امریکا اور چین کے اعلیٰ حکام کے درمیان تجارت، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دیگر اہم امور پر مذاکرات نیویارک میں شروع ہوگئے، جن کا مقصد دونوں ممالک کے صدور کی متوقع ملاقات سے قبل ممکنہ معاہدوں کی راہ ہموار کرنا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور چینی نائب وزیر اعظم حہ لی فینگ نے اتوار کو مذاکرات کا آغاز کیا، مذاکرات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر بھی شریک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور روس نے ایران کو ہتھیار نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
مذاکرات کا اجلاس نیویارک میں جے پی مورگن چیس کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہورہا ہے اور اس کے پورا دن جاری رہنے کی توقع ہے۔
US Treasury Secretary Scott Bessent and Chinese Vice Premier He Lifeng concluded talks in New York with the US side proposing a new AI safety notification mechanism for US President Donald Trump and Chinese President Xi Jinping to consider at their summit this week…
— Reuters (@Reuters) September 21, 2026
یہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی متوقع ملاقات سے قبل ہورہے ہیں۔
فریقین کی جانب سے تجارت، ٹیکنالوجی اور دیگر تزویراتی معاملات پر جاری کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی۔
مذاکرات میں نومبر میں ختم ہونے والی عارضی تجارتی جنگ بندی میں ممکنہ توسیع اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ضابطہ کار وضع کرنے سمیت مختلف امور زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔
🇺🇸 🇨🇳 US-CHINA TRADE TALKS BEGIN AHEAD OF TRUMP-XI SUMMIT
Chinese Vice Premier He Lifeng arrives at JPMorgan Chase headquarters in New York City for talks with Treasury Secretary Scott Bessent and U.S. Trade Representative Jamieson Greer.
The meeting on trade, AI and critical…
— Bitcoin News (@BitcoinNewsCom) September 20, 2026
مذاکرات سے قبل اسکاٹ بیسنٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’مرکوز، جامع اور تعمیری مذاکرات‘ کے منتظر ہیں، جو دونوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات کے لیے بنیاد فراہم کریں گے۔
امریکی حکام نایاب زمینی دھاتوں سے تیار ہونے والے میگنیٹس اور اہم معدنیات کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے پر بھی زور دیں گے، جو امریکی صنعتوں اور مینوفیکچرنگ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔














