خطے میں جنگ کا پھیلاؤ مسلم امہ میں انتشار کا باعث بن سکتا ہے، ایمبیسیڈر رضا محمد

جمعہ 18 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیئر تجزیہ کار اور سابق سفیر رضا محمد نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ کو مزید پھیلانے کی کوششیں مسلم امہ کے درمیان انتشار اور اختلاف کا باعث بن سکتی ہیں، جبکہ سعودی قیادت کی جانب سے صبر و تحمل کا مظاہرہ خطے کو ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں جانے سے بچا رہا ہے۔

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اگر موجودہ صورتحال میں براہِ راست جنگ میں شامل ہو کر ردعمل دینا شروع کر دیتا تو پورا خطہ ایک بڑی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا تھا، جس میں ایران کے ساتھ اسرائیل اور دیگر ایران مخالف قوتیں بھی شامل ہو سکتی تھیں۔

مکہ یا طائف، ڈرون حملہ نظرانداز نہیں کیا جا سکتا

سفیر رضا محمد نے کہا کہ مکہ مکرمہ کے حوالے سے سامنے آنے والے ڈرون حملے کی اطلاعات میں مختلف باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق ڈرون کا ہدف مکہ مکرمہ کے بجائے طائف میں موجود ملٹری اور ایئر فورس بیس ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق ڈرون کو بروقت اور مؤثر انداز میں انٹرسیپٹ کر لیا گیا، تاہم مکہ مکرمہ ہو یا سعودی عرب کا کوئی ایئر بیس، اس نوعیت کے حملے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ حوثی اس وقت اپنے حملوں کی رفتار تیز کر رہے ہیں اور جنگ کے دائرہ کار اور تباہی کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول حوثیوں کی جانب سے اس نوعیت کی کارروائی دانش مندانہ اقدام نہیں اور اس کے پیچھے انہیں رہنمائی فراہم کرنے والی قوتوں کا کردار بھی زیرِ غور آنا چاہیے۔

جنگ کے پھیلاؤ کا فائدہ اسرائیل کو پہنچنے کا مؤقف

سفیر رضا محمد نے کہا کہ جنگ میں توسیع خواہ ایران، امریکہ یا کسی اور فریق کی جانب سے ہو، اس کا براہِ راست اور بالواسطہ فائدہ اسرائیل کو پہنچتا ہے۔

ان کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے اسرائیل کو لبنان، شام اور دیگر پڑوسی ممالک میں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا جواز ملتا ہے، جبکہ فلسطینیوں کے خلاف مزید کارروائیوں کا موقع بھی پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کا پھیلاؤ خطے کے تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لینے کی کوشش کے مترادف ہے اور ممکنہ طور پر خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک پر بھی دباؤ بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔

حوثیوں اور ایران کے تعلق پر مختلف پہلوؤں کا ذکر

سفیر رضا محمد نے حوثیوں اور ایران کے تعلق کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے کو مختلف پہلوؤں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایران کے لیے حوثیوں کی کارروائیوں کا براہِ راست فائدہ محدود جبکہ مستقبل میں نقصان زیادہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تناظر میں بحیرہ احمر کے راستے اور سعودی پائپ لائن کی اہمیت بھی سامنے آتی ہے۔

صومالی لینڈ اور بحیرہ احمر کی صورتحال کا حوالہ

سفیر رضا محمد نے صومالی لینڈ کی صورتحال کو بھی خطے کی موجودہ تبدیلیوں کے تناظر میں اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق حوثیوں کی کارروائیوں اور ان کی بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی، ڈرونز اور پریسیژن اسٹرائیک صلاحیت کو بھی اسی وسیع تر صورتحال میں دیکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حوثی سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت ظاہر کر چکے ہیں۔

حوثیوں سے متعلق امریکی مؤقف اور عمان میں رابطوں کا ذکر

سفیر رضا محمد کے مطابق سعودی قیادت کی جانب سے امریکہ سے حوثیوں کے خلاف کارروائی کی درخواست کے باوجود امریکہ نے دو مرتبہ ایسا کرنے سے انکار کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اطلاعات کے مطابق عمان میں حوثی قیادت اور امریکی حکام کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں حوثیوں کی جانب سے بعض یقین دہانیاں کرائی گئیں۔

ان کے مطابق حوثیوں نے یقین دہانی کرائی کہ یمن میں جنگ بندی برقرار رکھی جائے گی، امریکہ یا امریکی جہاز رانی اور تیل سے متعلق تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور اسرائیل کو بھی ہدف نہیں بنایا جائے گا۔

باب المندب پر کنٹرول اور اسرائیل سے متعلق پہلو

سفیر رضا محمد نے کہا کہ بحیرہ احمر کے داخلی راستے باب المندب کی صورتحال بھی انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق وہاں مختلف فریقوں کی موجودگی اور ان کے باہمی تعلقات کو اسرائیل کے ساتھ علاقائی صورتحال کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

سعودی قیادت کے تحمل کی تعریف

سفیر رضا محمد نے سعودی قیادت اور سعودی اسٹریٹجک کمیونٹی کی جانب سے موجودہ صورتحال میں تحمل کا مظاہرہ کرنے کو اہم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی قیادت نے دانش مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے فوری ردعمل کے بجائے صبر و تحمل کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کا براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہونا صرف سعودی عرب کے تحفظ کا معاملہ نہیں بلکہ پورے خطے کے مفاد سے جڑا ہوا ہے۔

پاکستان کی قیادت کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر

سفیر رضا محمد نے پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی کوششوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان صبر و تحمل کا توازن قائم رکھنے کے لیے کوششیں کیں۔

انہوں نے چین کی جانب سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مفاہمت کے لیے ماضی میں ادا کیے گئے کردار کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ ترکیہ سمیت دوست ممالک کی کوششیں بھی اہم ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ سعودی عرب کے صبر کو زیادہ نہیں آزمایا جانا چاہیے، کیونکہ موجودہ حالات میں سعودی عرب تنہا نہیں ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ

سفیر رضا محمد نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون بنیادی طور پر ایک دفاعی اور ڈیٹرنس معاہدہ ہے، جس کا مقصد کسی ایک فریق کے خلاف جارحانہ کارروائی نہیں بلکہ تینوں ممالک کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کا تحفظ ہے۔

ان کے مطابق اگر معاہدے میں شامل کسی ملک کی علاقائی سالمیت کو براہِ راست خطرہ لاحق ہوتا ہے یا اس پر حملہ کیا جاتا ہے تو تینوں ممالک باہمی مشاورت سے طے کریں گے کہ کس طرح ردعمل دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان اور ترکیہ کے ممکنہ ردعمل کو ہلکا نہیں لینا چاہیے، تاہم ان کے مطابق ابھی وہ صورتحال پیدا نہیں ہوئی جس میں معاہدے کے تحت براہِ راست دفاعی کارروائی ضروری ہو۔

سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات سات دہائیوں سے زائد پر محیط ہیں

سفیر رضا محمد نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض موجودہ دفاعی معاہدے تک محدود نہیں بلکہ سات دہائیوں سے زائد پرانے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان بھی عقیدت اور احترام کا گہرا رشتہ ہے، جبکہ حرمین شریفین سے وابستگی اس تعلق کو مزید اہم بناتی ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں بھی پاکستانی فورسز سعودی عرب میں تعینات رہی ہیں، جب سعودی عرب کو ممکنہ بیرونی حملے کا خدشہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کے تقدس اور دفاع کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف موجودہ معاہدے سے پہلے بھی واضح تھا اور معاہدہ نہ بھی ہوتا تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہتا۔

دفاعی معاہدہ جارحانہ نہیں، ڈیٹرنس کے لیے ہے

سفیر رضا محمد نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ بنیادی طور پر جارحانہ نوعیت کا نہیں بلکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف ڈیٹرنس کا ذریعہ ہے۔

ان کے مطابق اگر تینوں میں سے کسی ملک کی علاقائی سالمیت کو براہِ راست خطرہ لاحق ہوا تو صورتحال کے مطابق تینوں ممالک باہمی مشاورت سے ردعمل کا فیصلہ کریں گے۔

پاکستان کی سابقہ جنگ بندی کوششوں کا ذکر

سفیر رضا محمد نے پاکستان کی سابقہ سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس وقت بھی جنگ بندی کے لیے کردار ادا کیا جب صورتحال انتہائی سنگین تھی۔

ان کے مطابق اس وقت امریکہ کی جانب سے انتہائی سخت نوعیت کے بیانات سامنے آ رہے تھے، تاہم پاکستان نے فریقین سے رابطہ کرکے جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کوشش کا کریڈٹ پاکستان، اس کی عسکری قیادت اور وزیراعظم کو جاتا ہے۔

موجودہ جنگ محدود سطح پر ہونے کا دعویٰ

سفیر رضا محمد نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں امریکہ اور ایران کے درمیان جو تبادلے ہو رہے ہیں وہ سابقہ جنگ کی سطح کے نہیں بلکہ محدود پیمانے پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دستیاب اوپن سورس معلومات کے مطابق اسلام آباد امن مفاہمت کے حوالے سے طے شدہ شرائط اور طریقہ کار میں ایران کی رضامندی سے پیش رفت ہونا تھی، تاہم ان کے بقول امریکہ نے فوری طور پر اس مفاہمت سے علیحدگی اختیار کی، جس کے بعد صورتحال میں دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی۔

انہوں نے موجودہ صورتحال کو بنیادی طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع اور اس کے خطے پر اثرات کے تناظر میں بیان کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp