شہزادی ڈیانا کے بھائی ارل اسپینسر نے دعویٰ کیا ہے کہ والدہ کی موت کے بعد کم عمر شہزادہ ہیری انتہائی مشکل دور سے گزرے اور انہیں مناسب دیکھ بھال نہ ملنے کے باعث وہ ‘بے قابو’ ہوگئے تھے۔
اپنی یادداشت ‘سوان سونگ: ڈیانا، مائی سسٹر’ میں چارلس اسپینسر نے شہزادی ڈیانا کی آخری رسومات کے روز شہزادہ ولیم کے مقابلے میں شہزادہ ہیری کے لیے زیادہ تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیانا کی موت پر کنگ چارلس ’لاٹری جیتنے والے شخص‘ کی طرح خوش تھے، بھائی کا انکشاف
ارل اسپینسر نے لکھا کہ انہیں اس بات پر یقین نہیں آتا تھا کہ ہیری کتنے چھوٹے، نحیف اور غم زدہ دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے مطابق 12 سالہ ہیری کے لیے اس مشکل مرحلے سے گزرنا انتہائی تکلیف دہ تھا اور وہ سوچ رہے تھے کہ یہ دل شکستہ بچہ آنے والے دن کی اذیت کیسے برداشت کرے گا۔
انہوں نے لکھا کہ ولیم بھی یقیناً شدید غم میں تھے لیکن وہ زیادہ پُراعتماد اور سنجیدہ دکھائی دے رہے تھے، جبکہ ان کی قامت، وجاہت اور وقار انہیں اپنی والدہ کی تصویر دکھائی دے رہے تھے۔
ارل اسپینسر کے مطابق ولیم کی زیادہ پختگی اور خود پر قابو رکھنے کے باعث اس صبح ان کی توجہ کا مرکز ہیری تھے۔ انہوں نے کہا کہ آخری رسومات کے لیے ٹرین کے سفر کے دوران انہیں سب سے زیادہ تشویش ہیری کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے پر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ’31اگست میرا سب سے ناپسندیدہ دن‘ ہے، شاہ چارلس کا لیڈی ڈیانا کی 29ویں برسی پر پیغام
انہوں نے کہا کہ ہیری کو یقیناً اپنی والدہ کی آغوش اور محبت کی ضرورت تھی، جو انہیں ہمیشہ کے لیے نہیں مل سکتی تھی، لیکن سکون اور نگہداشت کے بجائے انہیں ‘بے قابو ہونے’ دیا گیا۔
شہزادی ڈیانا کے بھائی نے دعویٰ کیا کہ وہ اکثر اس بارے میں سوچتے رہے ہیں اور ان کے خیال میں ایسے مواقع پر زیادہ محبت اور توجہ ہیری کے مستقبل میں ان کے لیے بہت مددگار ثابت ہوسکتی تھی۔
ارل اسپینسر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہیری اپنے غم میں بہت تنہا دکھائی دیتے تھے، جبکہ ولیم کی بلند قامت، وجیہہ اور باوقار شخصیت کے باعث ان کے جذبات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لیڈی ڈیانا کی یاد میں شہزادہ ہیری کا نیا منصوبہ، بھائی سے تناؤ بڑھنے کا خدشہ
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ڈیانا کی آخری رسومات کے موقع پر کنگ چارلس نے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی اور اپنے دونوں بیٹوں کے درمیان چلنے کی منصوبہ بندی کی۔
شہزادی ڈیانا کی آخری رسومات 6 ستمبر 1997 کو لندن کے ویسٹ منسٹر ایبی میں ادا کی گئی تھیں، جنہیں دنیا بھر میں اندازاً 2.5 ارب ٹیلی ویژن ناظرین نے دیکھا تھا۔














