امریکا میں تعلیم اور روزگار کے مواقع کے خواہشمند پاکستانی طلبہ اور ہنرمند افراد کے لیے بدلتی ہوئی امیگریشن پالیسیوں نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خاص طور پر ایف 1 اسٹوڈنٹ ویزا، تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے مواقع اور ورک ویزا کے راستوں سے متعلق طلبہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایچ ون بی امریکی ویزا فیس ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ کرنے کی تجویز
امریکا کی لمار یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اویس سلیم کے مطابق حالیہ برسوں میں ویزا کا عمل ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت اور طویل ہوگیا ہے تاہم امریکا میں تعلیم اور کیریئر کے مواقع اب بھی موجود ہیں۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اویس سلیم نے بتایا کہ وہ سنہ 2008 میں فل برائٹ پروگرام کے تحت امریکا گئے تھے جبکہ بعد میں ایف 1 ویزا کے ذریعے بھی تعلیم حاصل کی۔ ان کے مطابق ماضی میں فل برائٹ جیسے پروگراموں کے امیدوار ایک سخت انتخابی عمل سے گزر کر آتے تھے جس کے باعث ویزا حاصل کرنے کا مرحلہ نسبتاً آسان ہوجاتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایف ون ویزا کے لیے طلبہ کو صرف اپنی تعلیمی قابلیت ہی نہیں بلکہ مالی استطاعت، امریکا جانے کے مقصد اور ویزا شرائط پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی واضح ہونا پڑتا ہے۔
ویزا عمل میں اضافی جانچ پڑتال
ڈاکٹر اویس سلیم کے مطابق موجودہ صورتحال میں غیر ملکی طلبہ کی ویزا درخواستیں زیادہ جانچ پڑتال سے گزر رہی ہیں جس کے باعث بعض درخواست گزاروں کو طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکی ویزا اب مزید مہنگا اور سخت؟ 20 ہزار ڈالرتک بانڈ کی شرط نافذ
انہوں نے کہا کہ ماضی میں اچھی یونیورسٹیوں میں داخلہ یا اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے ویزا کا عمل نسبتاً آسان سمجھا جاتا تھا لیکن اب کئی کیسز میں اضافی مراحل شامل ہوگئے ہیں۔
غیر ملکی طلبہ کا امریکی معیشت میں کردار
ڈاکٹر اویس سلیم کا کہنا تھا کہ غیر ملکی طلبہ اور ماہرین امریکا کے تعلیمی اور صنعتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طب، کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں امریکا کو ہنرمند افراد کی ضرورت ہے کیونکہ بعض شعبوں میں مقامی افرادی قوت طلب کے مطابق دستیاب نہیں۔
ان کے مطابق غیر ملکی طلبہ صرف تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکا نہیں آتے بلکہ ان میں سے کئی افراد بعد میں تحقیق، صنعت اور مختلف شعبوں میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
تعلیم کے بعد ملازمت اور ایچ 1 بی کا راستہ
ڈاکٹر اویس سلیم نے بتایا کہ ایف 1 ویزا پر امریکا آنے والے طلبہ کے لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی تربیت کا پروگرام، او پی ٹی، ایک اہم راستہ ہے جس کے ذریعے وہ عملی تجربہ حاصل کرسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
انہوں نے کہا کہ کئی طلبہ کی کوشش ہوتی ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہیں ملازمت ملے اور وہ آگے ورک ویزا کے راستے پر جاسکیں تاہم موجودہ پالیسی ماحول میں ملازمت کے لیے اسپانسرشپ اور دیگر مراحل پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوسکتے ہیں۔
ویزا مسترد ہونے کے عوامل
ڈاکٹر اویس سلیم کے مطابق امریکی حکام عام طور پر ویزا مسترد ہونے کی مکمل وجوہات فراہم نہیں کرتے تاہم درخواست گزار کا مقصد، مالی صورتحال اور امریکا میں قیام کے ارادے جیسے عوامل اہم سمجھے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کی جانچ پڑتال بھی ویزا کے عمل کا حصہ بنی ہے اس لیے طلبہ کو اپنی آن لائن موجودگی کے حوالے سے محتاط رہنا چاہیے۔
پاکستانی طلبہ کے لیے مشورہ
ڈاکٹر اویس سلیم نے پاکستانی طلبہ کو مشورہ دیا کہ موجودہ مشکلات کے باوجود اپنی کوششیں جاری رکھیں اور خود کو صرف ایک ملک تک محدود نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے علاوہ برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپ کے دیگر ممالک میں بھی اعلیٰ تعلیم اور کیریئر کے مواقع موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ
ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات پہلی کوشش میں کامیابی نہیں ملتی، لیکن بہتر تیاری، مسلسل کوشش اور اپنی صلاحیتوں میں بہتری کے ذریعے طلبہ اپنے لیے نئے مواقع پیدا کرسکتے ہیں۔













