حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن، مکہ معاہدہ امن کے لیے ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں تاریخی خطاب

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا کو دوبارہ جنگ کے دہانے پر پہنچنے سے روکنا ہوگا، خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔

جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے اپنا چوتھا خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے 240 ملین پرامن پاکستانی عوام کی نمائندگی کو اپنے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کی ابتدا قرآن کریم کی آیات کے ساتھ کی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی متحرک قیادت اور عالمی امن کے لیے ان کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

کشمیر اور خطے کی سیکیورٹی

کشمیر کے دیرینہ تنازع پر دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے وزیراعظم نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ کشمیری عوام گزشتہ 8 دہائیوں سے اقوام متحدہ کے وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی قسمت صرف نوجوان ہی بدل سکتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی قبضے، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزاؤں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ بھارتی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ حقِ دفاع کے تحت بھارت کو بھرپور جواب دیا ہے۔

مئی میں پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے جھوٹے الزامات پر پاکستان پر حملہ کیا، پاک فوج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دلیرانہ قیادت میں بھارتی حملے کو پسپا کر کے دشمن کو وہ ناقابلِ فراموش سبق سکھایا ہے جسے وہ یاد رکھے گا۔

اس موقع پر وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت ایک ایسا اقدام تھا جس سے جنوبی ایشیا میں کروڑوں جانیں بچ گئیں۔

تاریخی سفارتی کامیابیاں

عالمی سطح پر پاکستان کی بھرپور سفارتکاری اور امن کوششوں کا پس منظر بیان کرتے ہوئے شہباز شریف نےکہا  کہ پاکستان نے تنازعات کے خاتمے کے لیے تاریخی اور بے مثال اقدامات کیے ہیں، جن کے تحت واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لایا گیا۔

وزیراعظم نے اس غیر معمولی سفارتی کامیابی اور کوششوں پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور اسحاق ڈار کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی فورم پر پاکستان کی زیرِ صدارت تنازعات کے پرامن حل کی قرارداد کا متفقہ طور پر منظور ہونا ایک زبردست سفارتی فتح ہے۔

سفارتی اور دفاعی محاذ پر ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

حرمین شریفین کا تقدس اور مکہ معاہدہ

مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور اسلامی ممالک کے کردار پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین پر حملہ تمام ممالک کے لیے ریڈ لائن ہونی چاہیے۔

مزید پڑھیں:مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، آپریشنل تفصیلات عوامی سطح پر شیئر نہیں ہوتیں: ترجمان پاک فوج

علاقائی دفاع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دنیا پر واضح کیا کہ 3 ممالک سعودی عربیہ، پاکستان اور ترکیہ کےدرمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا یہ مضبوط اتحاد محض خطے کے دفاع، استحکام اور قیامِ امن کے مقاصد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

 وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاؤشوں میں سے ایک ہے۔

پاکستان بانیِ پاکستان قائد اعظم کے فرمان اور وژن کے عین مطابق اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کرتے ہوئے عالمی امن اور خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار اور مکمل تعاون جاری رکھے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے پانی میں رکاوٹ یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو کھلی جنگ تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی فوری بند ہونی چاہیے اور عالمی برادری کو تنازعات کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا ہوگا۔

پانی کا دفاع اور مسئلہ کشمیر

وزیراعظم نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بھارتی فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ پانی کو کسی صورت ہتھیار نہیں بنانا چاہیے کیونکہ دریا قوموں کو سیراب کرنے کے لیے ہوتے ہیں، انہیں تقسیم کرنے کے لیے نہیں۔

کشمیر کے دیرینہ مسئلے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ پاکستان کشمیری عوام کو ان کا حق خودارادیت ملنے تک اپنی غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

دہشتگردی، افغان سرزمین اور پاکستان کی قربانیاں

وزیراعظم نے خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین ٹی ٹی پی ’فتنہ الخوارج‘ اور بی ایل اے ’فتنہ الہندوستان‘ کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

افغانستان سے ہونے والے تمام حملے اور دراندازیاں فوری طور پر بند ہونی چاہییں۔

انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کریں اور افغان عوام بالخصوص خواتین اور بچیوں کے بنیادی حقوق کا ہر حال میں احترام کریں۔

یہ بھی پڑھیں:مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خودمختاری، علاقائی سالمیت اور اجتماعی سلامتی کے عزم کا اظہار ہے، وزیراعظم شہباز شریف

دہشتگردی کو عالمی امن اور سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 100000 جانوں کی عظیم قربانیاں دی ہیں اور اس عالمی جنگ میں ملک کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا بھاری معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

فلسطین پر مظالم اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی

مشرق وسطیٰ کے حالات اور مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اس واقعے نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔

غزہ کی صورتحال پر دلخراش حقائق بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینی خواتین، بچوں اور بزرگوں کو نسلوں سے ظلم کا سامنا ہے۔

انہوں نے ہند رجب اور 8 سالہ وفا عقیلہ کے سانحات کا ذکر کیا جنہیں بے دردی سے نشانہ بنایا گیا اور کہا کہ وفا عقیلہ کی اسکول کا پہلا دن ہی اس کی زندگی کا آخری دن بن جانا عالمی ضمیر کی خاموشی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اسرائیل کے واضح نسل کشی ایجنڈے کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کی لبنان اور شام کے خلاف جارحیت بھی فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔

عالمی امن، سلامتی کونسل میں اصلاحات 

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کونسل کی اصلاحات سب کے لیے ہونی چاہئیں اور یہ کسی مخصوص ملک کے لیے مراعات پر مبنی نہ ہوں۔

سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری اور جوابدہ بنانا ہوگا تاکہ یہ رکن ممالک کی اکثریت کے مفادات اور خواہشات کی حقیقی عکاس بن سکے۔

مزید پڑھیں:پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ  کا ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ بڑا، جرات مندانہ اور پہلا اہم قدم ہے: ٹرمپ

اپنی تقریر کے اختتام پر وزیراعظم نے امن کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جنگ ایک انتخاب ہے، لیکن امن اس سے کہیں بہتر انتخاب ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ جبر کے بجائے تعاون اور تصادم کے بجائے مذاکرات اور امن کا راستہ چنا ہے، کیونکہ امن کے تحفظ کے لیے جنگ روکنا زیادہ بہادری کا تقاضا کرتا ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81 واں اجلاس امن کے لیے متفقہ انتخاب کرے گا اور اس تقسیم شدہ دنیا میں انسانیت کو متحد کرنے کا سبب بنے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp