کیا آپ زیادہ خواب دیکھتے ہیں، تو جانیے ایسی گہری نیند کتنی بیماریوں سے بچاسکتی ہے؟

پیر 21 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اچھی نیند صرف جسم اور دماغ کو آرام دینے کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ طویل مدت میں ہماری صحت پر بھی گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ خواب دیکھنے والی نیند جسے طبی زبان میں ریپڈ آئی موومنٹ (آر ای ایم) نیند یا ’ڈریم سلیپ‘ کہا جاتا ہے زیادہ ہونے کا تعلق 83 بیماریوں کا خطرہ کم کرنے سے ہوسکتا ہے جبکہ زیادہ گہری نیند کو 7 بیماریوں کے کم خطرے سے جوڑا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیند کو ’پرفیکٹ‘ بنانے کی کوشش کہیں اسے مزید خراب نہ کردے؟

طبی جریدے ’پلاس میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں برطانیہ کے تقریباً ایک لاکھ افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔

ماضی میں ہونے والی متعدد تحقیقات میں کم نیند کو مختلف بیماریوں اور قبل از وقت موت کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا جاچکا ہے تاہم ان میں سے بہت سی تحقیقات میں لوگوں سے خود پوچھ کر معلوم کیا گیا کہ وہ کتنے گھنٹے سوتے ہیں۔

یہ طریقہ مکمل طور پر قابل اعتماد نہیں سمجھا جاتا کیونکہ انسان بعض اوقات یہ درست طور پر یاد نہیں رکھ پاتا کہ وہ کب سویا یا رات میں کتنی دیر بیدار رہا۔

اس کے علاوہ صرف نیند کے دورانیے کے بارے میں معلومات سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کسی شخص نے رات میں کتنی دیر گہری نیند، ہلکی نیند یا خواب دیکھنے والی نیند میں گزاری۔

نیند کی پیمائش کا زیادہ درست طریقہ

نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے شرکا کی کلائی پر پہننے والے ایک ایسے آلے کا استعمال کیا جو ان کی جسمانی حرکات ریکارڈ کرتا ہے۔ اس کی مدد سے محققین نے نیند کے مختلف مراحل، مجموعی نیند کے دورانیے اور نیند کے معمول میں بے قاعدگی کا زیادہ تفصیلی جائزہ لیا۔

تو آخر ہمیں نیند کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟

ہم سب سوتے ہیں اور یہ انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ صرف انسان ہی نہیں بلکہ جانوروں کی ایک بڑی تعداد بھی روزانہ کئی گھنٹے ایسی حالت میں گزارتی ہے جس میں وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے بڑی حد تک بے خبر ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: صحت اور سکون کے لگژری پروگرامز کا نیا رجحان: بہتر نیند اور کم تناؤ کے دعوے

یہ بات اس لیے بھی قابل غور ہے کہ قدرتی ماحول میں کئی جانوروں کے لیے کئی گھنٹوں تک بے خبر رہنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ اس کے باوجود نیند کا ارتقائی سفر میں برقرار رہنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ زندگی کے لیے کوئی نہ کوئی انتہائی اہم کام ضرور انجام دیتی ہے۔

سائنس دان ابھی تک اس سوال کا مکمل جواب تلاش نہیں کر سکے کہ نیند دراصل کیا کرتی ہے۔

تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ نیند کے دوران جسم اور دماغ میں کئی اہم عمل انجام پاتے ہیں جن میں یادداشت کو مضبوط کرنا، دماغ میں جمع ہونے والے فاضل مادوں کی صفائی، آنتوں میں موجود مفید جرثوموں کے نظام کی بحالی اور مدافعتی نظام کی معاونت شامل ہوسکتی ہے۔

وجہ جو بھی ہو سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ معیاری نیند طویل مدت کی صحت کے لیے انتہائی اہم ہے۔

تقریباً ایک لاکھ افراد کا جائزہ

نئی تحقیق میں برطانیہ کے 95 ہزار 559 بالغ افراد کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ ان افراد کی اوسط عمر 56.2 سال تھی۔

شرکا نے ایک ہفتے تک کلائی پر مخصوص آلہ پہنا، جس سے ان کی نیند کے معیار اور دورانیے کا اندازہ لگایا گیا۔ اس کے بعد ان کی صحت کی اوسطاً 8.9 سال تک نگرانی کی گئی یہاں تک کہ کسی بیماری کی تشخیص ہوئی یا موت واقع ہوگئی۔

محققین نے پایا کہ تحقیق کے آغاز میں خواب دیکھنے والی نیند یعنی آر ای ایم نیند کا زیادہ ہونا 80 سے زائد بیماریوں کے کم خطرے سے منسلک تھا۔

ان میں دل کا فیل ہونا، ہائی بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن کی بے قاعدگی، دل کی شریانوں کی بیماری، پارکنسنزم، ایک سے زیادہ عصبی بیماری اور مختلف اقسام کی یادداشت و ذہنی صلاحیت متاثر کرنے والی بیماریاں شامل تھیں۔

مزید پڑھیں: زیادہ اور کم نیند دونوں خطرناک، ماہرین نے بہترین دورانیہ بتادیا

دوسری جانب گہری نیند کا زیادہ ہونا 7 بیماریوں کے کم خطرے سے منسلک تھا، جن میں ٹائپ 2 ذیابیطس، شدید ڈپریشن، نیند کے دوران سانس رکنے کی بیماری اور پارکنسنز کی بیماری شامل ہیں۔

کیا خراب نیند بیماری کا سبب بنتی ہے؟

محققین نے اس بات کی اہم وضاحت بھی کی ہے کہ ان نتائج سے لازماً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نیند میں تبدیلی ہی بیماری کا سبب بنتی ہے۔

اسے سائنسی زبان میں ’الٹی وجہ‘ یا ریورس کازیشن کہا جاتا ہے۔

مثلاً ڈپریشن میں نیند متاثر ہونا ایک عام علامت ہے۔ اس لیے یہ بھی ممکن ہے کہ کسی شخص میں ڈپریشن کی وجہ سے نیند خراب ہوئی ہو نہ کہ خراب نیند نے ڈپریشن پیدا کیا ہو۔

اس لیے تحقیق میں سامنے آنے والے تعلقات کو وجہ اور نتیجے کے طور پر سمجھنے کے بجائے احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

ہلکی نیند اور رات میں جاگنے کا تعلق

تحقیق میں ہلکی نیند کا بھی جائزہ لیا گیا۔ زیادہ وقت ہلکی نیند میں گزارنا جو بعض اوقات نسبتاً کم معیاری نیند کی علامت ہوسکتا ہے کچھ بیماریوں کے زیادہ خطرے سے منسلک تھا جن میں شدید ڈپریشن بھی شامل ہے۔

تاہم دلچسپ طور پر ہلکی نیند کا زیادہ ہونا بعض دوسری بیماریوں مثلاً دل کے فیل ہونے اور جلد کے ایک بیکٹیریائی انفیکشن کے کم خطرے سے بھی منسلک پایا گیا۔

محققین نے نیند آنے کے بعد بیدار رہنے کے دورانیے کا بھی جائزہ لیا۔ اس سے مراد وہ مجموعی وقت ہے جو کوئی شخص ابتدائی طور پر سو جانے کے بعد رات میں جاگتے ہوئے گزارتا ہے۔

اس دورانیے کے زیادہ ہونے کو 6 بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا جن میں نفسیاتی اثر رکھنے والے نشہ آور مادوں پر انحصار، شراب کے غلط استعمال اور جوڑوں کے گھسنے کی بیماری شامل تھی۔

یہ بھی پڑھیے: والدین آج کل پہلے سے زیادہ تھکن اور نیند کی کمی کیوں محسوس کرتے ہیں؟

اسی طرح نیند کے معمول میں بے قاعدگی کا تعلق پیٹ میں درد، بے چینی اور شدید ڈپریشن کے زیادہ خطرے سے بھی پایا گیا۔

زیادہ دیر سونے کا کیا فائدہ ہوا؟

تحقیق میں مجموعی طور پر زیادہ دیر سونے کا تعلق 50 سے زائد بیماریوں کے کم خطرے سے سامنے آیا۔

ان میں جسم کو درکار توانائی اور غذائی اجزا کی شدید کمی، جسم میں تیزابیت بڑھنے کی ایک کیفیت اور ٹائپ 2 ذیابیطس شامل تھیں۔ (مراد یہ کہ ان بیماریوں کا خطرہ کم درپیش ہوسکتا ہے۔)

مجموعی نتائج کی بنیاد پر محققین نے 6 سے 8 گھنٹے کی نیند کو صحت کے لیے زیادہ موزوں قرار دیا جو عام طور پر بتائے جانے والے 7 سے 9 گھنٹے کے دورانیے سے کچھ مختلف ہے۔

تاہم اس تحقیق کا مقصد یہ ثابت کرنا نہیں کہ ہر شخص کے لیے نیند کا ایک ہی دورانیہ مثالی ہے، کیونکہ عمر، صحت اور دیگر عوامل بھی نیند کی ضروریات کو متاثر کرتے ہیں۔

بہتر نیند کے لیے ماہرین کے مشورے

ان نتائج کے بعد ان افراد کے لیے یہ سوال اہم ہوسکتا ہے جو پہلے ہی نیند کے مسائل کا شکار ہیں۔ ماہرین نے بہتر نیند کے لیے چند عملی مشورے دیے ہیں۔

خاندانی طب کے ماہر ڈاکٹر اسکاٹ ناس جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے نے سب سے پہلے روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر بیدار ہونے کا مشورہ دیا۔

ان کے مطابق مستقل وقت پر اٹھنے سے دماغ کو جاگنے اور سونے کا ایک باقاعدہ معمول بنانے میں مدد ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ معمول ہفتے کے اختتام پر بھی برقرار رکھنا چاہیے۔

رات کو خراب نیند کے بعد صبح کئی گھنٹے زیادہ سو لینا وقتی طور پر اچھا محسوس ہوسکتا ہے لیکن اس سے نیند کا معمول مزید آگے منتقل ہوسکتا ہے اور اگلی رات وقت پر نیند آنے میں مشکل پیدا ہوسکتی ہے۔

انہوں نے صبح بیدار ہونے کے کچھ ہی دیر بعد قدرتی روشنی میں وقت گزارنے کو بھی نیند کے معمول کو مستحکم کرنے میں مددگار قرار دیا۔

بستر پر لیٹے لیٹے نیند سے لڑنے کے بجائے وقفہ لیں

ڈاکٹر ناس کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص بستر پر لیٹا ہو اور کافی دیر تک نیند نہ آرہی ہو یا وہ نیند کے بارے میں پریشان ہو رہا ہو تو اسے بستر پر ہی پڑے رہنے کے بجائے کچھ دیر کے لیے اٹھ جانا چاہیے۔

ان کے مطابق بار بار بیداری اور بے چینی کی حالت میں بستر پر پڑے رہنے سے دماغ بستر کو آرام کے بجائے بے چینی اور چوکنا رہنے کے احساس سے جوڑ سکتا ہے۔

ایسی صورت میں 15 سے 20 منٹ کے لیے بستر سے اٹھ کر کسی پرسکون اور مدھم روشنی والے کمرے میں چلے جائیں اور کوئی پُرسکون سرگرمی کریں۔ جب دوبارہ نیند محسوس ہونے لگے تو بستر پر واپس جائیں۔

سونے کا کمرہ کیسا ہونا چاہیے؟

نیند کی ماہر اور اعصابی سائنس دان ڈاکٹر چیلسیا روہرشیب نے سونے کے کمرے کو پُرسکون، تاریک اور نسبتاً ٹھنڈا رکھنے کا مشورہ دیا۔

ان کے مطابق جسم کا اندرونی درجہ حرارت نیند شروع کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے کم ہونا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: کیمپنگ بہتر نیند اور دیرپا مثبت اثرات کے لیے سودمند، چلیں آزماتے ہیں

کمرے میں روشنی کم کرنے کے لیے موٹے پردے یا آنکھوں پر لگانے والا ماسک استعمال کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے سونے سے پہلے کم از کم 30 سے 60 منٹ کا پرسکون معمول اپنانے کی بھی تجویز دی تاکہ دماغ اور جسم آرام کی حالت میں داخل ہوسکیں۔

اس دوران ہلکی کتاب پڑھنا، پرسکون موسیقی سننا، نیم گرم پانی سے غسل کرنا، مراقبہ یا گہری سانس لینے کی مشقیں مددگار ہوسکتی ہیں۔

اس کے برعکس سونے سے پہلے ایسی سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے جو دماغ کو متحرک رکھیں مثلاً مسلسل ویڈیوز یا دیگر ذرائع ابلاغ دیکھنا اور موبائل فون کا استعمال۔

ماہر نے مزید مشورہ دیا کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے برقی اسکرینوں سے دور رہیں۔ سہ پہر 3 بجے کے بعد کیفین لینے سے گریز کریں۔ سونے سے 2 گھنٹے سے کم وقت پہلے بھاری کھانا نہ کھائیں۔ روزانہ کم از کم 30 منٹ ایسی جسمانی سرگرمی کریں جس سے دل کی دھڑکن تیز ہو۔

ماہر کے مطابق ورزش جسم میں موجود اضافی کورٹیسول کو استعمال کرنے میں مدد دے سکتی ہے جبکہ کورٹیسول ایسا ہارمون ہے جو انسان کو بیدار رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے اور اس کی زیادتی نیند کے معیار کو متاثر کرسکتی ہے۔

مزید پڑھیے: کیا اسمارٹ فون کی نیلی روشنی واقعی آپ کی نیند خراب کرتی ہے؟

نئی تحقیق مجموعی طور پر اس بات کی مزید وضاحت کرتی ہے کہ صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ ہم کتنے گھنٹے سوتے ہیں بلکہ نیند کا معیار، اس کے مختلف مراحل اور اس کا باقاعدہ ہونا بھی صحت کے لیے اہم ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایمرجنسی کن حالات میں لگائی جا سکتی ہے؟

جماعت اسلامی کا اسلام آباد لانگ مارچ مؤخر، وزیراعظم سے ملاقات تک ملتان میں قیام کا اعلان

اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 212 افراد زیر حراست

خیبر پختونخوا میں طرز حکمرانی اور سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال، وفاقی مداخلت ناگزیر قرار

’وی نیوز‘ پشاور بیورو کا افتتاح: پی ٹی آئی کا اسلام آباد آنے کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

ویڈیو

’بڑا ہوکر اپنے والد کی طرح پولیس افسر بنوں گا‘، شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے ایمل کا عزم

تحریک انصاف کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، عمران خان مذاکرات کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان

27 ستمبر احتجاج: پی ٹی آئی کے مکمل خاتمے کا پلان؟ محسن نقوی نے وارننگ دیدی

کالم / تجزیہ

سید مودودیؒ آج بھی کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟

اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے

سومنات: جب تاریخ سیاسی نعرہ بن جائے