرائن سوسائٹی کے مطابق جواب نفی میں ہے۔
ترازو کے ہندسے کے بجائے صحت کو اہمیت دینے کی ضرورت
ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کم ہونا موٹاپے کے علاج کا اہم حصہ ضرور ہوسکتا ہے لیکن آخری مقصد صحت کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔
مثلاً کسی مریض کے لیے علاج کی کامیابی کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اس میں دل کی بیماری کا خطرہ کم ہوجائے، ذیابیطس قابو میں آجائے، جسمانی سرگرمی بہتر ہوجائے یا موٹاپے سے جڑی کسی بیماری کی شدت کم ہوجائے۔
اینڈوکرائن سوسائٹی کے سائنسی بیان کی تحریری ٹیم کے سربراہ اور ٹورنٹو کے ماؤنٹ سائی نائی اسپتال سے وابستہ ڈاکٹر ڈینیئل ڈرکر کے مطابق علاج کی کامیابی کے اہم اہداف طبی اعتبار سے بامعنی نتائج ہونے چاہییں صرف وزن میں کمی کا فیصد نہیں۔
ان کے مطابق بعض بیماریوں، مثلاً نیند کے دوران سانس رکنے اور گھٹنوں کے جوڑوں کے مسائل میں وزن جتنا کم ہوتا ہے بیماری میں اتنی ہی بہتری آنے کا تعلق نسبتاً واضح ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا موٹاپا، ذیابیطس اور سگریٹ نوشی ڈیمنشیا کی وجہ بن سکتے ہیں؟
لیکن دل کے دورے، فالج، دل کی بیماری سے ہونے والی اموات، جگر میں چربی سے متعلق بیماری اور ذیابیطس سے جڑے گردوں کے امراض جیسے مسائل میں بہتری صرف وزن کم ہونے کی وجہ سے نہیں آتی بلکہ بعض ایسے عوامل بھی کردار ادا کرسکتے ہیں جو براہ راست وزن کم ہونے سے متعلق نہیں ہوتے۔
اسی لیے ہر مریض کے لیے صحت میں بہتری کو صرف وزن کم کرنے کے ہدف تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔
ہر مریض کے لیے علاج کا مقصد مختلف ہوسکتا ہے
ماہرین کے مطابق موٹاپے کے علاج میں ہر شخص کے لیے ایک ہی ہدف مقرر کرنا درست نہیں۔
ڈاکٹر ڈرکر کے مطابق علاج کی کامیابی کا انحصار مریض کی ضروریات اور اس بات پر ہونا چاہیے کہ وہ موٹاپے سے جڑی کن بیماریوں یا پیچیدگیوں سے بچنا یا انہیں بہتر کرنا چاہتا ہے۔
کسی شخص کے لیے چند کلو وزن کم کرنا ہی صحت میں نمایاں بہتری کا سبب بن سکتا ہے جبکہ کسی دوسرے فرد کو کسی مخصوص بیماری کی شدت کم کرنے کے لیے زیادہ وزن کم کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر مریض کی مجموعی صحت، خدشات اور اہداف کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ذاتی نوعیت کا علاج وضع کیا جانا چاہیے۔
اس میں وزن کم کرنے کا مخصوص ہدف شامل ہوسکتا ہے لیکن علاج صرف اسی ہدف تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
نئی ادویات کے ساتھ نئے سوالات بھی
موٹاپے کی نئی ادویات پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہورہی ہیں، لیکن ان کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ انہیں کن افراد کو دیا جائے، کتنے عرصے تک استعمال کیا جائے اور علاج کی کامیابی کو کن نتائج سے جانچا جائے۔
ماہرین کے مطابق ان سوالات کے جوابات ملنے سے موٹاپے کی حیاتیاتی وجوہات کو بہتر طور پر سمجھنے، زیادہ درست اور مخصوص علاج وضع کرنے اور نئی ادویات کے محفوظ استعمال میں مدد مل سکتی ہے۔
نئی ادویات کتنے عرصے تک محفوظ ہیں؟
اینڈوکرائن سوسائٹی کے بیان میں نئی ادویات کے ممکنہ فوائد کے ساتھ ان کی طویل مدتی حفاظت سے متعلق سوالات پر بھی زور دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی لگ بھگ آدھی بالغ آبادی فیٹی لیور کے مرض میں مبتلا ہوچکی، ماہرین صحت
محققین کو یہ بہتر طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ادویات جسم پر براہ راست کیا اثرات مرتب کرتی ہیں، تیزی سے وزن کم ہونے کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں اور کئی برس تک علاج جاری رکھنے سے کوئی ممکنہ خطرات پیدا ہوتے ہیں یا نہیں۔
چونکہ بہت سی نئی ادویات پر ابھی اتنے طویل عرصے تک تحقیق نہیں ہوئی کہ اس پورے عرصے کا جائزہ لیا جاسکے جس دوران مریض انہیں ممکنہ طور پر استعمال کرسکتے ہیں اس لیے طویل مدتی تحقیق ضروری قرار دی گئی ہے۔
ماہرین نے بڑی، طویل مدتی اور مختلف آبادیوں کو شامل کرنے والی طبی تحقیق کے ساتھ حقیقی دنیا سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے زیادہ استعمال پر بھی زور دیا ہے۔
دوا چھوڑنے کے بعد وزن دوبارہ بڑھ سکتا ہے
موٹاپا عام طور پر طویل مدتی علاج کا متقاضی ہوتا ہے، لیکن ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ جی ایل پی ون ادویات استعمال کرنے والے تقریباً نصف افراد انہیں شروع کرنے کے ایک سال کے اندر چھوڑ دیتے ہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد مطلوبہ وزن حاصل کرنے کے بعد موٹاپے کی دوا چھوڑ دیتے ہیں ان کا وزن دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتا ہے۔
اس کے ساتھ بعض صحت کے اشاریوں، مثلاً بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور خون میں شوگر کی سطح میں بھی دوبارہ خرابی آسکتی ہے۔
اسی لیے اب تحقیق کا ایک اہم رخ یہ جاننا ہے کہ کیا مریض کم مقدار میں دوا استعمال کرتے ہوئے بھی صحت کے فوائد برقرار رکھ سکتے ہیں، یا ابتدائی علاج کے بعد کسی دوسری دوا کی طرف منتقل ہونا زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیے: بچوں میں موٹاپے کا مسئلہ، 22 کروڑ بچے متاثر ہونے کا خدشہ
اس طرح مستقبل میں ڈاکٹروں کو ہر شخص کے لیے ایک ہی دوا، ایک ہی خوراک اور ایک ہی مدت تجویز کرنے کے بجائے زیادہ ذاتی نوعیت کے علاج کے منصوبے بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
تحقیق کے لیے 6 اہم ترجیحات
اینڈوکرائن سوسائٹی کے سائنسی بیان میں مستقبل کی تحقیق کے لیے 6 اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے:
جسم چربی کو کس طرح ذخیرہ اور منظم کرتا ہے؟
مختلف افراد میں موٹاپا مختلف انداز سے کیوں پیدا ہوتا ہے اور اس فرق کو علاج میں کیسے شامل کیا جائے؟
علاج کے اہداف کو وزن کم کرنے سے آگے کیسے بڑھایا جائے؟
وقت گزرنے کے ساتھ جسم موٹاپے کے خلاف استعمال ہونے والی ادویات پر کس طرح ردعمل دیتا ہے؟
ان ادویات سے صحت کے کن پہلوؤں میں حقیقی بہتری آتی ہے؟
نئی موٹاپا مخالف ادویات طویل عرصے تک استعمال کرنے کی صورت میں کتنی محفوظ ہیں؟
ان سوالات کے جوابات سے مستقبل میں موٹاپے کے علاج کو زیادہ مخصوص اور مریض کی ضرورت کے مطابق بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
کتنے وزن کی کمی کافی ہے؟
ماہرین کے مطابق اس کا کوئی ایک جواب نہیں، کیونکہ ہر مریض کی صورتحال مختلف ہوتی ہے۔
ڈاکٹر ڈرکر نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کا جسمانی وزن اشاریہ یعنی بی ایم آئی 28 ہو اور اسے حال ہی میں دل کا دورہ پڑا ہو تو ممکن ہے کہ وہ جی ایل پی۔ون دوا سے فائدہ اٹھائے، لیکن اپنی صحت بہتر بنانے کے لیے اسے لازماً 15 سے 20 فیصد وزن کم کرنے کا ہدف مقرر کرنے کی ضرورت نہ ہو۔
اس کے برعکس کسی ایسے شخص کا بی ایم آئی 37 ہو اور وہ نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری میں مبتلا ہو تو ممکن ہے کہ اس کی صحت بہتر بنانے اور بیماری کی شدت کم کرنے کے لیے کم از کم 10 سے 15 فیصد وزن کم کرنا ضروری ہو۔
یعنی ایک شخص کے لیے مناسب وزن میں کمی دوسرے شخص کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔
اصل کامیابی بہتر صحت ہے
ماہرین کے مطابق موٹاپے کے علاج کے بارے میں سوچنے کا انداز اب آہستہ آہستہ تبدیل ہورہا ہے۔
وزن کم کرنا اہم ہے لیکن اسے علاج کا واحد مقصد نہیں سمجھنا چاہیے۔
اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا علاج نے مریض کو زیادہ صحت مند بنایا، موٹاپے سے جڑی بیماریوں کا خطرہ کم کیا، جسمانی کارکردگی بہتر کی اور یہ فوائد طویل مدت تک برقرار رکھنے میں مدد دی؟
یہ بھی پڑھیں: عمر بڑھنے کے ساتھ صحت کے بارے میں 7 عام غلط فہمیاں اور ان کی سائنسی حقیقت
نئی ادویات نے موٹاپے کے علاج کے امکانات ضرور بڑھا دیے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کا بہتر علاج وہ ہوگا جو ترازو پر نظر آنے والے ہندسے کے بجائے مریض کی مجموعی اور طویل مدتی صحت کو مرکز بنائے۔













