خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں نماز جمعہ کے دوران پرانی پولیس لائن کے قریب مسجد میں خودکش دھماکے اور اس کے بعد فائرنگ کے نتیجے میں 15 افراد جاں بحق جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوگئے، جاں بحق افراد میں 5 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی معلومات کے تحت بارود سے بھری گاڑی مسجد کی دیوار سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا۔ پولیس کے مطابق دھماکا خودکش حملہ تھا، جس کے فوراً بعد 5 مسلح حملہ آور جائے وقوعہ میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کردی۔
ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کے بعد پرانی پولیس لائن کے قریب سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اب تک 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 40 سے زائد زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: بارودی گاڑی کی تیاری کے دوران دھماکا، 8 دہشتگرد ہلاک، 3 شہری جاں بحق
ریسکیو ترجمان کے مطابق زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق آپریشن کو مؤثر بنانے کے لیے کرک اور ہنگو سے اضافی ایمبولینسز اور ریسکیو اہلکار بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 20 ایمبولینسز، ریسکیو گاڑیوں اور ریکوری وہیکل سمیت 60 سے زائد اہلکار سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ دھماکے کے بعد شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حملے میں ملوث مسلح افراد اور ان کے ممکنہ سہولت کاروں سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔













