بھارتی ریاست مغربی بنگال میں خاتون آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کے تبادلے نے ایک تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ان کی ایک ویڈیو پر بعض ہندو تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین نے اعتراض کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سرکاری وردی میں موجود افسر نے ’السلام علیکم‘، ’ان شاء اللہ‘ اور ’جزاک اللہ‘ جیسے الفاظ کیوں استعمال کیے اور ’جے ہند‘ یا ’وندے ماترم‘ کیوں نہیں کہا۔
بشریٰ بانو 2021 بیچ کی آئی پی ایس افسر ہیں اور مغربی میدنی پور کے کھڑگ پور میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ 14 ستمبر کو مغربی بنگال حکومت نے انتظامی حکم جاری کرتے ہوئے انہیں اس عہدے سے ہٹا کر ریاستی مسلح پولیس کی چوتھی بٹالین میں ڈپٹی کمانڈنٹ مقرر کر دیا۔
سرکاری حکم نامے میں تبادلے کی وجہ ’عوامی مفاد‘ بتائی گئی ہے اور اس میں بشریٰ بانو کی ویڈیو، مذہبی الفاظ کے استعمال یا کسی شکایت کو تبادلے کی وجہ قرار نہیں دیا گیا۔ اسی حکم نامے کے تحت 2 دیگر پولیس افسران کے بھی تبادلے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: 14 افراد کو عمر قید سنانے والی مسلمان خاتون جج کو ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیاں
تاہم، تبادلے سے ایک روز قبل 13 ستمبر کو ’ہندو لیگل فنڈ‘ نامی تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مغربی بنگال کے محکمہ داخلہ کے سیکریٹری کو بشریٰ بانو کے خلاف شکایت بھیجی ہے۔
تنظیم نے ایکس پر جاری بیان میں اعتراض کیا کہ بشریٰ بانو نے اپنی ویڈیو کا آغاز ’السلام علیکم‘ سے کیا، گفتگو کے دوران ’ان شاء اللہ‘ کہا اور اختتام پر ’جزاک اللہ‘ کہا، لیکن ’وندے ماترم‘ یا ’جے ہند‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں کیے۔
تنظیم کا مؤقف تھا کہ ریاست کی نمائندگی کرنے والے سرکاری افسر کو عوامی گفتگو میں غیر جانب داری برقرار رکھتے ہوئے قومی جذبات کی عکاسی کرنے والی اصطلاحات استعمال کرنی چاہئیں۔
ویڈیو میں بشریٰ بانو نے کیا کہا؟
یہ تنازع بشریٰ بانو کی اس ویڈیو کے بعد شروع ہوا جس میں وہ سول سروسز کے امتحان کی تیاری کے اپنے تجربے کے بارے میں بات کرتی ہیں۔
ویڈیو میں انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریذیڈنشل کوچنگ اکیڈمی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس ادارے نے سول سروسز امتحان کی تیاری کے دوران ان کی مدد کی تھی۔ انہوں نے دیگر امیدواروں کو بھی اکیڈمی کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔
ویڈیو کے آغاز میں انہوں نے ’السلام علیکم‘ کہا، گفتگو کے دوران ’ان شاء اللہ‘ کا لفظ استعمال کیا اور آخر میں ’جزاک اللہ‘ کہا۔ یہی الفاظ سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بن گئے۔
بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے سوال اٹھایا کہ ایک سرکاری افسر نے ’جے ہند‘ یا ’وندے ماترم‘ کے بجائے مذہبی نوعیت کے الفاظ کیوں استعمال کیے۔
اپوزیشن نے سوالات اٹھا دیے
بشریٰ بانو کے تبادلے پر اپوزیشن اور بعض مسلم سیاسی رہنماؤں نے سوالات اٹھائے ہیں۔
مغربی بنگال کے رکن اسمبلی نوشاد صدیقی نے الزام عائد کیا کہ بشریٰ بانو کو غیر مناسب طور پر ایسی تعیناتی دی گئی جو ان کی سابقہ ذمہ داری کے مقابلے میں کم اہم سمجھی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نے تقریب میں مسلمان خاتون کا نقاب کھینچ دیا، شدید تنقید کا سامنا
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے وابستہ وارث پٹھان نے بھی سوال اٹھایا کہ کیا بشریٰ بانو کو صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ مسلمان اور خاتون آئی پی ایس افسر ہیں۔
دوسری طرف بعض ناقدین نے سرکاری افسران کی جانب سے مذہبی نوعیت کے الفاظ کے استعمال کو سرکاری عہدے کی غیر جانب داری سے جوڑتے ہوئے اعتراض کیا ہے۔
وردی میں مذہبی اظہار پر بحث
اس معاملے کے بعد سوشل میڈیا پر بھارتی پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی مذہبی تقریبات میں شرکت اور وردی میں مذہبی سرگرمیوں سے متعلق پرانی ویڈیوز بھی شیئر کی جانے لگیں۔
بشریٰ بانو کون ہیں؟
بشرا بانو کا تعلق بھارتی پولیس سروس کے 2021 بیچ سے ہے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں سول سروسز کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔
وہ سول سروسز کے امتحان ایک سے زیادہ مرتبہ پاس کر چکی ہیں۔ پہلی کامیابی کے بعد انہوں نے انڈین ریلوے ٹریفک سروس میں خدمات انجام دیں، جبکہ بعد میں آئی پی ایس میں شمولیت اختیار کی۔
مغربی بنگال پولیس میں تعیناتی سے قبل وہ اتر پردیش میں بھی انتظامی ذمہ داریاں انجام دے چکی ہیں۔














