وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ بابر یوسف زئی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی سیاسی جماعتیں اور عوام نئے صوبوں کے قیام پر متفق ہیں اور امید ہے کہ اس عمل کا آغاز وہیں سے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے بنانے سے پہلے سیاسی و انتظامی معاملات اور منصفانہ تقسیم پر بات ہونی چاہیے، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بھی نئے صوبے اور نئے انتظامی یونٹس وقت کی اہم ضرورت ہیں کیونکہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا 44 فیصد حصہ رکھنے والے صوبے کے دور دراز علاقوں کے مسائل صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بیٹھ کر حل نہیں کیے جاسکتے۔
بابر یوسفزئی نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ اور چیف سیکریٹری کوئٹہ میں بیٹھیں تو وہاں سے 800 کلومیٹر دور تربت اور خضدار، لسبیلہ، ڈیرہ بگٹی، موسیٰ خیل اور ژوب کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں کے مسائل اور ضروریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں اس لیے انتظامی سطح پر بھی ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن سے عوام کو ان کی دہلیز کے قریب سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
بلوچستان میں دہشتگردوں کا ایک انچ پر بھی کنٹرول نہیں
وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ بلوچستان کے کسی بڑے رقبے یا علاقے پر دہشتگردوں کا قبضہ ہے، ریاست اور حکومت کا بلوچستان کے کونے کونے میں کنٹرول ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مکمل طور پر امن ہونے کا دعویٰ بھی درست نہیں ہوگا تاہم یہ کہنا بھی زیادتی ہے کہ صوبے کا بڑا حصہ دہشتگردوں کے قبضے میں ہے۔
ان کے مطابق دہشتگرد سڑکوں پر آتے ہیں، گرے ایریاز میں عوام کے درمیان پہنچ کر کارروائیاں کرتے ہیں، ان کی ویڈیوز بناتے ہیں اور پھر فرار ہوجاتے ہیں۔
بھارتی پراکسیز اور افغانستان سے سہولت کاری
بابر یوسف زئی نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کو بھارت کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے جبکہ افغانستان بھی انہیں سہولت فراہم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردوں کے ہائیڈ آؤٹس اور پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد اپنی کارروائیوں کی ویڈیوز بناتے ہیں اور انہیں بین الاقوامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے وائرل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ ان اکاؤنٹس کے پیچھے مختلف ممالک کے عناصر موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ایکس کی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کے بعد بلوچوں کے نام سے چلنے والے متعدد اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا تو ان میں سے کئی یورپ، افغانستان یا خلیجی ممالک سے کنٹرول ہوتے پائے گئے۔
بھارت نے بلوچستان کے لیے ’بولی وڈ اسکرپٹ‘ اپنایا
بابر یوسف زئی نے الزام عائد کیا کہ بھارت نے بلوچستان کے معاملے پر بھی’بولی وڈ والا اسکرپٹ‘ اپنایا ہوا ہے لیکن دہشتگردوں کا بلوچستان کے کسی ایک انچ پر بھی کنٹرول نہیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ گزشتہ سال مئی کے بعد بھارت نے بلوچستان میں اپنی پراکسیز کو دوبارہ فعال کیا جبکہ بی ایل اے اور بی ایل ایف سمیت دیگر گروہوں کو بھارتی حمایت حاصل ہے۔
بابر یوسف زئی نے دعویٰ کیا کہ بی ایل اے کی قیادت سے وابستہ افراد کو بھارت سے مدد ملتی رہی ہے اور بعض افراد نے بھارت میں علاج بھی کرایا۔
مزید پڑھیے: نئے صوبے، نئے مسائل یا حل؟ مہمند کے عوام کیا کہتے ہیں؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی ایل اے کے رہنما اللہ نذر ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد دہلی گئے جہاں انہوں نے اسپتال میں علاج کرایا جبکہ ان کے مطابق اس حوالے سے فوٹیج اور دیگر شواہد بھی موجود ہیں اور ان کے افغان پاسپورٹ پر دہلی کا ویزا لگا ہوا تھا۔
نوجوانوں کو دہشتگرد تنظیمیں سوشل میڈیا کے ذریعے متاثر کرتی ہیں
بابر یوسف زئی نے کہا کہ بعض نوجوان دہشتگرد تنظیموں کے بیانیے اور ورغلانے کی وجہ سے ان کی طرف راغب ہوجاتے ہیں جبکہ دہشتگرد تنظیمیں اپنے ارکان کو ہیرو بنا کر پیش کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو بھارت سے فنڈنگ بھی ملتی ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کا ایسا تاثر پیش کیا جاتا ہے جس سے نوجوان متاثر ہوتے ہیں۔
خواتین کو سوشل میڈیا کے ذریعے ’ٹریپ‘ کرنے کا دعویٰ
بابر یوسف زئی نے کہا کہ خواتین کے حوالے سے ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جن میں انہیں سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے ٹریپ کیا جاتا ہے، کیمپوں میں بلایا جاتا ہے، ہراساں کیا جاتا ہے، ان کی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں اور بعد میں انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق بلوچ معاشرے میں کسی خاتون کے گھر سے نکلنے کے بعد اس کے لیے واپس آنا مشکل ہوجاتا ہے، دہشتگرد اسی نفسیاتی صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
خواتین کو دہشتگردی کے لیے استعمال کرنے کے بعد فیملی گاڑیوں کی چیکنگ شروع ہوئی
بابر یوسف زئی نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ بلوچستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر خواتین کی موجودگی والی گاڑیوں کو معمول کے مطابق روکا اور چیک کیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق بلوچستان ایک قبائلی صوبہ ہے جہاں اپنی روایات ہیں اور سیکیورٹی فورسز، ایف سی، فوج اور بلوچستان پولیس عام طور پر اس گاڑی کو نہیں روکتیں جس میں خاندان موجود ہو۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے اسی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خواتین کو استعمال کرنا شروع کیا۔ ان کے بقول بعض خواتین کو گاڑی چلانے کی تربیت دی گئی تاکہ گاڑی میں بارودی مواد یا آئی ای ڈی رکھ کر اسے دھماکے کے لیے استعمال کیا جاسکے اور تلاشی نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی آسان ہو۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 3 روز قبل صفیہ بلوچ نامی ایک خاتون جو نرسنگ اسکول کی طالبہ رہ چکی ہیں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہیں کس طرح سوشل میڈیا کے ذریعے ٹریپ، ورغلایا اور بلیک میل کیا گیا اور گاڑی چلانے کی تربیت دی گئی۔
مزید پڑھیں: پیپلزپارٹی نے 18 سالوں میں سندھ تباہ کردیا، نئے صوبے ناگزیر ہوچکے ہیں، فوزیہ حمید
بابر یوسف زئی نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اب بعض چیک پوسٹوں پر خواتین کو بھی چیک کیا جارہا ہے کیونکہ خواتین کے ذریعے خودکش حملوں اور گاڑیوں میں آئی ای ڈیز کے استعمال کی شکایات سامنے آئی تھیں۔
مسنگ پرسنز کا معاملہ سیاسی نعرہ ہے، حکومت بلوچستان کا مؤقف
بابر یوسف زئی نے بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملے کو سیاسی نعرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے دوران اختر مینگل اور ان کی جماعت کے سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے مسنگ پرسنز کا معاملہ اٹھایا اور حکومت نے اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کا اجلاس بلایا جس میں کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ان کے مطابق اختر مینگل اور ان کی جماعت نے 5 ہزار افراد کی فہرست فراہم کی لیکن کمیشن کی جانب سے تصدیق کے دوران اس فہرست میں شامل افراد کے ناموں کے ساتھ والدیت، موبائل نمبرز، شناختی کارڈ نمبرز اور پتے بھی موجود نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں اور عدالتی کمیشن نے مختلف علاقوں میں جاکر فہرست میں شامل افراد کے بارے میں معلومات حاصل کیں لیکن کئی ناموں کے افراد متعلقہ دیہات یا علاقوں میں موجود ہی نہیں تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بھی بعض افراد کو مسنگ پرسنز کے طور پر پیش کیا گیا جو بعد میں دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔
انہوں نے کوئٹہ میں ٹرین پر حملے کے حوالے سے بلال شاہوانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے بھی مسنگ پرسن قرار دیا گیا تھا تاہم بعد میں اس کے بارے میں دہشتگرد کارروائی میں ملوث ہونے کا دعویٰ سامنے آیا۔
ماہرنگ بلوچ معصوم شہریوں کے قتل پر بات نہیں کرتیں
بابر یوسف زئی نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے انسانی حقوق کے حوالے سے مؤقف پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ دہشتگردوں کے معاملات اٹھاتی ہیں لیکن بلوچستان میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے دیگر افراد کے بارے میں بات نہیں کرتیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی ایل اے نے بلوچستان سے 7 پنجابی شہریوں کو لاپتا کیا ہے جو پکنک منانے شاوان کے علاقے میں گئے تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ شناختی کارڈ، قومیت یا لسانی بنیادوں پر مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کرنے، معصوم مزدوروں، اساتذہ اور دیگر شہریوں کے قتل کے واقعات پر بھی ماہ رنگ بلوچ نے بات نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیے: آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے بننے چاہییں، سندھ میں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایم کیو ایم
بابر یوسف زئی نے الزام عائد کیا کہ ماہ رنگ بلوچ، بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے نوجوانوں کے لیے ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس کے نتیجے میں نوجوان بی ایل اے کے کیمپوں تک پہنچے۔
ان کے مطابق سوشل میڈیا ریلز اور مسنگ پرسنز کے احتجاج کے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کیا گیا اور انہیں دہشتگرد تنظیموں کے کیمپوں میں جانے کی دعوت دی گئی۔
‘بلوچستان پاکستان سے پیار کرتا ہے، پاکستان بلوچستان سے‘
بابر یوسف زئی نے بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے لیفٹیننٹ جہانگیر مری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’فتنتہ الخوارج‘ اور ’فتنتہ الہندوستان‘ کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور آخری سانس تک دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔
ان کے مطابق جہانگیر مری نے میدان جنگ میں تقریباً 15 سے 16 دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور آخری گولی تک لڑتے ہوئے متعدد دہشتگردوں کو ہلاک کیا جس کے اعتراف میں بلوچستان کے مختلف شہروں کی سڑکوں کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا۔
انہوں نے سراج رئیسانی کے دہشتگردوں کا نشانہ بننے کی بھی بات کی۔
مزید پڑھیں: نئے صوبے گورننس بہتر بنانے کے لیے ضروری، لسانی نہیں انتظامی بنیاد پر بننے چاہییں: بیرسٹر عقیل
انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان سے محبت کرتا ہے، بلوچستان پاکستان ہے اور پاکستان بلوچستان ہے جبکہ ان کے بقول دشمن اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ بلوچستان کو کمزور کرسکتا ہے تو وہ شدید غلط فہمی میں متبلا ہے۔













