مقبوضہ جموں و کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک بار پھر جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر اب تک صرف زبانی یقین دہانیاں ہی کرائی گئی ہیں۔
بھارتی شہر امرتسر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ جموں و کشمیر میں انتخابات کے بعد ریاستی حیثیت بحال کردی جائے گی، تاہم اس حوالے سے کوئی تحریری یقین دہانی نہیں کرائی گئی اور صرف زبانی وعدے کیے گئے۔
انہوں نے لداخ کی قیادت کو بھی مشورہ دیا کہ وہ آئینی تحفظات، بالخصوص زمین اور ملازمتوں کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد میں بھارتی حکومت کی زبانی یقین دہانیوں پر انحصار نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ جموں و کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ دہلی میں احتجاج پر کیوں مجبور ہوئے؟
عمر عبداللہ امرتسر میں کورٹ روڈ پر جموں و کشمیر ہاؤس کی تزئین و آرائش کے افتتاح کے لیے موجود تھے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارتی حکومت نے ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے 3 مراحل پر مشتمل خاکہ پیش کیا تھا، جس میں حلقہ بندی، اسمبلی انتخابات اور ریاستی حیثیت کی بحالی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ یقین دہانی بھارتی پارلیمان اور سپریم کورٹ میں بھی کرائی گئی۔ جموں و کشمیر میں حلقہ بندی اور اسمبلی انتخابات بھی ہوچکے ہیں، جن میں لوگوں نے حصہ لیا، تاہم اب تک ریاستی حیثیت بحال نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ 5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اسے 2 یونین ٹیریٹریز، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کردیا تھا۔














